احتجاج نہیں، انتخاب: تبدیلی کا مہذب راستہ

شئر کریں

ڈاکٹر عتیق الرحمن

آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی

مہذب لوگ اپنے مطالبات کے لیے مہذب طریقہ اختیار کرتے ہیں، اور احتجاج یا کسی بھی شدت پسند طریقہ کار کی ضرورت تب پیدا ہوتی ہے جب مہذب ذرائع سے مطالبات کی منظوری کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ آزاد کشمیر میں جاری حالیہ بحران کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے پاس کیا واقعی کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا؟ کیا واقعی تمام آئینی، انتخابی اور پارلیمانی دروازے بند تھے کہ سڑکوں پر آنا اور پورے خطے کو محاصرے میں لینا ہی واحد آپشن رہ گیا تھا؟ جب اس سوال پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو جواب نفی میں نکلتا ہے۔

ایکشن کمیٹی کا بنیادی مطالبہ کئی لحاظ سے بجا ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے تیس لاکھ ووٹرز کے لیے تینتیس نشستیں مخصوص ہیں تو پاکستان میں مقیم محض دو لاکھ ووٹرز کے لیے بارہ نشستوں کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ ایک منطقی اور قابلِ سماعت سوال ہے، اور کوئی بھی غیر جانبدار مبصر اس عدم تناسب کو دیکھ کر اصلاح کی ضرورت تسلیم کرے گا۔ مسئلہ مطالبے میں نہیں، اس کے حصول کے طریقے میں ہے۔ مہذب طریقہ یہی تھا کہ ایکشن کمیٹی اپنی سابقہ کارکردگی اور عوامی حمایت کی بنیاد پر انتخاب میں جاتی، عوامی مینڈیٹ حاصل کرتی، اور پھر اسمبلی کے فلور سے قانون اور آئین میں تبدیلی لا کر اپنا مطالبہ پورا کرواتی۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے کسی بھی مطالبے کو پائیدار، قانونی اور غیر متنازع تحفظ حاصل ہوتا ہے، کیونکہ ووٹ کے ذریعے حاصل کی گئی تبدیلی کو کوئی بھی آئندہ حکومت یکطرفہ طور پر واپس نہیں لے سکتی، جبکہ دباؤ کے تحت دی گئی رعایت کسی بھی وقت پلٹائی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس احتجاج کا راستہ چنا گیا، اور چالیس لاکھ افراد کو ایک ایسے محاصرے میں دھکیل دیا گیا جس کا اختتام کہیں نظر نہیں آتا۔

اکثر قارئین کا اعتراض یہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں الیکشن کے نام پر مذاق ہوتا ہے، تو ایسے میں اسمبلی کے ذریعے جانے کا کیا فائدہ؟ بات وزن رکھتی ہے، مگر غور کیجیے: بالفرض بارہ مہاجر نشستیں مکمل ختم بھی کر دی جائیں تو کیا باقی اکتالیس نشستوں پر انتخابی عمل خود بخود درست ہو جائے گا؟ کیا اسٹیبلشمنٹ انہی اکتالیس نشستوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ برقرار نہیں رکھ سکے گی؟ اگر اصل مسئلہ انتخابی عمل کی شفافیت ہے تو ایکشن کمیٹی کا مطالبہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ غیر جانبدار نگران ادارے، آزاد الیکشن کمیشن، اور بین الاقوامی یا غیر جانبدار مشاہدین کی موجودگی میں انتخابات کرائے جائیں۔ ایسے مطالبے پر پورے ملک کی حمایت حاصل ہوتی، کیونکہ یہ کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جو منصفانہ نمائندگی چاہتا ہے۔ ایک مطالبے کو بنیاد بنا کر، جبکہ اصل خرابی کسی اور جگہ ہے، ضد پر اڑ جانا ایک ناقابلِ فہم حکمت عملی ہے، اور اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ تحریک کی سمت توانائی کے درست استعمال سے زیادہ جذباتی اشتعال پر مرکوز ہو گئی ہے۔

مطالبہ زیادہ معقول انداز میں بھی پیش کیا جا سکتا تھا، مثلاً مہاجرین کو ان کے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں دی جائیں، نہ زیادہ نہ کم۔ ایسا تدریجی اور متناسب مطالبہ نہ صرف انصاف پر مبنی ہوتا بلکہ مذاکراتی میز پر بھی آسانی سے قابلِ قبول ہوتا۔ اطلاعات کے مطابق حکومتی کمیٹیاں مہاجر نشستیں چھ تک محدود کرنے پر رضامند ہو چکی تھیں، مگر ایکشن کمیٹی مکمل خاتمے کے مطالبے پر اڑی رہی۔ اگر یہ درست ہے تو یہ انتہا پسندانہ رویے کی ایک اور دلیل ہے۔ چھ نشستوں کے خاتمے کے ساتھ ایکشن کمیٹی کے پاس واضح کامیابیوں کی ایک فہرست ہوتی، جس کی بنیاد پر وہ انتخاب میں بہتر پوزیشن حاصل کر سکتی تھی اور اسمبلی کے اندر سے باقی ماندہ مطالبات کے لیے مزید پیش رفت کر سکتی تھی۔ سیاسی جدوجہد میں اکثر فیصلہ کن کامیابی ایک ہی قدم میں نہیں بلکہ تدریجی پیش قدمی سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس راستہ اپنا کر سب کچھ یکمشت منوانے کی کوشش نے پورے عمل کو غیر یقینی بنا دیا، اور وہ موقع جو مذاکرات کی میز پر دستیاب تھا، ضائع ہو گیا۔

اس ضد کی قیمت عام آدمی چکا رہا ہے۔ وہ مزدور جو دن بھر دیہاڑی لگا کر رات کو بچوں کے لیے چولہا جلاتا ہے، بارہ دن سے بے روزگار ہے۔ وہ ریسٹ ہاؤس مالک جس نے کروڑوں کی سرمایہ کاری کر کے سال کا واحد کمائی کا موسم سامنے رکھا تھا، اس کا جون جولائی اس احتجاج کی نذر ہو گیا۔ وہ طلبہ جن کے امتحانات اور داخلے تعطل کا شکار ہیں، وہ مریض جو سڑکوں کی بندش کے باعث بروقت ہسپتال نہیں پہنچ پا رہے، وہ تاجر جن کا سامان راستوں میں پھنسا ہوا ہے، یہ سب اس محاصرے کے غیر مرئی متاثرین ہیں جن کا ذکر شاید نعروں میں نہیں ہوتا مگر زمینی حقیقت میں وہی سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔ کوئی رہنما اگر قربانی دینا چاہتا ہے تو اپنی دے، مگر قرض لے کر کاروبار کھڑا کرنے والے عام شہری کی قربانی دینے کا اختیار اسے کس نے دیا؟

جب کہا جاتا ہے کہ عوام ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے تو جواب سیدھا ہے: اسی دعوے کو انتخابی عمل کے ذریعے ثابت کیا جائے۔ راولاکوٹ کے عوام نے اپنی حمایت کا اظہار کر بھی دیا ہے، یہی جذبہ بیلٹ باکس تک لے جایا جائے۔ اگر واقعی عوامی طاقت موجود ہے تو انتخاب میں جانے سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ سڑکوں کی طاقت کو ووٹ کی طاقت میں تبدیل کر کے ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ پارلیمنٹ کے اندر ایک واحد مؤثر آواز بھی بڑا کام دکھا سکتی ہے، جیسے سینیٹ میں جماعتِ اسلامی کا اکیلا سینیٹر اپنی الگ شناخت رکھتا ہے اور بحث و مباحثے میں اپنا وزن ثابت کرتا ہے۔ ایکشن کمیٹی کی آواز بھی اسمبلی کے اندر اتنی ہی بامعنی ہو سکتی تھی، بلکہ اگر یہ تحریک واقعی اتنی مقبول ہے جتنا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اسمبلی میں اس کی نمائندگی شاید کسی ایک نشست تک محدود نہ رہتی، بلکہ متعدد حلقوں سے کامیابی حاصل کر کے حکومت سازی کی پوزیشن میں آ سکتی تھی۔ مگر موب پالیٹکس کو ترجیح دے کر اس امکان کو ضائع کر دیا گیا۔

سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر کل ایکشن کمیٹی خود اقتدار میں آ جائے اور کوئی دوسرا گروہ اسی طرح سڑکوں پر آ کر مطالبات منوانے کی کوشش کرے تو کیا انہیں قبول کیا جائے گا؟ جواب شاید نفی میں ہو، اور یہی تضاد موب پالیٹکس کی بنیادی خرابی ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے جس کا نقصان طویل مدت میں ریاستی اداروں اور قانون کی بالادستی کو پہنچتا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ یا تو ایکشن کمیٹی خود مہذب طریقہ کار پر یقین نہیں رکھتی، یا وہ آزاد کشمیر کے عوام کو اتنا باشعور نہیں سمجھتی کہ وہ انتخاب میں درست فیصلہ کر سکیں، اسی لیے احتجاج کا راستہ اپنایا گیا۔

اس کے ساتھ حکومتی ردعمل بھی کسی طور قابلِ ستائش نہیں۔ عوامی مشکلات سے بے نیاز ہو کر کیے گئے سخت اقدامات نے زندگی مزید دشوار بنا دی ہے۔ محاصرے کی موجودہ صورتحال طویل ہوئی تو خوراک کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے، جو غریب طبقے پر ایک اور بوجھ ہوگا۔ ایسی صورتحال میں حکومت کی ذمہ داری یہ تھی کہ سختی کے بجائے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھتی، کیونکہ طاقت کا استعمال عارضی طور پر حالات کو دبا سکتا ہے، مگر بنیادی شکایات کا ازالہ نہیں کرتا۔ جب دونوں فریق سختی کی روش پر چلتے ہیں تو نقصان صرف عام شہری کا ہوتا ہے جو نہ تو حکومت کی پالیسی سازی میں شریک ہے اور نہ ایکشن کمیٹی کی قیادت کا حصہ ہے۔

بحیثیت شہری دونوں طرف سے یہی گزارش ہے کہ انا کی جنگ ترک کی جائے۔ مطالبات میں وزن ہے، مگر ان کے حصول کا درست راستہ احتجاج اور محاصرہ نہیں بلکہ انتخاب، عوامی مینڈیٹ، اور اسمبلی کے اندر سے آئینی و قانونی تبدیلی ہے۔ ایکشن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی موجودہ احتجاج سے انتخابی مہم کی طرف منتقل کرے، واضح اور قابلِ عمل منشور پیش کرے، اور عوام سے براہِ راست مینڈیٹ مانگے۔ یہی واحد راستہ ہے جو تحریک کو وقتی جوش سے نکال کر ایک پائیدار اور آئینی حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

ہجوم کے زور پر مطالبات منوانا درحقیقت کشمیری عوام کی اجتماعی دانش کی توہین کے سوا کچھ نہیں۔ جب تک سیاسی جماعتیں اور تحریکیں سڑک کی طاقت کو ووٹ کی طاقت میں تبدیل کرنے کا ہنر نہیں سیکھیں گی، آزاد کشمیر اسی نوعیت کے بحرانوں کا شکار رہے گا، اور حقیقی تبدیلی محض ایک خواب بنی رہے گی۔

مصنف کے بارے میں

Atiq ur Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *