کشمیر کے شہدا اور حقوق کے لیے آواز: اسلام آباد کے ایف-10 مرکز میں سینیٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں جلسہ کشمیر کا انعقاد

شئر کریں

اسلام آباد: پاکستان رائٹس موومنٹ (PRM) کے چیئرمین اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں آج ایف-10 مرکز اسلام آباد میں ایک عظیم الشان “جلسہ کشمیر” کا انعقاد کیا گیا۔ اس جلسے میں جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) کے شہریوں، تعلیمی اداروں کے طلباء، صحافیوں اور وفاقی دارالحکومت میں مقیم کشمیری برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

آزاد کشمیر میں آزاد پٹن کے مقام پر داخلے سے روکے جانے اور عارضی حراست سے رہائی کے بعد سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس امن و تعزیت کے جلسے کا انعقاد کیا، جس میں شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچموں کے ساتھ ساتھ سفید پرچم بھی لہرائے جو امن، مصالحت اور احترام کی علامت تھے۔

جلسے کے اہم نکات اور مطالبات

  • طاقت کا استعمال فوری بند کیا جائے: جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان نے حکومت پر زور دیا کہ آزاد کشمیر میں فائرنگ، تشدد اور طاقت کے استعمال کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
  • ۳ بنیادی مطالبات کی تکرار: انہوں نے اپنے پیش کردہ تین مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایدھی اور صحافیوں سمیت تمام آزاد مبصرین کو کشمیر جانے دیا جائے، شہداء کی میتیں فوری طور پر ان کے لواحقین کے حوالے کی جائیں، اور پُرامن مظاہرین پر کریک ڈاؤن ختم کیا جائے۔
  • وسائل اور حقوق کا احترام: مقررین نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کو ان کے اپنے وسائل پر اختیار اور آئینی حقوق دیے جائیں۔ مسائل کا واحد حل سنجیدہ مذاکرات اور مصالحت میں مضمر ہے۔

مجموعی پائغام: “گولیاں چلانا اور خون بہانا بند کیا جائے۔ کشمیری عوام صرف اپنے بنیادی انسانی حقوق، اپنے وسائل کا حق اور امن چاہتے ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ طاقت کا مظاہرہ چھوڑ کر پرامن افہام و تفہیم کا راستہ اپنائے۔”

جلسے کے اختتام پر آزاد کشمیر کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی تعزیتی دعا کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مظلوم عوام کی آئینی و معاشی جدوجہد میں ان کی سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *