مرحلہ وار انتخابات کے نتائج کی قبولت ممکن ہے؟

شئر کریں

جلال الدین مغل
منگل، 21 جولائی 2026
اسلام آباد۔

آزاد جموں و کشمیر ایک مرتبہ پھر ایک ایسے نازک سیاسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں آئینی تقاضے، سیاسی صورت حال، زمینی حقائق اور عوامی اعتماد ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔ انتخابات کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر انتخابات کی اصل طاقت صرف پولنگ کے انعقاد میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے کہ عوام نتائج کو اپنی حقیقی رائے کا اظہار سمجھیں۔ اگر یہ اعتماد مجروح ہو جائے تو انتخابی عمل اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے باوجود سیاسی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات پر ماضی میں سب سے اہم اعتراضات میں سے ایک یہ رہا ہے کہ یہاں عام انتخابات پاکستان کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے الگ وقت پر کرائے جاتے ہیں۔ کئی حلقوں کا مؤقف ہے کہ جب وفاق اور چاروں صوبوں میں منتخب حکومتیں موجود ہوں تو ان کے اثرورسوخ، ریاستی وسائل اور انتظامی ڈھانچے کے استعمال کے الزامات جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرصہ دراز سے یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات بھی پاکستان کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ ایک ہی روز منعقد کیے جائیں تاکہ کم از کم اس تاثر کا خاتمہ ہو سکے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں یہاں کے انتخابی عمل پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

اس وقت آزاد کشمیر کے حالات معمول کے سیاسی ماحول کی عکاسی نہیں کرتے۔ احتجاج جاری ہے، کشیدگی موجود ہے اور مختلف علاقوں میں بے یقینی کی فضا پائی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں مرحلہ وار انتخابات یقیناً قانونی تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان کے نتائج کو وہ عوامی قبولیت بھی حاصل ہو جو ایک مستحکم جمہوری نظام کے لیے ناگزیر ہے۔

آج اگر صرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن احتجاج کر رہے ہیں تو یہ بعید از قیاس نہیں کہ مرحلہ وار انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد شکست خوردہ سیاسی جماعتیں بھی انہی احتجاجی صفوں کا حصہ بن جائیں۔ اس صورت میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوگا، اسمبلی کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھیں گے اور حکومت کے لیے معمول کی حکمرانی بھی ایک مشکل مرحلہ بن سکتی ہے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ گزشتہ انتخابات کے بعد حکومتوں کی تبدیلی، اقتدار کی مسلسل ‘میوزیکل چیئر’، سیاسی عدم استحکام اور اداروں کے درمیان کشیدگی نے عوام کے اعتماد کو پہلے ہی متاثر کیا ہے۔ اگر اس مرتبہ بھی انتخابات متنازع بن گئے تو خدشہ ہے کہ بحران ختم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر جائے گا۔

یقیناً آئین کا احترام ہر جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن آئین کا مقصد بھی عوام کے جان و مال، امن اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 میں جمہوری طرزِ حکومت، عوامی نمائندگی اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ان قوانین کی روح صرف مقررہ تاریخ پر ووٹنگ کرانا نہیں بلکہ ایسا انتخابی ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں ووٹر بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کر سکے اور نتائج کو وسیع پیمانے پر قبول کیا جائے۔

پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ بھی اس حوالے سے ایک اہم مثال پیش کرتی ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آئینی مدت سے تقریباً 93 دن تاخیر سے منعقد ہوئے، جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات بھی مقررہ مدت سے تقریباً 135 دن بعد کرائے گئے۔ ان انتخابات میں تاخیر پر سیاسی اور آئینی بحث ضرور ہوئی، مگر ریاستی نظام برقرار رہا اور انتخابی عمل بالآخر مکمل ہوا۔ اس تناظر میں اگر آزاد کشمیر میں بھی حالات معمول پر لانے، سیاسی کشیدگی کم کرنے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے محدود مدت کی تاخیر ناگزیر ہو تو اسے محض آئینی بحران قرار دینا شاید زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

البتہ ایسی کسی بھی تاخیر کا جواز صرف اور صرف غیر معمولی حالات اور وسیع تر قومی مفاد ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی سہولت۔ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات ہر حال میں انتخابی عمل کو فی الحال التواء میں رکھنے کے متقاضی ہیں۔ اس ضمن میں تمام آئینی اداروں، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے سے ایسا قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ناگزیر ہوگا جس سے آئین کی بالادستی بھی برقرار رہے اور انتخابی عمل کی ساکھ بھی متاثر نہ ہو۔

آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سیاسی بصیرت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جائیں، کشیدگی کم کی جائے، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں ہر سیاسی جماعت اور ہر ووٹر کو انتخابی عمل پر اعتماد ہو۔ اگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا حقیقی خطرہ موجود ہو تو ریاست کی اولین ذمہ داری انسانی جانوں کا تحفظ ہے، کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام کی اصل طاقت انسان ہے، صرف انتخابی شیڈول نہیں۔

آخرکار سیاسی تنازعات کا حل سیاسی ہی ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک ایسا انتخاب چاہتے ہیں جس کے نتائج کو عوام، سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے یکساں طور پر قبول کریں، تو محض مقررہ تاریخ پر ووٹنگ کرانا کافی نہیں ہوگا۔ اصل کامیابی ایسے انتخابات ہیں جو نہ صرف آئینی تقاضے پورے کریں بلکہ عوام کے اعتماد کی بھی حقیقی عکاسی کریں۔ یہی اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

جلال الدین مغلجلال الدین مغل

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *