اکتوبر 1947 کا قبائلی حملہ: وہ تاریخی موڑ جس نے خطۂ کشمیر کو مستقل تنازع اور تقسیم کی آگ میں جھونک دیا
تحقیقی و تجزیاتی رپورٹ | بی بی سی اردو کے تاریخی شواہد و عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں
27 اکتوبر 1947 کو ہندوستان کے وائس رائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریاست جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ عارضی معاہدۂ الحاق پر دستخط کیے، لیکن اس سے ٹھیک پانچ روز قبل—22 اکتوبر 1947 کو—شمال مغربی قبائلی پٹی سے آنے والے جنگجوؤں نے کشمیر کی سرحدیں عبور کر کے مظفر آباد پر دھاوا بول دیا تھا۔ یہ پیش قدمی بعد میں جنوبی ایشیا کے سب سے پیچیدہ اور المناک علاقائی تنازع کی بنیاد بن گئی جس کے اثرات آج بھی پوری شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ڈب گلی کی خاموشی اور طوفان سے قبل کا منظر نامہ
پاکستانی قصبے گڑھی حبیب اللہ کے مغرب اور مظفر آباد کے مشرق میں 1800 فٹ کی بلندی پر واقع ڈب گلی کا علاقہ خیبر پختونخوا اور کشمیر کا روایتی سرحدی مقام ہے۔ مقامی عینی شاہد 86 سالہ محمد حسن قریشی بتاتے ہیں کہ قبائلی لشکر کی آمد سے قریباً ایک ہفتہ قبل علاقے میں سکھ برادری اور ریاستی کارروائیوں کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی تھیں، اور جلد ہی خبریں آنے لگیں کہ قبائلی لشکر پیش قدمی کر رہا ہے۔
21 اکتوبر کی شام بتراسی کے راستے ٹرکوں پر سوار سینکڑوں جنگجوؤں نے پیش قدمی کی جن کے پاس تلواریں، کلہاڑیاں، لاٹھیاں اور روایتی ہتھیار تھے۔ سرحدی چوکیوں پر تعینات ڈوگرا راج کے محافظ چوکی چھوڑ کر غائب ہو چکے تھے اور اگلے ہی روز یہ لشکر مظفر آباد میں داخل ہو گیا۔
مظفر آباد اور بارہ مولا میں تباہی کے مناظر
دوسری جنگِ عظیم کا عسکری تجربہ رکھنے والے گوہر رحمان، جو اس وقت اس لشکر کا حصہ تھے، کے مطابق تقریباً دو ہزار قبائلی جنگجوؤں نے جن میں وزیر، محسود، طوری، آفریدی، مہمند اور یوسف زئی قبائل کے افراد شامل تھے، لوہار گلی اور مختصر پہاڑی راستوں کے ذریعے مظفر آباد پر دھاوا بولا۔
مظفر آباد میں تعینات ریاستی فوج، جسے اندرونی بغاوت کا بھی سامنا تھا، منتشر ہو گئی۔ اس فتح کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر آگ لگی، اسلحہ خانے لوٹ لیے گئے اور بازار نذرِ آتش کر دیے گئے۔ گوہر رحمان کے مطابق، اس حملے میں اندھا دھند تشدد، املاک کی لوٹ مار اور بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان کے دلخراش واقعات پیش آئے، جس نے پرامن کشمیری سماج کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔
مظفر آباد میں تین دن گزارنے کے بعد قبائلی جنگجو دریائے جہلم کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بارہ مولا اور سرینگر کے مضافات تک پہنچ گئے۔
معاہدۂ الحاق اور مستقل تقسیم کی لکیر
قبائلی پیش قدمی اور دارالحکومت کے گھیراؤ کے تناظر میں مہاراجہ ہری سنگھ نے نئی دہلی سے فوجی مدد کی درخواست کی اور 26 اکتوبر کو الحاق کی متنازع دستاویز پر دستخط کیے۔ 27 اکتوبر کو بھارتی افواج نے فضائی راستے سے سرینگر پہنچ کر پوزیشنیں سنبھال لیں۔
اگرچہ قبائلی جنگجو گوریلا انداز میں لڑ رہے تھے، لیکن باقاعدہ منظم فوجی دستوں کی آمد اور فضائی بمباری کے باعث نومبر کے اختتام تک انہیں اوڑی کے راستے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کے بعد موسمِ سرما کی شدید برف باری نے عسکری پیش قدمی روک دی، اور وہ لکیر کھینچ دی گئی جو آج تک کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیے ہوئے ہے۔ سنہ 1948 میں باقاعدہ افواج نے ان پوزیشنوں پر سرحد کا انتظام سنبھال لیا۔
غیر ریاستی عناصر کی حکمتِ عملی اور خطے پر اس کے اثرات
عسکری مورخین، بشمول میجر (ر) آغا ہمایوں امین، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 1947 کے قبائلی حملے نے غیر ریاستی عناصر کو اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی وہ سوچ متعارف کرائی جس نے خطے میں سیاسی و جمہوری عمل کو کمزور کیا۔
اس عسکری مہم جوئی نے کشمیری عوام کو ان کے اپنے جمہوری مستقبل، وحدت اور خود اختیاری سے محروم کر کے دو جوہری طاقتوں کے درمیان ایک ایسا فلیش پوائنٹ بنا دیا جس کا خمیازہ دونوں جانب کے کشمیری عوام آج بھی بنیادی حقوق کی پامالی اور سیاسی عدم استحکام کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
واقعات کی ٹائم لائن: جون تا اکتوبر 1947
- 3 جون 1947: برطانوی حکومت کی جانب سے تقسیمِ ہند (ماؤنٹ بیٹن پلان) کا اعلان۔
- 15 جون 1947: پونچھ کے علاقے میں عوام کی جانب سے ڈوگرا راج کے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف مزاحمت کا آغاز۔
- 12 ستمبر 1947: کشمیر کی سیاسی و قبائلی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی عسکری و سول مشاورت۔
- 22 اکتوبر 1947: قبائلی لشکر کا مظفر آباد پر دھاوا، بارہ مولا کی طرف پیش قدمی۔
- 24 اکتوبر 1947: سردار ابراہیم خان کی جانب سے آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے قیام کا اعلان۔
- 26-27 اکتوبر 1947: مہاراجہ ہری سنگھ کا الحاق اور بھارتی فوجیوں کا ہوائی جہازوں کے ذریعے سرینگر ائیرپورٹ پر اترنا۔
مصنف کے بارے میں
تازہ ترین خبروں
رائے10/23/2026اکتوبر 1947: بارہ مولا کے سینٹ جوزف ہسپتال کا خونی المیہ اور ڈائکس خاندان کی داستانِ بقا
رائے10/23/2026اکتوبر 1947 کا قبائلی حملہ: وہ تاریخی موڑ جس نے خطۂ کشمیر کو مستقل تنازع اور تقسیم کی آگ میں جھونک دیا
خبریں07/31/2026کشمیر کے شہدا اور حقوق کے لیے آواز: اسلام آباد کے ایف-10 مرکز میں سینیٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں جلسہ کشمیر کا انعقاد
خبریں07/29/2026زاد کشمیر کے حقوق کے لیے آواز: اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج
