باوا چہھلا ۔۔۔قسط 02
مگر الفاظ اس کے گلے میں پھنس گئے۔ انگریزی اس کے لیے دیوار تھی۔
وہ خاموش رہا۔
لڑکی اندر گئی، چائے لائی، اس کے ہاتھ میں دے دی۔
وقت گزرتا گیا۔ شام اتر آئی۔ جن مزدوروں کے انتظار میں چہھلا بیٹھا تھا، وہ نہ آئے۔ ریستوران بند ہونے لگا۔ لڑکی نے ایک بار پھر اس اجنبی کو دیکھا۔ شاید اس نے سوچا ہو گا کہ اسے یہاں چھوڑ دینا ظلم ہے۔
وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے گئی۔
یہیں سے ایک ایسی زندگی شروع ہوئی جسے شاید کوئی مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتا۔
لڑکی نے اس کا نام پوچھا ہو گا۔ وطن پوچھا ہو گا۔ گھر پوچھا ہو گا۔ خاندان پوچھا ہو گا۔ مگر چہھلا کیا جواب دیتا؟ ہو سکتا ہے اس نے اپنی زبان میں کہا ہو مہارا نانواں فضل الہی ہے یا ہو سکتا ہے اردو میں کہا ہو میرا نام فضل الہی ہے اور میں چک ہریام سے آیا ہوں ۔ اب مجھے نہیں معلوم کے واپس جہاز پر کیسے جاؤں۔۔۔ ، مگر اس کے لفظ اس عورت کہ فہم تک نہیں پہنچتے تھے۔ وہ عورت بولتی تھی، مگر اس کی زبان چہھلا کے لیے اجنبی تھی۔
پھر اشارے زبان بن گئے۔
چہرے جملے بن گئے۔
خاموشی نے گھر بنا لیا۔
روایت کہتی ہے کہ دس سال گزر گئے۔
ان کی دو بیٹیاں بھی ہوئیں۔
یہاں کہانی صرف حیرت انگیز نہیں رہتی، دردناک ہو جاتی ہے۔ ایک آدمی ایک گھر میں رہتا ہے، مگر اپنی کہانی نہیں سنا سکتا۔ بچوں کا باپ ہے، مگر اپنی بیٹیوں کو اپنے گاؤں کا نام نہیں بتا سکتا۔ ایک عورت کا ساتھی ہے، مگر اسے اپنی ماں، باپ، بھائیوں، گاؤں، پہاڑوں اور زبان کے بارے میں کچھ نہیں سمجھا سکتا۔
وہ گھر میں تھا، مگر اپنی دنیا سے باہر تھا۔
وہ زندہ تھا، مگر اپنے گاؤں والوں کے لیے شاید مر چکا تھا۔
ہو سکتا ہے چک ہریام میں اس کا ختم فاتحہ بھی پڑھا جا چکا ہو۔
دس سال بعد
دس برس گزر گئے۔ نیو کاسل کی سرد گلیوں پر دھند کتنی ہی بار اتری اور اٹھ گئی۔ بندرگاہوں پر کتنے جہاز آئے اور گئے۔ مزدوروں کے کتنے گروہ اترے اور بکھر گئے۔ مگر چہھلا کی گمشدگی کا پردہ نہ اٹھا۔
پھر 1938 میں چک ہریام کے فیروز الدین چند نوجوانوں کے ساتھ نیو کاسل پہنچے۔
وہ یہاں کلروڑی گاؤں کے چوہدری حسن کے پاس آئے جو ان سے کئی سال پہلے آکر یہاں بس چکے تھے۔ بنس برادری سے تعلق رکھنے والے چوہدری حسن اپنے گاؤں سے انگلینڈ آنے والے اولین آدمیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اسی شمالی شہر کو اپنا ٹھکانہ بنایا تھا، جہاں بندرگاہ کی نمی، کوئلے کی بو اور اجنبی زبانوں کا شور نئے آنے والوں کو ایک ساتھ ڈراتا بھی تھا اور اپنے اندر سمیٹ بھی لیتا تھا۔
اس زمانے میں ولایت میں کوئی ایک “اپنا” مل جانا بھی آدھا وطن مل جانے کے برابر ہوتا تھا۔ آدمی کو لگتا تھا کہ اجنبی زمین کے نیچے کہیں نہ کہیں اپنے گاؤں کی مٹی بھی موجود ہے۔
فیروز الدین انگریزی کے بڑے ماہر تو نہ تھے، مگر “آٹا دلیہ” کر لیتے تھے۔ یعنی اتنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی جانتے تھے کہ ضرورت کی بات پوچھ سکیں، راستہ معلوم کر سکیں، اور کسی اجنبی کو اپنا مطلب سمجھا سکیں۔ پردیس میں اتنی زبان بھی بڑی دولت ہوتی ہے۔
نیو کاسل پہنچ کر انہوں نے چوہدری حسن سے فضل الہی کا پوچھا۔ بعد میں دوسرے ملنے جلنے والوں سے بھی یوں ہی باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ ان کا ایک بھائی کئی سال قبل برطانیہ آیا تھا لیکن اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔ لیکن کسی کو فضل الہی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔
ایک دن ایک ایشیائی نے فیروز کو بتایا کہ اگلے دن ایک انگریز نے ایک عجیب آدمی کا ذکر کیا تھا کہ ادھر ایک بندہ ہے۔ دکھتا تو انگریز ہے، لیکن ہے اپنا۔ یعنی انگریزی بالکل نہیں بول سکتا ۔ بس گونگا سا ہے۔ کسی سے بات چیت نہیں کرتا۔ انگریز کہہ رہا تھا کہ اس کے خیال میں وہ گونگا شاید ایشائی تھا۔
فیروز الدین کے دل میں جیسے کوئی گھنٹی بجی۔
دکھتا انگریز ہے، لیکن ہے اپنا۔
گونگا سا ہے۔
بات نہیں کرتا۔
یہ کوئی معمولی اشارہ نہ تھا۔
فیروز نے فوراً کہا: “مجھے اس آدمی سے ملاؤ۔”
پہچان
جانے کتنے دنوں بعد اس فیروز کے اس ایشیائی واقف کار نے فیروز کی اس ‘ گونگے انگریز’ سے ملاقات کروا دی۔
جو آدمی سامنے آیا، وہ کوئی اور نہیں ، وہ فضل الٰہی تھا۔
وہ چہھلا تھا۔
چک ہریام کا چہھلا۔
وہی جسے گاؤں والے برسوں پہلے کھو چکے تھے۔ وہی جو شاید ان کے دلوں میں مر چکا تھا۔ وہی جس کے لیے شاید فاتحہ پڑھی جا چکی تھی۔
کہتے ہیں چہھلا نے فیروز کو دیکھا تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔ دس سال کی خاموشی پھٹ پڑی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ جیسے کسی نے بند دروازہ کھول دیا ہو۔ جیسے کسی نے اس کا نام واپس کر دیا ہو۔ جیسے کسی نے اس کی زبان دوبارہ زندہ کر دی ہو۔
انگریز عورت بھی رونے لگی۔
اس کے لیے بھی یہ لمحہ آسان نہ تھا۔ جس آدمی کو اس نے سردی سے اٹھا کر گھر دیا تھا، جس کے ساتھ دس برس گزارے تھے، جس سے اس کی دو بیٹیاں تھیں، آج اچانک اس کا ماضی اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ آدمی صرف وہ نہیں تھا جو اس کے گھر میں رہتا تھا۔ اس کے اندر ایک اور دنیا تھی: ایک گاؤں، ایک خاندان، ایک زبان، ایک مٹی۔
فیروز الدین نے اس عورت کو بتایا کہ یہ اس کا بھائی ہے۔ یہ ان کے لیے کئی سال پہلے مر چکا تھا۔ گاؤں میں اس کا ختم فاتحہ بھی پڑھایا جا چکا تھا۔ فیروز نے کہا کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ اگر اس نے اس پر کچھ خرچ کیا ہے تو وہ ادا کرنے کو تیار ہے۔




