ایوری تھنگ از ناٹ آل رائیٹ ان اے جے کے

شئر کریں

جلال الدین مغل
سوموار، 22 جون 2026
اسلام آباد

مٹھی سے ریت سرکنے لگے توایک ہاتھ کو بھینچ کر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کے بجائے دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنانا علقمندی کا تقاضا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر میں مٹھی سے ریت مسلسل سرک رہی ہے مگر دونوں طرف کے فیصلہ ساز شکنجہ مزید کسنے کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔

ایک جانب لاتعلقی کی ویڈیوز آ رہی ہیں تو دوسری طرف راولاکوٹ میں جاری دھرنے سے شعلہ فشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ آخری اعلامیے میں 23 جون تک مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں مظفرآباد کی طرف پیش قدمی کا اعلان سامنے آیا ہے۔

فریقین ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ خاکم بدہن حالات ایک مرتبہ پھر تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اور تصادم کے نتیجے میں مزید انسانی جانوں کا ضیاع یقینی ہے۔

یہ احتجاجی تحریک پہلے ہی گزشتہ پچاس سالوں کے دوران آزاد کشمیر کی کسی دوسری احتجاجی تحریک کی نسبت زیادہ انسانی بھینٹ لے چکی ہے۔
میڈیا پر بلیک آوٹ کے باوجود پورا پاکستان آزاد کشمیر میں ہونے والی ہر پیش رفت سے با خبر ہے۔ کم از کم جملہ سیاسی قیادت اوربچی کھچی سول سوسائٹی کو اب تک کی صورتحال کا مکمل اندازہ ہے۔ مگر چار سو یا تو خاموشی ہے یا بے بسی۔

طاقت ریاست کا ہتھیارضرور ہے مگر اسے ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ تمام درمیانی آپشنز کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ طاقت سے شائد وقتی طور پر معاملات دب جائیں، مگر پھر اس کے رد عمل میں جو لہر اٹھے گی اس کے اثرات آزاد کشمیر کے گلی کوچوں، تک پھیل جائیں گے۔

یہ کشممکش اب آزاد کشمیر کے ہر گھر کو وباء کی طرح متاثر کر چکی ہے۔

تقریباً ہر خاندان میں 25 سال سے کم عمر کا کوئی نہ کوئی فرد ہوجود ہے۔ اس مخلوق کو جنریشن زی یا جین زی کہتے ہیں۔ جنریشن زی کے سوچنے سمجھنے اور چیزوں کو پرکھنے کا طریقہ کار اور انداز جدا ہے۔
ہم جس جنریشن سے ہیں، انہیں ملینیئلز کہتے ہیں اور ہم وہ آخری جنریشن ہیں جو دل و دماغ میں اٹھنے والے سوالات کو زبان پر لانے یا ذہنی کشمکش کا اظہار کرنے سے محض اس لیے رک جاتے ہیں کہ کسی کی شان میں گستاخی نہ ہو جائے یا کوئی اخلاقی حد نہ پار ہو جائے۔

جین زی ان بندشوں سے ماوراء ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش، کرفیو جیسے حالات، ویڈیو بیانات، ٹی وی سکرین پر چلتی آزاد جموں وکشمیر میں موسم کی خبریں، ٹالک شو میں رانا ثناء اللہ کی منمناتی وضاحتیں، قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی تحضیک آمیز تقریر۔ طارق فضل چودھری کے بیانات اور اپنے ارد گرد 12 روز سے جاری صورت حال میں تضاد سے اس جنریشن کے دل و دماغ میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ اور یہ نسل سوال پوچھنے سے ہر گز نہیں کتراتی۔ پوچھنے کو کوئی میسر نہ ہو تو گھر میں ماں باپ تو ہیں۔ اس جنریشن کو کا تشکک دور کرنا اتنا آسان نہیں۔

اس جنریشن کے حب الوطنی کے معیار بھی اپنے پیش رووں سے مختلف ہیں۔

ریاست کے فیصلہ سازوں کے 50 ساٹھ سالہ تجربہ کار دماغوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر اس جنریشن کوسمجھانے کے لیے جین زی بن کر سوچنا پڑے گا۔

آج نیلم ویلی میں کچھ احباب سے بات ہو رہی تھی۔ بتایا گیا کے پچھلے آٹھ دس روز سے ڈپٹی کمیشنر اور ایس پی دفاتر میں نہیں جا سکے بلکہ گھر کو ہی دفتر بنایا ہے۔

بازاروں میں جو اکا دکا دکان کھلتی ہے اس کا مالک بھی یوں نظریں چرا کر بیٹھتا ہے گویا کسی غیر اخلاقی حرکت کا مرتکب ہو رہا ہو۔

آزاد کشمیر میں انتخابات کی اہمیت سیاسی عمل سے زیادہ ایک تہوار کی سی رہی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ بیرون ملک سے بھی لوگ انتخابی سر گرمیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں آیا کرتے تھے۔ اس مرتبہ یہ دلچسپی البتہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

اکا دکا کو چھوڑ کر سبھی بڑے بڑے لیڈر کاغذات نامزدگی جمع کروانے اپنے آبائی اضلاع نہیں جا سکے۔ ان کے “غائبانہ کاغذات نامزدگی” جمع ہوئے۔ آیسا آزاد کشمیر میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ الیکشن مہم کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ شروع ہو گی بھی تو جوش و خروش کے بجائے امیدواروں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہو گا۔

یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہو گا کہ آزاد کشمیر کے اندر واقع 33 حلقوں میں ہونے والے انتخابات پاکستان کے کسی بھی حصے میں ہونے والے انتخابات کی نسبت شفاف ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ یہ تاثر شائد برقرار نہ رہے۔ مسلم لیگ (ن) ہر قمیت پر انتخابات چاہتی ہے۔ مسلم کانفرنس حصہ بقدر جسہ شانہ بشانہ ہے۔ پیپلز پارٹی کی مایوسی اور بد دلی البتہ نمایاں ہے۔ واقفان حال بتاتے ہیں”کالعدم” جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاجی حکمت عملی میں ایک نقطہ انتخابی عمل سے اعلانیہ لاتعلقی اور ووٹنگ کے دن گھروں میں رہنے کا اعلان بھی ہے۔

اگر حالات بدستور کشیدہ رہتے ہیں یا (خاکم بدہن) مزید خراب ہوتے ہیں تو اول تو انتخابات کا انعقاد ہی غیر یقینی ہو گا۔ کسی نہ کسی طرح ممکن ہوبھی گئے تو آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی تاریخ کے متنازعہ ترین انتخابات قرار پائیں گے۔ یہ ایک بدقسمتی ہو گی۔ آزاد کشمیر کا انتخابی تسلسل کبھی نہیں ٹوٹا اور یہی تسلسل اسے پاکستان کی انتخابی تاریخ سے منفرد بناتا ہے۔

اناوں کے ٹکراو میں حالات ایک مرتبہ پھر تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مٹھی جوں جوں کسی جا رہی ہے ریت بھی اسی رفتار سے سرک کر گر رہی ہے۔ کوئی بھی دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر پیالہ بنانے کو تیار نہیں کہ ریت کو گر کر بکھرنے سے روکا جا سکے۔

بکھری ریت تو شائد پھر بھی سمیٹنے کی کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے۔ گھڑی کی مسلسل چلتی سوئیوں کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔

مصنف کے بارے میں

جلال الدین مغلجلال الدین مغل

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *