اکتوبر 1947: بارہ مولا کے سینٹ جوزف ہسپتال کا خونی المیہ اور ڈائکس خاندان کی داستانِ بقا
تحقیقی و تاریخی دستاویزی رپورٹ | بی بی سی کے سابق نامہ نگار ڈاکٹر اینڈریو وائٹ ہیڈ کی فیلڈ انویسٹی گیشن اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی
27 اکتوبر 1947 کی صبح جب ریاست جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں اقتدار کی رسہ کشی عروج پر تھی، اس وقت سرینگر سے محض پچاس کلومیٹر دور بارہ مولا کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع سینٹ جوزف کیتھولک مشنری ہسپتال میں ایک انسانی المیہ جنم لے رہا تھا جس نے آنے والی دہائیوں تک برطانوی، کشمیری اور بین الاقوامی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ دیے۔ ایک نوجوان برطانوی فوجی افسر، ان کی نرس اہلیہ، ہسپتال کا عملہ اور مریض—سب اس پرتشدد لہر کی نذر ہو گئے جس نے کشمیر کو تقسیم اور مستقل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
ستر برس بعد، نومبر 2017 میں، اس حملے میں یتیم ہونے والے دو بیٹے—جن کے بال اب سفید ہو چکے تھے—زندگی میں پہلی اور شاید آخری بار اس جگہ پہنچے جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی اور جہاں ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کا قتل عام کیا گیا تھا۔
بارہ مولا کا سینٹ جوزف ہسپتال: خدمت کی علامت جو میدانِ جنگ بنی
1940 کی دہائی میں بارہ مولا کا سینٹ جوزف ہسپتال وادی کا ایک معتبر اور خوش نام طبی مرکز تھا۔ پہاڑوں کے پس منظر میں واقع اس ہسپتال کو 16 کیتھولک راہبائیں (ننز) چلا رہی تھیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق اٹلی، سپین اور برطانیہ سے تھا۔ یہ ادارہ مقامی آبادی، بالخصوص ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کے لیے صحت اور زچگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرتا تھا، اور اس کے دروازے ہر مذہب و قومیت کے لیے کھلے تھے۔

لیفٹیننٹ کرنل ٹام ڈائکس سینڈہرسٹ سے تربیت یافتہ باصلاحیت برطانوی فوجی افسر تھے۔ انہوں نے 1940 میں تاج محل کے شہر آگرہ میں نرس بِڈی (Biddy) سے شادی کی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر کرنل ٹام نے برطانوی ہند سے انگریز فوج کے انخلا کے بعد نوتشکیل شدہ انڈین آرمی کی سکھ رجمنٹ میں چند ماہ کے لیے عارضی ذمہ داری قبول کی تھی تاکہ اختیارات اور فوجیوں کی پرامن منتقلی میں مدد کی جا سکے۔
اکتوبر 1947 کے اوائل میں بِڈی نے اسی ہسپتال میں اپنے تیسرے بیٹے جیمز کو جنم دیا۔ لیکن کشمیر کی فضا میں بارود کی بو پھیل رہی تھی۔ قبائلی پیش قدمی اور سرحدی جھڑپوں کی خبریں سن کر کرنل ٹام ڈائکس خطرے کی پروا کیے بغیر راولپنڈی سے بارہ مولا پہنچے تاکہ اپنی اہلیہ، نوزائیدہ بچے اور دو کمسن بیٹوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر لے جا سکیں۔
وہ خطوط جو التجا بن کر رہ گئے
خاندان کے تاریخی ریکارڈ میں محفوظ خطوط اس خوف اور بے بسی کی عکاسی کرتے ہیں جو اس وقت وادی پر مسلط تھی۔ اپنی موت سے بمشکل دس دن پہلے بِڈی نے اپنے شوہر کے نام ایک جذباتی خط میں لکھا تھا کہ سکیورٹی کے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں اور وہ بے تابی سے ان کی آمد کا انتظار کر رہی ہیں۔
کرنل ٹام جب بارہ مولا پہنچے تو حالات اتنے بگڑ چکے تھے کہ عام سڑکوں پر سفر ناممکن ہو گیا تھا۔ انہوں نے سرینگر میں تعینات ایک اعلیٰ برطانوی فوجی افسر کو ایک ہنگامی خط تحریر کیا:
“میں اس وقت سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اپنے خاندان کو لینے بارہ مولا آیا ہوں۔ اگر آپ یہاں فوری طور پر ایک محفوظ گاڑی بھیج سکیں تو میں بے حد ممنون ہوں گا۔”
لیکن امداد نہ پہنچ سکی۔ سڑکیں کٹ چکی تھیں اور جنگجو تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ دو دن بعد وہ المیہ پیش آ گیا جس کا خدشہ تھا۔
27 اکتوبر کی خونریز صبح: ہسپتال پر دھاوا
27 اکتوبر 1947 کو قبائلی حملہ آوروں نے سینٹ جوزف ہسپتال پر دھاوا بول دیا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے چشم دید گواہ اور سب سے بڑے بیٹے ٹام ڈائکس (جو 2003 میں وفات پا گئے) نے اپنی یادداشتوں میں بیان کیا تھا:
“جب میری آنکھ کھلی تو چاروں طرف گولیوں کی بوچھاڑ اور دھماکے ہو رہے تھے۔ مسلح حملہ آوروں نے ہمارے کمرے کے لکڑی کے دروازے کو توڑنا شروع کیا۔ دروازے کے تختے ٹوٹ کر اندر گر رہے تھے اور دراڑوں میں سے ان کے پرتشدد چہرے صاف نظر آ رہے تھے۔ وہ اندھا دھند لوٹ مار کر رہے تھے اور ہر قیمتی سامان کو چادروں میں لپیٹ کر گٹھڑیاں بنا رہے تھے۔”
خاندان کا ایک وفادار کشمیری ملازم کسی طرح پانچ سالہ ٹام کو اٹھا کر قاتلوں سے دور ایک محفوظ کونے میں چھپانے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن مرکزی برآمدے میں موت کا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔
راہباؤں پر حملے کو روکنے کے لیے جب کرنل ٹام ڈائکس آگے بڑھے تو حملہ آوروں نے ان پر گولیاں برسا دیں۔ ان کے ٹھیک پیچھے ان کی اہلیہ بِڈی اپنے دو سالہ بیٹے ڈوگلس کو بچانے کے لیے چیختی ہوئی لپکیں، لیکن حملہ آوروں نے انہیں بھی موقع پر ہی گولی مار دی۔
اس صبح ہسپتال میں کل چھ افراد لقمۂ اجل بنے:
- لیفٹیننٹ کرنل ٹام ڈائکس (برطانوی فوجی افسر)
- بِڈی ڈائکس (ان کی اہلیہ اور نرس)
- جوز بیرٹو (ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر کے شوہر، جو راہباؤں کو بچاتے ہوئے نشانہ بنے)
- نرس فلمینا (جو زیرِ علاج مریضوں کو بچاتے ہوئے ماری گئیں)
- سسٹر ٹرسیلینا (سپین سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ نو بیاہتا راہبہ، جو ایک ضعیف مریضہ کا دفاع کرتے ہوئے جاں بحق ہوئیں)
- موتی دیوی کپور (ہسپتال کے بیڈ پر زیرِ علاج ایک مقامی مریضہ، جنہیں بستر پر ہی قتل کر دیا گیا)
زندہ بچ جانے والی اطالوی راہبہ سسٹر ایملا نے بعد میں بیان کیا کہ حملہ آور دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے، دروازوں کے تالے توڑے، ننز کے ساتھ سخت بدسلوکی کی اور جو سامنے آیا اسے گولیوں کا نشانہ بنایا۔
وارڈ میں 10 روز کی قید اور معجزاتی بقا
حملے کے بعد ہسپتال کو حملہ آوروں نے اپنے ایک عارضی لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ ڈپو کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ڈائکس کے تینوں یتیم بچوں کو تقریباً 70 دیگر مقامی و غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ایک وارڈ میں محبوس کر دیا گیا۔ باہر میدانِ جنگ برپا تھا اور اوپر سے انڈین ایئر فورس کے طیارے پوزیشنوں پر بمباری کر رہے تھے۔
دس دن تک موت کے سائے میں رہنے کے بعد جب محاصرہ ٹوٹا تو بچے بازیاب ہوئے۔ دو بڑے بھائی تو ہوائی جہاز اور بحری جہاز کے ذریعے برطانیہ پہنچا دیے گئے، لیکن دو ہفتے کا شیر خوار بچہ جیمز شدید بیماری اور کمزوری کی وجہ سے سفر کے قابل نہ تھا۔ اس بچے کی جان برطانوی جنرل سر فرینک میسروی کی اہلیہ لیڈی میسروی نے بچائی، جنہوں نے راولپنڈی میں مہینوں تک جیمز کی تیمارداری کی، جس کے بعد وہ برطانیہ جا سکا۔
بڑے ہو کر جیمز 18 سال کی عمر میں جنوبی افریقہ منتقل ہو گئے اور ایک ٹیکس کنسلٹنٹ بنے، جبکہ ڈوگلس لندن کے قریب ڈورکنگ میں شراب کشید کرنے کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔ خاندان میں اس خونی المیے پر دہائیوں تک مکمل خاموشی چھائی رہی۔
ستر برس بعد: بارہ مولا میں آنسوؤں کا نذرانہ
نومبر 2017 میں بی بی سی کی معاونت سے جب ڈوگلس اور جیمز ڈائکس بارہ مولا کے سینٹ جوزف ہسپتال پہنچے، تو مناظر ناقابلِ بیان تھے۔ ہسپتال کے پرسکون احاطے میں سیب اور اخروٹ کے درختوں تلے ان کے والدین کی قبریں موجود تھیں—کرنل ٹام دولتِ مشترکہ (Commonwealth) کے واحد باضابطہ فوجی ہیں جن کی قبر کشمیر کی وادی میں واقع ہے۔
ہسپتال کے راہداری میں کھڑے 72 سالہ ڈوگلس ڈائکس نے لرزتی آواز میں کہا:
“میں نے اس برآمدے میں اپنے والد اور والدہ کو خون میں لت پت گرتے دیکھا تھا۔ میں دہشت سے چیخ رہا تھا اور خود کو برسوں اپنی ماں کی موت کا قصوروار سمجھتا رہا کہ شاید وہ مجھے بچانے کے چکر میں آگے آئیں اور گولی کا شکار ہو گئیں۔ یہاں آنا ایک کٹھن اور روح فرسا تجربہ ہے۔”
جیمز ڈائکس اس چھوٹے سے زچہ خانے کے کمرے میں گئے جہاں ان کی والدہ نے انہیں جنم دیا تھا اور وہ جگہ بھی دیکھی جہاں اس ولادت کے محض دو ہفتے بعد ان کے والدین کو منوں مٹی تلے دبا دیا گیا تھا۔ ہسپتال کی مقامی طالبات اور راہباؤں نے موم بتیاں جلا کر اور گلاب کے پھول نچھاور کر کے 70 برس پرانے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تاریخی اثرات: وہ چنگاری جس نے کشمیر کو شعلہ بنا دیا
بارہ مولا کے مشنری ہسپتال پر حملہ اور وہاں ہونے والی بربریت نے محض ایک خاندان کا چراغ نہیں بجھایا، بلکہ اس نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردِ عمل پیدا کیا۔ اسی دن یعنی 27 اکتوبر 1947 کو ہندوستانی فوج کے دستے سرینگر کے ہوائی اڈے پر اترے تاکہ حملہ آوروں کو پسپا کر سکیں۔ قبائلیوں کی اس مہم جوئی نے کشمیری عوام کو ان کے اپنے جمہوری مستقبل، وحدت اور خود اختیاری سے محروم کر کے دو جوہری طاقتوں کے درمیان ایک ایسا مستقل فلیش پوائنٹ بنا دیا جس کا درد آج بھی لاکھوں خاندان محسوس کر رہے ہیں۔
مصنف کے بارے میں
تازہ ترین خبروں
رائے10/23/2026اکتوبر 1947: بارہ مولا کے سینٹ جوزف ہسپتال کا خونی المیہ اور ڈائکس خاندان کی داستانِ بقا
رائے10/23/2026اکتوبر 1947 کا قبائلی حملہ: وہ تاریخی موڑ جس نے خطۂ کشمیر کو مستقل تنازع اور تقسیم کی آگ میں جھونک دیا
خبریں07/31/2026کشمیر کے شہدا اور حقوق کے لیے آواز: اسلام آباد کے ایف-10 مرکز میں سینیٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں جلسہ کشمیر کا انعقاد
خبریں07/29/2026زاد کشمیر کے حقوق کے لیے آواز: اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج
