ایکشن کمیٹی اور رعایتوں کی سیاست
تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمن
ہم نے اسی برسوں میں یہ سیکھا ہے کہ ہمارا اصل حق وہی ہے جو ہمیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا رہے۔ ایسے اقدامات جن کے نتیجے میں ہمیں باعزت روزگار یا کاروبار کا موقع میسر آنے کی امید ہو، وہ ہماری ترجیحات میں کہیں بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی ہم ایسی پالیسیاں بناتے چلے آ رہے ہیں جن سے لوگوں میں مفت خوری کی عادت پختہ ہو، اور محض اسی مقصد کے حصول پر سالانہ سیکڑوں ارب روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہی سوچ اب ہم سب کے ذہنوں پر اس قدر حاوی ہو چکی ہے کہ بظاہر انقلابی خیالات کے حامل افراد بھی، اگر غور کیا جائے تو، دراصل بغیر محنت حاصل ہونے والی رعایتوں ہی کے لیے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کی ہیلی کاپٹر منی helicopter money کی بارش سے کبھی ترقی کی راہیں نہیں کھلا کرتیں، کیونکہ ترقی کی بنیاد محنت، پیداوار اور مسابقت پر رکھی جاتی ہے، خیرات پر نہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنی طویل جدوجہد کے نتیجے میں آزاد کشمیر کے عوام کے لیے دو اہم رعایتیں حاصل کیں۔ ان میں سے ایک رعایت اس نوعیت کی تھی کہ اگر اس کا درست اور دور اندیشانہ استعمال کیا جاتا تو آزاد کشمیر کو خطے کا ایک بڑا کاروباری مرکز بنایا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کے لیے مسلسل محنت، منصوبہ بندی اور استقامت درکار تھی، اور بدقسمتی سے محنت ہمارا قومی شعار کبھی رہا ہی نہیں۔
دنیا اس وقت بنیادی طور پر پیداواری لاگت کے مقابلے کے میدان میں کھڑی ہے۔ جس ملک یا خطے میں پیداواری لاگت نسبتاً کم ہوگی، وہی اپنے اطراف و جوانب کی منڈیوں پر غالب آئے گا۔ چین اور بھارت کی حالیہ دہائیوں کی اقتصادی ترقی اسی ایک نسخہ کیمیا کی مرہونِ منت ہے۔ آزاد کشمیر بھی اس لاگت کی جنگ جیتنے کی ایک نادر پوزیشن میں تھا۔ یہاں بجلی کی لاگت بہت کم ہے، لیبر کاسٹ نسبتاً کم ہے، رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں کم ہیں، اور صنعت کاروں کے لیے پہلے پانچ برس تک مکمل ٹیکس چھوٹ بھی میسر ہے۔ کاروبار کے فروغ کے لیے اس سے زیادہ سازگار ماحول اور کیا درکار ہو سکتا ہے؟ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جن تاجر حضرات نے اس تحریک کی قیادت کی، انہیں یہ رعایتیں حاصل کیے دو برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر کوئی صنعتی انقلاب برپا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ میرے نزدیک تو اتنے عرصے میں میرپور کو سیالکوٹ کی سطح تک پہنچ جانا چاہیے تھا، اور گرد و نواح کی پوری منڈی پر آزاد کشمیر کی مصنوعات کا غلبہ ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن یہاں تو مقامی ضروریات کے لیے سازوسامان تیار کرنے کا کوئی نیا یونٹ بھی قائم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہم تو ابھی تک محض پانی کی بوتل پیک کرنے کا بھی مناسب بندوبست نہیں کر پائے، چہ جائیکہ کسی بڑی صنعتی سرمایہ کاری کی بات کی جائے۔
مفت خوری کی خواہش ایک ایسی منحوس روش ہے جس کا کوئی کنارا نظر نہیں آتا۔ ہم نے مزید رعایتوں پر رعایتیں طلب کرنا شروع کر دیں، یہاں تک کہ اپنے جائز مطالبات کو بھی خیرات کی صورت میں حاصل کرنے پر اصرار شروع کر دیا۔ مہاجرین کی نشستوں کی ریشنلائزیشن یقیناً ایک بالکل حق بجانب مطالبہ ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن ہر جائز مطالبے کے حصول کا ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔ درست راستہ یہ تھا کہ قانونی عمل سے گزر کر قانون سازی کے میدان کا حصہ بنا جاتا، اور اپنی مرضی کے مطابق قانون سازی کروائی جاتی۔ لیکن ہم نے اصرار کیا کہ یہ حق ہمیں براہِ راست تھالی میں سجا کر پیش کیا جائے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہم نے دباؤ اور دھونس کا راستہ اختیار کیا۔ اسی رویے کے نتیجے میں وہ ڈیڈلاک پیدا ہوا جو اب تک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
میرے نزدیک اصل عوامی فلاحی مطالبات میں روزگار کے ذرائع، صنعت کاری، سیاحت اور زراعت جیسے شعبے سرِفہرست ہونے چاہئیں تھے۔ اس کے برعکس ہم نے حکومتی امور میں براہِ راست مداخلت کی راہ اختیار کر لی: سیکرٹریوں کی تعداد ہم متعین کریں گے، وزرا کی تعداد ہم طے کریں گے، اور اسی نوعیت کے دیگر مطالبات جن کا عوامی فلاح سے کوئی براہِ راست تعلق موجود نہیں۔
اگر تھوڑا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک حقیقتاً جائز اور مؤثر مطالبہ یہ ہو سکتا تھا کہ منگلا ڈیم کی ملکیت آزاد کشمیر کو منتقل کی جائے۔ ہائڈرو الیکٹریسٹی کے جومنصوبے Build-Operate-Own-Transfer (BOOT) ماڈل کے تحت تعمیر کئے جاتے ہیں، ان کی ملکیت عمومی طور پر پچیس برس بعد متعلقہ علاقائی حکومت کو منتقل کی جاتی ہے۔ منگلا ڈیم اپنی اس متعینہ عمر سے دگنا سے بھی زائد عرصہ گزار چکا ہے، یعنی پچاس برس سے زیادہ۔ اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ منگلا ڈیم کا انتظامی اور ملکیتی اختیار آزاد کشمیر حکومت کے سپرد کیا جائے، تاکہ وہ اپنی پیدا کردہ بجلی مارکیٹ ریٹ کے مطابق فروخت کر سکے، اور وفاقی حکومت اس آمدن میں سے اپنا مناسب حصہ وصول کرتی رہے۔ کسی زمانے میں اس سے ملتا جلتا مطالبہ ایکشن کمیٹی کی زبان پر بھی رہا ہے، لیکن رفتہ رفتہ یہ مطالبہ نظر انداز ہوتا چلا گیا، اور اس کی جگہ تین بورڈ، پچیس یونیورسٹیاں، اور ڈیڑھ ہزار کالج جیسے مطالبات نے لے لی۔ ان میں سے ہر ایک پروجیکٹ کے لیے اضافی فنڈنگ درکار ہے، اور ہر فنڈنگ کے حصول کے لیے وفاق کی طرف الگ سے درخواستیں جمع کروانی پڑیں گی، یعنی مستقل انحصار کا ایک نیا سلسلہ۔ اگر اس کے برعکس منگلا ڈیم کا حقِ ملکیت آزاد کشمیر کو منتقل ہو جاتا تو آزاد حکومت اپنے وسائل سے ایسے مطالبات از خود پورے کرنے کی پوزیشن میں آ جاتی، اور ہمیں بار بار وفاق کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑتا۔
رعایتیں حاصل کرنے کی اس دیرینہ جدوجہد میں ہم نے اپنی مقامی معیشت کا مزید بیڑا غرق کروا لیا۔ سیاحت کا پورا سیزن، جو ہمارے کاروباری طبقے کے لیے سال بھر کی روزی روٹی کا ذریعہ ہوتا ہے، ہم نے اپنے ہاتھوں ضائع کر دیا۔ چھوٹے کاروباریوں، دکانداروں اور دہاڑی دار مزدوروں کے حقِ روزگار پر ہم نے خود اپنے ہاتھوں ہتھوڑے برسا دیے۔ جو طبقہ ان مطالبات اور احتجاجی سیاست کا سب سے کمزور اور بے آواز شکار بنا، وہی دراصل وہ عام آدمی تھا جس کی فلاح کے نام پر یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔
میرے نزدیک اب اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ مطالبات کو صحیح معنوں میں عوام کی حقیقی فلاح کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ روزگار، صنعت کاری اور زراعت جیسے شعبوں کو پہلی ترجیح دی جائے، اور مہاجرین کی نشستوں جیسے معاملے کو اس کے مناسب آئینی طریقہ کار کے مطابق ہی نمٹایا جائے، نہ کہ سڑکوں پر دباؤ کے ذریعے۔ لیکن اب ڈیڈلاک اتنا طویل ہو چکا ہے، اور دونوں فریق اپنی اپنی پوزیشنز پر اس قدر سختی سے براجمان ہو چکے ہیں کہ ان کے لیے اس پوزیشن سے دستبرداری اب محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی حیات و ممات کا سوال بن چکا ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود، عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ تمام مطالبات اور ان پر دیے گئے ردعمل کو ایک بار پھر عوامی فلاح کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ جن مطالبات میں مستقل خیرات یا انحصار کا پہلو نمایاں ہے، انہیں بالائے طاق رکھا جائے، اور اس کی بجائے ایسے مطالبات پر توجہ مرکوز کی جائے جو عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنائیں اور انہیں معاشی طور پر خود کفیل اور آزاد بنانے کی راہ پر گامزن کریں۔ انا کی اس بے فائدہ جنگ کو ترک کر کے، اب وقت آ گیا ہے کہ عوامی فلاح کی اصل جنگ کا آغاز کیا جائے، ایسی جنگ جو خیرات نہیں بلکہ خودداری، محنت اور خود انحصاری پر استوار ہو۔
مصنف کے بارے میں
تازہ ترین خبروں
رائے07/04/2026ایکشن کمیٹی اور رعایتوں کی سیاست
رائے06/17/2026احتجاج نہیں، انتخاب: تبدیلی کا مہذب راستہ
کاروبار05/23/2026ٹیکس کتنا جمع ہونا چاہئیے؟
رائے03/20/2025وادی نیلم میں متبادل زرائع سے توانائی کا حصول
