لانگ مارچ سے کیا حاصل ہو گا؟

شئر کریں

قیصر خان

میری رائے میں اگر پچاس ہزار یا اس سے زیادہ لوگ مختلف راستوں سے مظفرآباد کی طرف روانہ ہو جائیں تو انہیں مکمل طور پر روکنا شاید ممکن نہ ہو۔ راستے بند کیے جا سکتے ہیں، بھر پور طاقت کا استعمال ہو سکتا ہے لیکن اتنے بڑے ہجوم کو ہر سمت سے روک لینا ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ مظفرآباد پہنچ پائے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر ہزاروں افراد اسمبلی کے سامنے جمع بھی ہو جائیں تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا اس سے زمینی صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی آئے گی؟ کیا ہم چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کے قریب آ جائیں گے؟

مارچ سے یہ ہو گا کہ تصادم کا مرکز پونچھ سے مظفرآباد منتقل ہو جائے گا، جانی نقصان میں اضافہ ہو گا مگر آخرکار معاملات مذاکرات کی میز تک ہی پہنچیں گے۔اگر انجامِ کار ہمیں بات چیت ہی کرنی ہے تو کیا بہتر نہیں کہ کشیدگی کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے بجائے، اسی مقام پر ایسے راستے تلاش کیے جائیں جو تناؤ میں کمی اور بامقصد مذاکرات کی طرف لے جائیں؟

عوامی ایکشن کمیٹی لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے اس لیے اب اس فیصلے پر زیادہ بحث شاید بے معنی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران جس نوعیت کی ہلاکتیں، گرفتاریاں، چھاپے اور اجتماعی دباؤ دیکھنے میں آیا ہے، اس کے بعد ایسے ردِعمل کو غیر فطری بھی نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس تحریک کے شاید سب سے مشکل مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے ممکنہ نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

اس تناظر میں کچھ ممکنہ منظرنامے سوچ میں آتے ہیں:

پہلا یہ کہ ریاست زیادہ سخت طاقت استعمال کرے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم مقبوضہ کشمیر کے 1990 جیسے کسی موڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ 21 جنوری 1990 کو سرینگر کے گاوکدل میں ایک جلوس پر فائرنگ کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 52 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ دیگر اندازوں میں یہ تعداد تقریباً 80 بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد وادی تقریباً انہتر روز تک مسلسل کرفیو کی کیفیت میں رہی اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں بھارتی ریاست کی انسدادِ مزاحمت حکمتِ عملی ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔ کیا ہم بھی کسی ایسے ہی “گاوکدل لمحے” کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میری رائے اس سے مختلف ہے، اگرچہ اس خدشے کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ نسبتاً محدود درجے کی طاقت استعمال کی جائے، جس کے نتیجے میں لانگ مارچ کسی نہ کسی صورت مظفرآباد تک پہنچ جائے، لیکن کشیدگی اور بے یقینی پورے پونچھ میں پھیل جائے اور حالات کو معمول پر آنے میں مہینے لگ جائیں۔ میری رائے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے۔

دونوں صورتوں میں ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے۔ جو کچھ بھی ہوگا، اس کے بعد بھی ایک اگلا دن آئے گا۔ یہ تحریک بھی کسی نہ کسی شکل میں آگے بڑھے گی اور دوبارہ منظم ہوگی۔ اس لیے میرے خیال میں ہمیں اس تصور سے بچنا چاہیے کہ ہم کسی آخری یا فیصلہ کن معرکے کی طرف جا رہے ہیں۔ سیاست اور عوامی جدوجہد میں ایسی کوئی آخری جنگ نہیں ہوتی۔ ہر مرحلہ اپنے بعد ایک نیا مرحلہ پیدا کرتا ہے۔

اسی لیے میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ مذاکرات ہی سب سے بہتر راستہ ہیں۔ اصل مسئلہ مذاکرات کی خواہش کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسی شخصیت یا چند ایسے افراد سامنے آئیں جن پر دونوں فریق اعتماد کر سکیں اور جو اس اعتماد کی ضمانت بن سکیں کہ جس بات پر اتفاق ہوگا، اس پر عمل بھی کیا جائے گا۔

شاید یہ ایک غیر مقبول رائے ہو، مگر میری نظر میں سردار صغیر خان اس کردار کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر ان کے ساتھ چند دیگر قابلِ اعتماد شخصیات بھی شامل ہوں۔ یہ محض ایک خیال ہے، حتمی رائے نہیں۔ ممکن ہے اس سے بہتر تجاویز بھی سامنے آئیں، کیونکہ اس مرحلے پر سب سے زیادہ ضرورت ایسے راستے تلاش کرنے کی ہے جو مزید خونریزی کے بجائے مسئلے کے حل کی طرف لے جائیں۔

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *