زاد کشمیر کے حقوق کے لیے آواز: اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر میں جاری انتظامی بحران، عوام کے معاشی و آئینی مطالبات اور دھرنا مظاہرین پر ریاستی اقدام کے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ (IJT) کے زیرِ اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے ایک پرشور مظاہرہ کیا گیا، جس میں جڑواں شہروں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے آئے ہوئے ہزاروں طلبا نے شرکت کی۔
احتجاج کے دوران طلبہ نے آزاد کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، انٹرنیٹ کی فوری بحالی اور گرفتار سیاسی و عوامی متحرکین کی رہائی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز موجود تھے جن پر کشمیری عوام کے جائز مطالبات کی حمایت میں تحریریں درج تھیں۔
احتجاج کے اہم نکات اور مطالبات
- آزاد کشمیر کے جائز مطالبات کی منظوری: جمعیت کی قیادت نے حکومت پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق، بجلی و آٹا سبسڈی اور آئینی اختیارات سے متعلق مطالبات کو فوری حل کیا جائے۔
- انٹرنیٹ اور مواصلات کی بحالی: مظاہرین نے آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں کی جانے والی انٹرنیٹ کی معطلی کو شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
- طاقت کے استعمال کی مخالفت: طلبا رہنماؤں نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین اور سخت اقدامات مسائل کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا رہے ہیں۔
جمعیت کی قیادت کا عزم: “آزاد کشمیر کے عوام اپنے جائز آئینی اور معاشی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ طاقت کے استعمال اور ناانصافی کے بجائے پرامن مذاکرات کی راہ اپنائیں۔ ہم آزاد کشمیر کے شہریوں کے حقوق کی اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔”
مظاہرے کے اختتام پر آزاد کشمیر میں امن، امن و امان کی بہتری اور عوام کے حقوق کی جلد فلاح کے لیے اجتماعی دعا کی گئی، اور حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اگر مسائل کو افہام و تفہیم سے نہ سلجھایا گیا تو اس احتجاجی مہم کو دیگر شہروں کے تعلیمی اداروں تک بڑھایا جائے گا۔
مصنف کے بارے میں
تازہ ترین خبروں
خبریں07/29/2026زاد کشمیر کے حقوق کے لیے آواز: اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج
خبریں07/15/2026حکومت سے مزاکرات کامیاب ایکشن کمیٹی نے مارچ 22 جولائی تک موخر کر دیا دھرنا جاری رہے گا
رائے07/13/2026لانگ مارچ سے کیا حاصل ہو گا؟
سیاحت07/11/2026دنیا کا بلند ترین انتظامی دارالحکومت: لا پاز، بادلوں کے درمیان آباد ایک شہر
