آذاد جموں و کشمیر انقلابی حکومت۔تاریخ، دستاویز اور سوال۔

شئر کریں

آزاد جموں و کشمیر: آزادی، اقتدارِ اعلیٰ اور بیانیے کا فرق
ایک تاریخی جائزہ – 18 جولائی سے 26 اکتوبر 1947 تک۔۔۔
آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہمیں مندرجہ ذیل تاریخوں کو الگ الگ دیکھنا پڑے گا –
“”18جوالائ مسلم کانفرنس کی آفیشل آئنی قرارداد خود مختار جموں کشمیر۔۔مہاراجہ آذادی کا اعلان کرے

“”19 جولائی،مسلم کانفرنس کے چند لوگوں کی غیر آئینی ۔قرارداد الحاق پاکستان

“”22 اکتوبر قبائلی حملہ یا لشکر کشی
“”24 اکتوبر کی حکومت آذاد جموں و کشمیر
“”26 اکتوبر۔ الحاق بھارت کی دستاویز
تینوں تاریخیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں، لیکن ہر ایک کا قانونی وزن مختلف ہے۔

.18..19 جولائی 1947 – دو اجلاس، دو بیانئے۔

اس دن کے حوالے سے دو روایات ملتی ہیں۔

الف) 18جولائی، مسلم کانفرنس کی مجلسِ عاملہ کا آئینی اجلاس:
مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دفعہ 144 کے باوجود ہوا۔ کورم پورا تھا۔باقاعدہ بحث ہوئ اس میں یہ موقف زیرِ بحث آیا کہ اگر مہاراجہ بھارت سے الحاق کرے گا تو مسلم اکثریت قبول نہیں کرے گی، اور اگر پاکستان سے کرے گا تو غیر مسلم اقلیت قبول نہیں کرے گی، اس لیے ریاست کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ریاست خودمختار رہے۔ یہ موقف اس وقت قائدِ اعظم کے ابتدائی پیغامات سے بھی ہم آہنگ تھا۔ جسٹس یوسف سراف نے “Kashmiris Fight for Freedom” میں اس کا ذکر کیا ہے۔

ب) 19 جولائی شام، سردار محمد ابراہیم خان کے گھر آبی گزر میں بیٹھک:
دفعہ 144 اور گرفتاریوں کی وجہ سے جنرل کونسل کا کورم پورا نہیں تھا۔ حاضرین کی تعداد 20 کے لگ بھگ تھی۔ وہاں جذباتی تقاریر کے بعد ہاتھ کھڑے کر کے الحاقِ پاکستان کی حمایت کی گئی۔ یہ بیٹھک آئینی نہیں تھی، اسی کو “19 جولائی کی قراردادِ الحاقِ پاکستان” کے نام سے آذاد جموں و کشمیر کا سرکاری بیانیہ بنا دیا گیا۔

نتیجہ: ایک آئینی غور و فکر کو پسِ پشت ڈال کر ایک ہنگامی بیٹھک کو مستقل بیانیہ بنایا گیا۔ یہی سے تاریخ میں افسانوی رنگ آیا۔

“””قانونِ آزادیِ ہند 1947 – حق کس کا تھا؟

انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ کی دفعہ 7 کے مطابق برطانوی بالادستی (Paramountcy) ختم ہونے پر ریاستوں کو حق دیا گیا کہ ان کا رولر (حکمران) بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کر سکتا ہے۔

اس قانون میں “عوام کی خواہش” کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ عوام کی خواہش کا ذکر
ماؤنٹ بیٹن کی سیاسی تجویز اور بعد میں معاہدہ اٹلانٹک (14 اگست 1941) کے اصول نمبر 2 اور 3 میں آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ “کوئی علاقائی تبدیلی وہاں کے عوام کی آزاد مرضی کے بغیر نہیں ہونی چاہیے اور ہر قوم کو اپنی حکومت خود چننے کا حق ہے۔”

اسی تضاد کی وجہ سے جموں و کشمیر کا مسئلہ بنا – قانوناً حق رولر کا تھا،
“””22اکتوبر ریاست پر قبائلی حملہ ۔

“”24 اکتوبر
24 اکتوبر 1947: آزاد حکومت کا اعلان و قیام۔ سردار محمد ابراہیم خان کو راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر خواجہ عبدالرحیم نے رات تین بجے اطلاع دی کہ آپ کو صدر بنایا گیا ہے۔ اس وقت مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری غلام عباس سری نگر جیل میں تھے، اور قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ خان راولپنڈی میں موجود تھے لیکن ان سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ کیوں مشورہ نہیں کیا گیا ۔
مسلم کانفرنس کے قائم مقام صدر کو مشاورت سے باہر رکھنا ؟

“””26 اکتوبر 1947: مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں میں Instrument of Accession پر دستخط کیے. اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط لکھا کہ قبائلی یلغار کی وجہ سے وہ بھارت سے مدد چاہتے ہیں۔ ماؤنٹ بیٹن نے 27 اکتوبر کو الحاق قبول کرتے ہوئے لکھا کہ “جیسے ہی امن قائم ہوگا، الحاق کا فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہیے۔” یہی جملہ بعد میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد بنا۔

یوں 24 اکتوبر ریاست کی تقسیم کی علامت بنا
اور 26 اکتوبر قانونی دستاویز کی۔

“” ڈھانچے کا تسلسل – لنٹ آفیسرز اور حلف

1947 میں قدرت اللہ شہاب بطور پہلے چیف سیکرٹری تعینات ہوئے۔ وہ خود “شہاب نامہ” میں لکھتے ہیں کہ ان کے پاس دفتر تک نہیں تھا۔ یہ روایت آج تک قائم ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، سیکرٹری خزانہ جیسے کلیدی عہدے پاکستان سے ڈیپوٹیشن (Lent Officers) پر آتے ہیں اور ان پر کوئی ریاستی باشندہ تعینات نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح عبوری آئین 1974 کی دفعہ 7(2) کے تحت اسمبلی کے امیدوار اور سرکاری ملازم کے لیے نظریہ الحاقِ پاکستان سے وفاداری کا حلف لازمی ہے۔ یہ شق جواز کے طور پر 1947 کی مجبوریوں سے جڑی ہے، لیکن دلیل کے طور پر یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ اگر فیصلہ عوام کی آزاد مرضی سے ہونا ہے (معاہدہ اٹلانٹک اور ماؤنٹ بیٹن کے خط کے مطابق) تو نوکری کے لیے ایک مخصوص نظریے کا حلف کیوں؟

خلاصہ:

۔ ہزاروں لوگوں نے جان دی۔ لیکن یہ آزادی مکمل اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) میں تبدیل نہیں ہو سکی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد میں تین چیزیں شامل رہیں:

  1. ایک آئینی سوچ (خودمختاری) کو چھوڑ کر ایک ہنگامی سوچ (الحاق) کو سرکاری بیانیہ بنایا گیا۔
  2. حکومت بنی، لیکن عہدوں کی تقسیم انتظامی فیصلے سے ہوئی۔
  3. ڈھانچہ ایسا بنایا گیا جس میں علامتی عہدے ریاستی اور انتظامی عہدے غیر ریاستی رہے۔

اس لیے آج بھی ہماری تاریخ میں جواز موجود ہے، لیکن دلیل کمزور ہے۔ جواز یہ کہ 1947 میں حالات ایسے تھے۔ دلیل یہ کہ جس حکومت کو چپڑاسی بھرتی کرنے کے لیے بھی نظریاتی فلٹر سے گزرنا پڑے، اسے مکمل خودمختار کہنا مشکل ہے۔

آزادی اور اقتدارِ اعلیٰ میں یہی فرق ہے۔ آزادی کا مطلب ہے کسی اور کی غلامی سے نکلنا، اقتدارِ اعلیٰ کا مطلب ہے اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار۔ ہم پہلے مرحلے سے ہی نہیں نکلے، دوسرے مرحلے تک کیسے پہنچے گے۔

مصنف کے بارے میں

Adrees Shrar
سیاسی کارکن/رائٹر۔جموں اینڈ کشمیر
تحریک بحالی ریاست

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *