ایک ماں کا فیصلہ – ایک صدی کا سفرکالگڑھ سے برطانیہ — ایک بھولی ہوئی ہجرت کی داستان

شئر کریں

تحریر: شمس الرحمٰن

برطانیہ میں کشمیری نژاد آبادی کی ہجرت کو عموماً 1960 کی دہائی اور منگلا ڈیم کے بعد کے حالات سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم حقیقت اس سے کہیں زیادہ پرانی اور پیچیدہ ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ میرپور سے برطانیہ ہجرت کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا، مگر تاریخی شواہد اس تصور کی مکمل تائید نہیں کرتے۔میرپور کے علاقے ڈڈیال سے انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہی کچھ مزدور برطانیہ کا رخ کر چکے تھے—یہ بات مجھے مانچسٹر یونیورسٹی میں پروفیسر راجر بالرڈ کے تحقیقی کام سے معلوم ہوئی۔ تاہم ایک سوال بدستور باقی تھا: میرے اپنے آبائی قصبے کالگڑھ—جسے بعد میں اسلام گڑھ کہا جانے لگا—سے سب سے پہلے برطانیہ کون گیا؟ گزشتہ برس اس سوال کا جواب ایک زبانی روایت کی صورت میں سامنے آیا—کرم دین المعروف “کرما”، جو 1918 میں پہلی جنگِ عظیم کے فوراً بعد برطانیہ پہنچے۔وبا، جنگ اور ایک ماں کا فیصلہپہلی جنگِ عظیم کے بعد ریاست جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں—میرپور، پونچھ اور جموں—میں ایک مہلک وبا پھیلی جس نے ہزاروں جانیں لے لیں۔ مقامی سطح پر اسے طاعون کہا جاتا تھا، جبکہ جدید تحقیق اسے 1918 کی عالمی وبا “سپینش فلو” سے جوڑتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ بیماری اُن فوجیوں کے ذریعے پھیلی جو جنگ سے واپس لوٹے تھے۔اسی وبا میں کرم دین کے چار بھائی انتقال کر گئے، اور وہ اکیلے بچے۔ ایک ماں نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا:“پُتر، یہاں سے چلے جاؤ… شاید اس طرح تم بچ جاؤ…”یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک ایسی ہجرت شروع ہوئی جو کسی منصوبے کا حصہ نہیں بلکہ محض بقا کی ایک کوشش تھی۔کالگڑھ سے بمبئی: قسمت کی تلاشکرم دین پیدل جہلم پہنچے، جہاں سے وہ ریل کے ذریعے بمبئی گئے۔ وہاں انہوں نے سنا کہ جہازوں پر مزدوری مل جاتی ہے۔ وہ بھی دیگر افراد کے ساتھ کھڑے ہو گئے—امید اور ناامیدی کے درمیان۔اچانک کسی نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا:“آپ اندر آئیں…”وہ حیران تھے، مگر اندر چلے گئے۔ انٹرویو لینے والا انہیں دیکھ کر بولا:“تم مجھے نہیں پہچانتے، مگر میں نے تمہیں پہچان لیا ہے…”“تم عظیم اللہ کے پوتے ہو نا؟”“جی ہاں…” انہوں نے جواب دیا۔“تمہارے دادا نے ہمارے ساتھ بہت بڑی نیکی کی تھی… کل سے کام پر آ جاؤ، پھر پوری کہانی سناؤں گا…”ایک بھولی ہوئی نیکی، جس نے راستہ بنا دیااگلے دن کرم دین جہاز پر کام کرنے لگے—کوئلہ خانے میں، جہاں شدید گرمی اور سخت مشقت تھی۔ کچھ دیر بعد وہی شخص، سرنگ، انہیں چائے خانے میں لے گیا اور کہانی سنانے لگا:“یہ کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے… میرے بھتیجے کی بارات تمہارے گاؤں موڑا بڑی گئی تھی۔ وہاں رسم تھی کہ جب تک کوئی باراتی بلغدروں نہ اٹھائے، نہ نکاح ہو گا اور نہ کھانا ملے گا۔ہم غریب لوگ تھے، کوئی پتھر نہ اٹھا سکا۔ ہمیں بھوکا واپس بھیجا جا رہا تھا۔ کسی نے کہا: ‘مولا کے پاس جاؤ’—تمہارے دادا عظیم اللہ کو سب مولا کہتے تھے۔ہم ان کے پاس گئے، انہوں نے فوراً کھانے کا بندوبست کیا۔ پھر اپنے بھتیجے فقیر محمد کو بلایا۔ اس نے کہا پہلے کام بتائیں—اور جب پتہ چلا کہ بلغدروں اٹھانے ہیں تو اس نے کہا: ‘پہلے پتھر اٹھاؤں گا، پھر کھانا کھاؤں گا’۔اس نے پتھر اٹھایا، نکاح ہوا، کھانا ملا… اور ہم عزت کے ساتھ واپس آئے…”سرنگ نے کرم دین کی طرف دیکھ کر کہا:“میں نے تمہیں کل باہر کھڑا دیکھا تو فوراً پہچان لیا… اور مجھے تمہارے دادا کا وہ احسان یاد آ گیا…”یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک پرانی نیکی نے نئی تاریخ لکھ دی۔جہاز، بیماری اور گلاسگوجہاز پر کام انتہائی مشکل تھا—شدید گرمی، بھاری کوئلہ، مسلسل محنت۔جب جہاز گلاسگو کے نزدیک پہنچا تو کرم دین میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں جسے طاعون یا انفلونزا سمجھا جا رہا تھا—وہی بیماری جس سے جان بچانے کے لیے وہ گھر چھوڑ کر نکلا تھا۔انہیں فوری طور پر جہاز سے اتار کر گلاسگو کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ کئی ماہ کے علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوئے اور کچھ عرصہ وہیں قیام کیا۔اس دوران انہوں نے چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کیا اور کچھ رقم جمع کی۔گھر واپسی: ایک ناقابل یقین لمحہتقریباً ایک سال بعد وہ رات کے وقت اپنے گاؤں پہنچے۔ دروازہ کھٹکھٹایا:“کون ہے؟”“میں ہوں… کرم دین…”اندر خاموشی چھا گئی۔ دادی کو یقین نہ آیا—وہ بے ہوش ہو گئیں۔اگلے دن گاؤں میں جشن کا سماں تھا—دو سو بکریاں پکائی گئیں۔ایک سفر، جو سلسلہ بن گیاکرم دین نے دوبارہ برطانیہ کا رخ نہیں کیا، مگر ان کے تین بیٹے—ماموں اقبال، ماموں آزاد اور ماموں معظم—بعد میں انگلینڈ گئے۔ سب سے پہلے ماموں اقبال 1958 میں پہنچے، اور یوں ایک فرد کا سفر اگلی نسل میں ایک مسلسل ہجرت بن گیا۔ایک بھولی ہوئی ابتدایہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ میرپوری ہجرت کی تاریخ صرف 1960 سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ اس کی جڑیں اس سے کئی دہائیاں پہلے موجود ہیں—ایسی کہانیاں جو کاغذوں سے زیادہ یادوں میں زندہ ہیں۔اختتامیہ نوٹیہ مضمون لکھنے کے بعد ایک دن میری بات چک ہریام کے پروفیسر ظفر اقبال صاحب (مقیم اولڈہم) سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے نانا پہلی جنگِ عظیم سے چند سال قبل ہی برطانیہ آ چکے تھے۔ اگر ان کے سفر کی مزید تفصیلات دستیاب ہوئیں تو اگلی کہانی انہی پر ہوگی۔ورنہ چک ہریام ہی کے مائیکل منیر (حال مقیم بریڈ فورڈ) نے فضل الٰہی المعروف “چلہھا” کی جو نہایت دلچسپ کہانی سنائی ہے، وہ پیش کی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

Shams Rehman
Shams Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *