حکومت سے مزاکرات کامیاب ایکشن کمیٹی نے مارچ 22 جولائی تک موخر کر دیا دھرنا جاری رہے گا

شئر کریں

راولاکوٹ: آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہزاروں افراد کے تاریخی دھرنے کی قیادت نے حکومت کے ساتھ طویل اور تفصیلی مذاکرات کے بعد مظفرآباد کی جانب شیڈولڈ لانگ مارچ کو عارضی طور پر ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ دھرنا قیادت نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی تحریک کے خاتمے کا نہیں، بلکہ پرامن حل اور مذاکرات کی کامیابی کو ایک سنجیدہ موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے اس سے قبل 15 جولائی کو راولاکوٹ سے دارالحکومت مظفرآباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ کی کال دے رکھی تھی۔ تاہم، اب حکومت کو عوامی مطالبات پر عملی درآمد یقینی بنانے کے لیے 21 جولائی 2026 تک کی حتمی مہلت دے دی گئی ہے۔

اہم فیصلے اور تحریک کا اگلا لائحہ عمل

  • مارچ عارضی ملتوی، ‘کال آف’ نہیں: قیادت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ صرف عارضی طور پر روکا گیا ہے، اسے مکمل ختم نہیں کیا گیا۔
  • دھرنے برقرار رہیں گے: راولاکوٹ سمیت تمام مقامات پر جاری احتجاجی دھرنے حسبِ سابق اپنی جگہ پر پوری قوت کے ساتھ برقرار رہیں گے اور عوامی بیداری کی مہم جاری رہے گی۔
  • 22 جولائی کی ڈیڈ لائن: اگر مقررہ مدت (21 جولائی) تک حکومت نے اپنے وعدے پورے نہ کیے اور مطالبات کو عملی شکل نہ دی، تو 22 جولائی سے مظفرآباد کی جانب دوبارہ لانگ مارچ کا آغاز کر دیا جائے گا۔

امید اور امن کی فضا: اس عارضی مہلت کے دوران توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں جانب سے ماحول کو پرامن رکھا جائے گا۔ عوامی حلقوں اور دھرنا قیادت کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ فورسز کی طرف سے کسی قسم کی نقل و حرکت یا کارروائی نہ ہو تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار اور مثبت فضا برقرار رہے اور یہ مہلت عوامی حقوق کے حق میں حقیقی اور عملی نتائج لے کر آئے۔

اب تمام تر نگاہیں حکومت کے عملی اقدامات پر لگی ہیں۔ اگر ریاست نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تحریری وعدے نبھائے تو یہ پرامن عوامی جدوجہد کی بڑی کامیابی ہوگی، اور اگر ہمیشہ کی طرح وعدہ خلافی کی گئی تو 22 جولائی کو عوام اپنے آئینی، قانونی اور پرامن حقوق کی بحالی کے لیے دوبارہ میدانِ عمل میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ حق اور انصاف پر مبنی فیصلہ نصیب فرمائے اور عوام کی اس مخلصانہ جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *