آزاد جموں و کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی آئینی جوازیت اور ممکنہ اثرات
جلال الدین مغل
بدھ، 17 جون، 2026
اسلام آباد
آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ 10 روز سے جاری جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک نے نہ صرف سیاسی فضا کو متاثر کیا ہے بلکہ آئینی اور قانونی حلقوں میں بھی متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ سڑکوں پر احتجاج، حکومتی ردعمل اور اس سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے درمیان عام شہریوں، وکلاء اور سیاسی مبصرین کے ذہنوں میں ایک بنیادی سوال گردش کر رہا ہے کہ اگر حالات مزید سنگین ہو جائیں تو کیا آزاد جموں و کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے، اور اگر ایسا ہو تو اس کے عملی اور آئینی نتائج کیا ہوں گے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کا آئینی ڈھانچہ پاکستان کے صوبائی نظام سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں ایک منفرد نوعیت کا نیم خودمختار عبور آئینئ نظام رائج ہے جس کے تحت ایک منتخب حکومت، قانون ساز اسمبلی اور عدالتی نظام موجود ہے- یہ نظام براہ راست وفاق پاکستان کا حصہ نہیں مگر اس نظام پر وفاق اور مظبوط آئینی اور انتظامی کنٹرول موجود ہے اور بعض غیر معمولی حالات میں وفاقِ پاکستان کو بھی ایسے اختیارات حاصل ہیں جو عام حالات میں استعمال نہیں ہوتے۔

آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974ء کی دفعہ 53 ہنگامی حالت کے نفاذ کا قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ آئین کے مطابق اگر جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی صورتحال پیدا ہو جائے جس سے ریاست کی سلامتی، امن عامہ یا حکومتی نظم و نسق شدید خطرے سے دوچار ہو، تو ہنگامی حالت نافذ کی جا سکتی ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان، جو آئینی طور پر آزاد جموں و کشمیر کونسل کے چیئرمین بھی ہوتے ہیں، صدر آزاد جموں و کشمیر کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر اس مشورے کی بنیاد پر ہنگامی حالت کا باضابطہ اعلان جاری کرتے ہیں۔ یوں قانونی طور پر اعلان صدر کے نام سے ہوتا ہے لیکن اس کی بنیاد وفاقی سطح سے آنے والا آئینی مشورہ ہوتا ہے۔
تاہم ایمرجنسی کا اعلان غیر معینہ مدت کے لیے مؤثر نہیں رہتا۔ آئین اس پر ایک اہم جمہوری قدغن بھی عائد کرتا ہے۔ اعلان کے بعد ایک ماہ کے اندر اسے قانون ساز اسمبلی کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اسمبلی مقررہ مدت کے اندر اس کی توثیق یا توسیع نہ کرے تو ہنگامی حالت دو ماہ بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر حالات معمول پر آ جائیں تو وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر صدر آزاد کشمیر کسی بھی وقت ایمرجنسی واپس لینے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔
ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سب سے زیادہ بحث بنیادی حقوق کے بارے میں ہوتی ہے۔ عوامی حلقوں میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران آئین معطل ہو جاتا ہے، حالانکہ قانونی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ آئین اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، البتہ بعض بنیادی حقوق کے نفاذ کا طریقہ کار محدود ہو سکتا ہے۔
دفعہ 54 کے تحت صدر آزاد جموں وکشمیر ایک خصوصی حکم نامے کے ذریعے شہریوں کے بعض بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق معطل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آئین سے بنیادی حقوق ختم ہو جاتے ہیں، بلکہ ان حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتی چارہ جوئی عارضی طور پر محدود ہو سکتی ہے۔ عملی طور پر اس کا اثر آزادی اظہار، نقل و حرکت، اجتماع اور بعض دیگر شہری آزادیوں پر پڑ سکتا ہے- تاہم اس کی حدود اور نوعیت کا تعین جاری کردہ حکم نامے میں واضح طور پر موجود ہوتا ہے۔
اسی طرح دفعہ 55 کے تحت عدالتوں کے اختیارات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ ہنگامی حالت کے اعلان یا اس سے متعلق بعض صدارتی اقدامات کو عدالتی جانچ کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس شق کا مقصد ریاستی سلامتی سے متعلق فیصلوں کو فوری قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم یہی شق قانونی اور آئینی مباحث میں اکثر تنقید اور بحث کا موضوع بھی بنتی رہی ہے۔

موجودہ احتجاجی تحریک کے تناظر میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایمرجنسی نافذ ہو جائے تو کیا حکومتِ آزاد کشمیر ختم ہو جاتی ہے؟
عبوری آئین 1974 کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ سے حکومتِ آزاد جموں و کشمیر خود بخود تحلیل نہیں ہو جاتی۔ وزیراعظم، کابینہ اور انتظامی ڈھانچہ اپنی آئینی حیثیت برقرار رکھتے ہیں اور روزمرہ حکومتی امور بدستور انجام دیتے رہتے ہیں۔ تاہم بعض معاملات میں اختیارات کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے اور ریاستی سلامتی یا انتظامی استحکام سے متعلق فیصلوں میں وفاقی کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں ایمرجنسی کا مطلب لازمی طور پر منتخب حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ بعض اختیارات کا غیر معمولی حالات کے مطابق ازسرنو استعمال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اکثر آئینی نظاموں میں ایمرجنسی کو ریاستی تسلسل برقرار رکھنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ جمہوری اداروں کے مکمل خاتمے کا۔
البتہ ایک پیچیدہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہنگامی حالت کے دوران قانون ساز اسمبلی اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کر لے جیسا کہ اس وقت کی صورت حال ہے۔ عبوری آئین میں اسمبلی کی مدت میں توسیع کے حوالے سے پاکستان کے آئین جیسی کوئی شق موجود نہیں۔ اس لیے اگر ایسی صورتحال پیدا ہو تو مختلف آئینی تشریحات سامنے آ سکتی ہیں۔ البتہ واضح صورت یہی ہے کہ پانچ سال مکمل ہوتے ہی اسمبلی از خود تحلیل ہو جاتی ہے اور توسیع کی کوئی آئنی گنجائش موجود نہیں-
اسی تناظر میں ایک اور اہم سوال نئی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے متعلق پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہنگامی حالت نافذ ہو اور اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کر لے یا تحلیل ہو جائے تو کیا نئے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں؟ عبوری آئین 1974ء میں ایسی کوئی واضح شق موجود نہیں جو ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے انتخابات کو خودکار طور پر معطل قرار دیتی ہو۔ اصولی طور پر انتخابات کا انعقاد چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی اداروں کی ذمہ داری رہتا ہے، اور اگر امن و امان اور انتظامی حالات اجازت دیں تو نئے انتخابات کرانے میں آئینی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔
تاہم اگر حالات ایسے ہوں کہ آزادانہ، منصفانہ اور محفوظ انتخابات کا انعقاد ممکن نہ رہے تو عملی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں آئین کوئی مفصل متبادل طریقہ کار فراہم نہیں کرتا، جس کے باعث مختلف آئینی تشریحات سامنے آ سکتی ہیں۔ بعض قانونی ماہرین کے نزدیک ریاستی اداروں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے وفاقی سطح پر انتظامی بندوبست کیا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر ماہرین اس معاملے کو چیف الیکشن کمشنر، عدلیہ اور متعلقہ آئینی اداروں کی تشریح اور فیصلوں سے مشروط قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہنگامی حالت، اسمبلی کی مدت کے اختتام اور نئے انتخابات کے باہمی تعلق کو آزاد کشمیر کے آئینی نظام کے نسبتاً کم واضح اور بحث طلب پہلوؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
کچھ قانونی ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں وفاقِ پاکستان دفعہ 56 کے تحت انتظامی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے وسیع کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ دیگر ماہرین کے نزدیک ایسے کسی بھی اقدام کی آئینی بنیاد اور حدود کا تعین حالات اور متعلقہ اداروں کی تشریح پر منحصر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پہلو کو آئینی ماہرین ایک ممکنہ “آئینی خلا” کے طور پر بھی بیان کرتے ہیں۔
موجودہ احتجاجی تحریک کے تناظر میں یہ تمام سوالات اگرچہ امکانی اور قانونی نوعیت کے ہیں، لیکن ان کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ سیاسی کشیدگی کے ادوار میں آئین ہی وہ دستاویز ہوتا ہے جو ریاستی اداروں کے اختیارات اور حدود کا تعین کرتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ حالات یہ بھی احساس دلاتے ہیں کہ کسی بھی آئینی نظام کی اصل طاقت غیر معمولی اختیارات میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد، سیاسی مکالمے اور جمہوری عمل کے تسلسل میں ہوتی ہے۔ آئین ایمرجنسی کے راستے ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن جمہوری معاشروں میں انہیں ہمیشہ آخری آپشن سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے آزاد جموں وکشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے تناظر میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آئین ہنگامی حالات میں کیا اجازت دیتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام ایسے حالات سے نکلنے کے لیے مکالمے، آئینی راستوں اور جمہوری عمل کو کس حد تک ترجیح دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہی عوامل طے کریں گے کہ موجودہ صورتحال ایک عارضی سیاسی بحران ثابت ہوتی ہے یا اس خطے کی آئینی اور سیاسی تاریخ میں ایک نئے (اور خاکم بدہن “سیاہ” ) باب کا آغاز ہوتا ہے-
مصنف کے بارے میں
- جلال الدین مغل


