باوا چہھلا ۔۔۔تیسری اور آخری قسط

شئر کریں


عورت نے کوئی پیسہ نہ لیا۔
اس نے فیروز کی طرف دیکھا۔ پھر چہھلا کی طرف۔ پھر شاید اندر کہیں ان دو بچیوں کی طرف دیکھا جن کے چہروں میں اس اجنبی آدمی کی خاموشی بھی تھی اور اس کی اپنی زندگی بھی۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“تم اپنے بھائی کو لے جاؤ… لیکن میری بیٹیاں میرے پاس چھوڑ جاؤ۔”
یہ جملہ ایک عورت کی پوری زندگی تھا۔
وہ چہھلا کو روک نہیں رہی تھی۔ مگر ماں ہونے کا حق بھی نہیں چھوڑ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ چہھلا کا ماضی اسے واپس بلا رہا ہے، مگر ان بیٹیوں کا حال اس کے اپنے گھر سے جڑا ہوا ہے۔
فیروز الدین اپنے بھائی فضل الٰہی چہھلا کو لے کر بریڈ فورڈ آ گئے۔ دونوں بیٹیاں اپنی ماں کے پاس رہ گئیں۔ بعد میں چہھلا نوٹنگھم چلے گئے۔
زبان کی جیل
باوا چہھلا کی یہ دس سالہ خاموشی ہجرت کی تاریخ کا ایسا باب ہے جسے سمجھنے کے لیے صرف تاریخ دان ہونا کافی نہیں۔ انسان ہونا بھی ضروری ہے۔
زبان نہ ہو تو شہر جیل بن جاتا ہے۔ لوگ پاس سے گزرتے ہیں مگر کوئی اپنا نہیں بنتا۔ بازار کھلے ہوتے ہیں مگر آدمی راستہ نہیں پوچھ سکتا۔ گھر مل جائے تو بھی دل کا دروازہ بند رہتا ہے۔ آدمی کے پاس یادیں ہوتی ہیں مگر سنانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
آج ہم ہجرت کو ہوائی جہازوں، پاسپورٹوں، ویزوں، موبائل فونوں اور ویڈیو کالوں کے ذریعے سمجھتے ہیں۔ مگر اس زمانے کا مسافر گھر سے نکلتا تھا تو سمندر اسے اپنے اندر لے لیتا تھا۔ کبھی مہینوں خبر نہیں آتی تھی، کبھی برسوں۔ کبھی آدمی زندہ ہوتا تھا مگر گھر والوں کے لیے مردہ۔
چہھلا زندہ تھا۔
مگر اپنی زبان کے بغیر۔
اپنے نام کے بغیر۔
اپنے لوگوں کے بغیر۔
اور شاید یہی پردیس کی سب سے بڑی تنہائی ہے۔
جینما
باوا چہھلا کے بارے میں ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے۔ لوگ اسے لطیفے کی طرح سناتے ہیں، مگر اس کے اندر ہجرت کی پوری اداسی چھپی ہوئی ہے۔
کہتے ہیں تقریباً چالیس سال بعد فضل الٰہی کی بیوی بھی چک ہریام سے انگلینڈ آ گئیں۔ ان کا اصل نام شاید زینب تھا، مگر نکا نام جینما تھا۔
چہھلا انہیں لینے ایئرپورٹ گئے، مگر دیر سے پہنچے۔ جینما اتریں تو میاں موجود نہیں تھے۔ کچھ دیر انتظار کیا، پھر گاؤں کے کچھ لوگوں کے ساتھ ان کے گھر چلی آئیں۔
ادھر چہھلا ایئرپورٹ پر دیر تک انتظار کرتے رہے۔ پھر یہ سمجھ کر گھر لوٹے کہ شاید جینما نہیں آئی۔
جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ جینما دیوار میں لگے “فائر” کے سامنے بیٹھی آگ سینک رہی ہیں۔
چہھلا نے دیکھتے ہی کہا:
“جینما، تم تھوڑا انتظار نہیں کر سکتی تھی؟”
جینما نے فوراً جواب دیا:
“چہھلیا، چالیس سال انتظار کیا۔ بتا اب اور کتنا انتظار کرتی؟”
یہ جواب ایک بیوی کا جواب نہیں، ایک پوری نسل کی آواز ہے۔
وہ عورتیں جن کے مرد ولایت چلے گئے۔
وہ لڑکیاں جو دلہن بن کر بھی انتظار میں رہیں۔
وہ بیویاں جنہوں نے جوانی خطوں، منی آرڈروں، خبروں اور وعدوں کے انتظار میں گزار دی۔
وہ مائیں جنہوں نے بچوں کو باپ کی کہانیاں سنا کر بڑا کیا۔
وہ گھر جن میں مردوں کی کمائی آئی، مگر مرد خود دیر سے آئے۔
ہجرت صرف جانے والوں کی تاریخ نہیں۔
یہ پیچھے رہ جانے والوں کی تاریخ بھی ہے۔
وہ دو بیٹیاں
باوا چہھلا کی کہانی سناتے ہوئے ایک سوال دل میں بار بار اٹھتا ہے: کیا کبھی ان کا دل اپنی ان دو بیٹیوں سے ملنے کو نہیں تڑپا ہو گا جنہیں وہ نیو کاسل میں اپنی ماں کے پاس چھوڑ آئے تھے؟ وہ بیٹیاں جنہوں نے ایک ایسے باپ کو دیکھا ہو گا جو ان سے محبت تو کرتا تھا مگر اپنی زبان میں انہیں کوئی کہانی نہ سنا سکا۔ کیا وہ کبھی بڑی ہو کر سوچتی ہوں گی کہ ہمارا باپ کون تھا؟ کہاں سے آیا تھا؟ اس کی آنکھوں میں کون سا گاؤں آباد تھا؟ اس کی خاموشی کے پیچھے کون سی زبان بند تھی؟
اور کیا ان بیٹیوں نے کبھی اپنے باپ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہو گی؟ شاید انہوں نے ماں سے پوچھا ہو: “وہ آدمی کہاں گیا جو ہمارے گھر میں رہتا تھا؟” شاید انہیں بتایا گیا ہو کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ چلا گیا۔ شاید ان کے پاس اس کا کوئی نام بھی پورا نہ ہو۔ شاید وہ اسے کسی انگریزی نام سے یاد کرتی رہی ہوں، جبکہ اس کا اصل نام فضل الٰہی تھا، اور اس کے گاؤں والے اسے چہھلا کہتے تھے۔
یہ سوالات اب شاید کبھی جواب نہ پا سکیں۔ مگر یہی سوال اس کہانی کو اور بھی گہرا بنا دیتے ہیں۔ ہجرت صرف ایک آدمی کے جانے اور مل جانے کی داستان نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی وہ پیچھے چھوٹ جانے والے بچوں، ادھورے رشتوں، بے زبان محبتوں اور ان نسلوں کی کہانی بھی ہوتی ہے جو ایک دوسرے کو ڈھونڈنے سے پہلے ہی تاریخ کی دھند میں گم ہو جاتی ہیں۔
باوا چہھلا اپنے لوگوں کو مل گئے، مگر کیا وہ اپنی بیٹیوں سے کبھی دوبارہ ملے؟
یہ بات روایت خاموشی سے گزر جاتی ہے۔
اور شاید اسی خاموشی میں اس کہانی کا سب سے بڑا درد چھپا ہے۔
باوا چہھلا کیوں یاد رہتے ہیں؟
باوا چہھلا کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ میرپور اور آزاد کشمیر سے برطانیہ کی ہجرت صرف 1960 کی دہائی، منگلا ڈیم، فیکٹریوں اور ملوں سے شروع نہیں ہوتی۔ اس کی جڑیں اس سے پہلے کی بندرگاہوں، جہازوں، کوئلہ خانوں، سمندری مزدوری، اجنبی شہروں اور بے زبان مسافروں تک جاتی ہیں۔
سرکاری تاریخیں ہمیں تاریخیں دیتی ہیں۔
مردم شماریاں ہمیں تعداد دیتی ہیں۔
امیگریشن ریکارڈ ہمیں نام دیتے ہیں۔
مگر زبانی روایتیں ہمیں روح دیتی ہیں۔
باوا چہھلا اسی روح کا ایک نام ہے۔
وہ صرف فضل الٰہی نہیں تھے۔ وہ ایک گمشدہ زمانے کی خاموشی تھے۔ ایک ایسے مسافر کی علامت تھے جو کالگڑھ سے چلا، ولایت پہنچا، دس سال تک گونگا رہا، پھر اپنے ایک “اپنے” کی آواز سے دوبارہ زندہ ہوا۔
اور شاید یہی ہجرت کی سب سے بڑی حقیقت ہے: آدمی جب وطن چھوڑتا ہے تو صرف زمین نہیں چھوڑتا۔ وہ زبان چھوڑتا ہے، نام چھوڑتا ہے، رشتے چھوڑتا ہے، اور کبھی کبھی اپنی پہچان بھی سمندر کے حوالے کر دیتا ہے۔
باوا چہھلا سمندر سے واپس مل گئے۔
مگر کتنے چہھلا ایسے ہوں گے جو کبھی واپس نہ ملے۔

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *