27 جولائی کے انتخابات اور آزاد کشمیر کا سیاسی گرداب
جلال الدین مغل
10 جولائی 2016
اسلام آباد
آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی جمہوری تاریخ میں پہلی مرتبہ خطہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں انتخابی کیلنڈر اور زمینی حقائق ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن 27 جولائی 2026 کو عام انتخابات کے انعقاد کی تیاریوں میں مصروف ہے، لیکن دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج، سیکیورٹی خدشات، مواصلاتی بندش اور مسلسل بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی اس سوال کو جنم دے رہی ہیں کہ کیا محض انتخابات کا انعقاد سیاسی استحکام کی ضمانت ہو سکتا ہے یا پھر انتخابات کے دوران اور بعد کی صورت حال مزید بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ انتخابات صرف پولنگ کے دن ووٹ ڈالنے کا نام نہیں ہوتے۔ ایک معتبر انتخابی عمل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب امیدوار آزادانہ انتخابی مہم چلا سکیں، ووٹر تک اپنی بات پہنچا سکیں، میڈیا آزادانہ رپورٹنگ کر سکے اور نتائج پر سیاسی قوتوں کا بنیادی اعتماد موجود ہو۔ اگر ان میں سے ایک بھی ستون کمزور ہو جائے تو انتخابی عمل کی ساکھ متاثر ہونا یقینی ہو جاتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار اور پریس ریلیز بتاتے ہیں کہ انتظامی اعتبار سے انتخابات کی تیاریاں تقریباً مکمل ہیں۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں کے لیے 3,804,385 رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 2,001,655 مرد اور 1,802,715 خواتین شامل ہیں۔ ان ووٹرز کے لیے آزاد کشمیر اور پاکستان بھر میں کل 6,983 پولنگ اسٹیشنز اور 10,913 پولنگ بوتھ قائم کیے جا رہے ہیں۔ مقامی 33 نشستوں میں سے حلقہ ایل اے-7 بھمبر-3 سب سے بڑا انتخابی حلقہ ہے جہاں ووٹرز کی تعداد 129994 ہے جبکہ سب سے چھوٹا حلقہ ایل اے 30 مظفرآباد 4 ہے جہاں ووٹرز کی کل تعداد 68228 ہے۔ دوسری طرف مہاجرین کی 12 نشستوں میں ایل اے-37 جموں-4 سب سے زیادہ ووٹرزکا حامل حلقہ ہے جہاں ووٹرز کی تعداد 111203 ہے ۔ جبکہ ایل اے-43 کشمیر ویلی-3، صرف 3350 ووٹرز کے ساتھ سب سے چھوٹا حلقہ ہے۔
الیکشن کمیشن کی دستاویزات کے مطابق انتخابی میدان بھی بظاہر غیر معمولی حد تک متحرک دکھائی دیتا ہے۔ 24 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 852 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں 726 امیدوار آزاد کشمیر کے 10 اضلاع کی 33 نشستوں پر جبکہ 126 امیدوار مہاجرین کی 12 نشستوں پر مدمقابل ہیں۔ ضلع کوٹلی میں سب سے زیادہ، یعنی 135 امیدوار میدان میں ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اعداد و شمار کسی انتخاب کو جمہوری بھی ثابت کر دیتے ہیں؟
زمین پر صورت حال اس کے برعکس ہے۔ آزاد کشمیر میں الیکشن کو باقاعدہ ایک تہوار کی حیثیت حاصل رہی ہے اور لوگ اس عمل میں شرکت کے لیے پاکستان کے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے بھی اپنے آبائی علاقوں میں آتے رہے ہیں۔ الیکشن شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی یہ سلسلہ عروج پر پہنچ جاتا تھا مگر اس مرتبہ کم ہی کسی علاقے میں سیاسی سرگرمیاں یا انتخابی مہم چلتی نظر آئے گی۔ آزاد کشمیر کی زیادہ تر سیاسی سرگرمیاں راولپنڈی یا اسلام آباد میں چلتی دکھائی دے رہی ہیں۔
آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست ہمیشہ بڑی جماعتوں، برادریوں اور مقامی سیاسی شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم کانفرنس کے درمیان اقتدار کی کشمکش ہی انتخابی سیاست کا بنیادی محور رہی۔ مگر گزشتہ ایک سال کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے اس روایت کو غیر معمولی انداز میں چیلنج کیا ہے۔ بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمت، مہنگائی اور حکمران طبقے کی مراعات جیسے معاشی مسائل نے پہلی مرتبہ جماعتی سیاست سے زیادہ عوامی احتجاج کو سیاسی ایجنڈے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
اسی دوران پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان اور استحکام پاکستان پارٹی کی انٹری نے سیاسی مقابلے کی نوعیت کو مزید بدل دیا ہے۔ آزاد کشمیر کی انتخابی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایک بڑی سیاسی قوت انتخابی عمل سے باہر ہے۔ جس کے باعث انتخابی مقابلے اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے مینڈیٹ کی نمائندگی پر سوالات پہلے ہی سے زیر بحث ہیں۔
اس مرتبہ انتخابی مہم بھی معمول کے مطابق نہیں چل رہی۔ مختلف علاقوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق نیلم، پونچھ، باغ اور مظفرآباد کے بعض حلقوں میں سیاسی امیدواروں کو احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مقامات پر جلسے یا کارنر میٹنگز نہ ہو سکیں۔ احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ جب تک ان کے مطالبات مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیے جاتے، سیاسی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔
اسی طرح بعض علاقوں میں دفعہ 144، سیکیورٹی انتظامات اور راستوں کی بندش نے انتخابی سرگرمیوں کو محدود کیا ہے۔ اگر امیدوار اپنے ووٹرز تک ہی نہ پہنچ سکیں تو انتخابی مہم اپنی بنیادی افادیت کھو دیتی ہے۔
انتخابات کی شفافیت پر اعتراضات آزاد کشمیر کی سیاست میں نئے نہیں۔ دہائیوں سے یہ تاثر موجود رہا ہے کہ وفاق میں برسر اقتدار جماعت آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ترقیاتی فنڈز، انتظامی اختیارات اور سرکاری مشینری کے استعمال سے متعلق الزامات تقریباً ہر انتخاب کے بعد سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستوں پر جعلی ووٹنگ اور انتخابی بے ضابطگیوں کے اعتراضات بھی ماضی کا حصہ رہے ہیں۔
تاہم اس مرتبہ کچھ نئے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی تیاری کے دوران نادرا کے ڈیٹا انٹیگریشن میں تکنیکی مسائل کے باعث تقریباً 167 ہزار ووٹرز کے نام یا تو فہرستوں سے غائب ہوئے یا غلط حلقوں میں منتقل ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے بعد ازاں ان خرابیوں کو دور کرنے کا اعلان کیا، تاہم اس معاملے نے انتخابی عمل پر اعتماد کو متاثر ضرور کیا۔
اسی طرح اگر پولنگ کے روز انٹرنیٹ یا موبائل سروسز معطل ہوتی ہیں تو الیکشن کمیشن کو انتخابی نتائج کی بروقت ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نتائج کی دستی ترسیل پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں نتائج کی شفافیت سے متعلق سوالات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، خواہ ان میں حقیقت ہو نہ ہو۔ عموماً آزاد کشمیر میں ایک ادھ حلقے کو چھوڑ کر انتخابی نتائج کا اعلان پولنگ ختم ہونے کے 12 گھنٹے کے اندر ہو جاتا ہے۔ تاہم موجودہ صورت حال میں انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر یقینی ہے اور اس دوران نتائج میں ردوبدل کے الزامات کا سامنے آنا سو فیصد یقینی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آزاد میڈیا، سول سوسائٹی اور غیر جانبدار انتخابی مبصرین کی رسائی جتنی محدود ہوگی، انتخابی عمل پر اعتماد اتنا ہی کمزور پڑے گا۔ کسی بھی جمہوری نظام میں شفافیت صرف منصفانہ عمل سے نہیں بلکہ اس عمل کے آزادانہ مشاہدے سے بھی پیدا ہوتی ہے۔
ان تمام تر حالات کے بیچوں بیچ سب سے اہم پیش رفت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان ہے۔ اس تحریک کے مطالبات میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کا خاتمہ بھی شامل ہے، جبکہ یہ نشستیں آئینی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان اختلافات محض سیاسی نہیں بلکہ آئینی نوعیت بھی اختیار کر چکے ہیں۔ اگر 14 جولائی تک کوئی قابل قبول پیش رفت نہ ہوئی تو سیکیورٹی صورتحال انتخابی انتظامات کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔
جمہوریت کا اصل امتحان صرف ووٹوں کی گنتی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا حصول ہوتا ہے۔ اگر ووٹر یہ محسوس کرے کہ اس کے پاس امیدواروں کو سننے، سوال کرنے اور آزادانہ فیصلہ کرنے کا مناسب موقع موجود نہیں، تو انتخابات قانونی طور پر درست ہونے کے باوجود اخلاقی اور سیاسی طور پر کمزور مانے جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر اس وقت شاید اپنی جمہوری تاریخ کے سب سے حساس انتخابی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ آنے والے دو سے تین ہفتے صرف یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ عدم استحکام کا شکار اس خطے میں حکومت کس جماعت کی بنتی ہے، بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ آیا خطہ ایک نئے سیاسی معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا پھر عدم اعتماد، احتجاج اور آئینی کشیدگی کے ایک طویل دور میں داخل ہوتا ہے۔
27 جولائی کے انتخابات یقینا اہم ہیں، مگر اس سے کہیں زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ کیا ان انتخابات کے بعد وجود میں آنے والا مینڈیٹ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کی وہ خلیج پاٹ سکے گا جو گزشتہ کئی ماہ کے دوران مزید گہری ہوتی چلی گئی ہے۔ اگر اس سوال کا جواب نفی میں آیا تو مسئلہ انتخابات کے انعقاد کا نہیں بلکہ ان کی قبولیت کا ہوگا، اور یہی وہ چیلنج ہے جس سے آزاد کشمیر آج دوچار ہے۔
مصنف کے بارے میں
- جلال الدین مغل




