باوا چہھلا……. قسط 01
راوی: مائیکل منیر، بریڈ فورڈ / چک ہریام
تحریر: شمس الرحمٰن اولڈہم / موڑا لوہاراں
ہجرت کی تاریخ ہمیشہ سرکاری کاغذوں میں نہیں ملتی۔ کچھ تاریخیں بندرگاہوں کے رجسٹروں میں رہ جاتی ہیں، کچھ جہازوں کے کوئلہ خانوں میں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں، کچھ فیکٹریوں کی سیٹیوں میں گم ہو جاتی ہیں، اور کچھ بوڑھوں کی یادداشت میں آدھی، پوری، ٹوٹی پھوٹی مگر زندہ رہتی ہیں۔
میرپور کے علاقوں کالگڑھ، چک ہریام، چک سواری ، ڈڈیال، کوٹلی، بھمبر کی پرانی باتوں میں بھی ایسی ہی بہت سی تاریخیں بکھری پڑی ہیں۔ کوئی کہتا ہے فلاں سب سے پہلے ولایت گیا تھا۔ کوئی کہتا ہے نہیں، اس سے پہلے بھی ایک آدمی گیا تھا، مگر واپس نہ آیا۔ کسی کو نام یاد ہے، کسی کو صرف نکا نام۔ کسی کو گاؤں یاد ہے، کسی کو بندرگاہ۔ کسی کو سال یاد ہے، کسی کو صرف اتنا کہ “بہت پرانی بات ہے، جب جہازوں کا زمانہ تھا۔”
ایسی ہی زبانی روایتوں میں ایک نام ابھرتا ہے: باوا چہھلا۔
ان کا اصل نام فضل الٰہی تھا۔ مگر ہمارے دیہاتی سماج میں اصل نام اکثر سرکاری رجسٹروں، نکاح ناموں، زمین کے کھاتوں یا عدالت کے کاغذوں کے لیے رہ جاتے تھے۔ گھر، گلی، برادری اور گاؤں آدمی کو اس کے “نکے” یعنی لاڈ کے نام سے پکارتے تھے۔ سو فضل الٰہی، فضل الٰہی کم اور چہھلا زیادہ تھے۔ پھر عمر ڈھلی، زمانہ بدلا، بالوں میں سفیدی آئی تو وہی چہھلا لوگوں کے لیے باوا چہھلا بن گیا۔
کہا جاتا ہے کہ چک ہریام گاؤں کے باوا چہھلا کالگڑھ کے قصبے سے برطانیہ جا کر آباد ہونے والے اولین آدمیوں میں سے تھے۔ شاید پہلے ہی تھے۔ پروفیسر ظفر ابقال کے بقول ان کے نانا باوا پہلوان پہلی جنگ عظیم سے بھی پہلے جہازوں پر کام کرتے تھے اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی بندرگاہ لیور پول پر بھی کئی بار آئے تھے لیکن انہوں نے یہاں مستقل قیام نہیں کیا تھا۔ شاید ان سے پہلے بھی کوئی گیا ہو، مگر وقت نے اس کا نام مٹا دیا ہو۔ مگر فضل الہی عرف چہھلا کی کہانی رہ گئی۔ اس لیے نہیں کہ وہ ولایت گیا تھا؛ ولایت تو بہت لوگ گئے۔ اس لیے کہ وہ ولایت پہنچ کر دس برس تک اپنی زبان، اپنا نام، اپنا گاؤں اور اپنا ماضی کھو بیٹھا۔
یہ ایک گمشدہ آدمی کی کہانی ہے۔
یہ زبان کے بغیر زندہ رہنے کی کہانی ہے۔
یہ ہجرت کی اس خاموش قیمت کی کہانی ہے جو سرکاری ریکارڈ کبھی نہیں بتاتے۔
بمبئی کی بندرگاہ
اس زمانے کے جہازیوں کی طرح چہھلا بھی پہلے بمبئی پہنچا۔ آج کے زمانے کا مسافر ٹکٹ خریدتا ہے، پاسپورٹ دکھاتا ہے، جہاز میں بیٹھتا ہے، چند گھنٹوں میں دوسرے ملک پہنچ جاتا ہے۔ مگر اس وقت کا مسافر پہلے اپنے گاؤں سے نکلتا تھا، پھر قصبہ، پھر شہر، پھر ریل، پھر بندرگاہ، پھر جہاز۔ ہر مرحلے پر خطرہ، بے خبری اور قسمت۔
بمبئی اس زمانے میں صرف ایک شہر نہیں تھا، سمندری دنیا کا دروازہ تھا۔ وہاں ہر رنگ، ہر زبان، ہر علاقے کے لوگ تھے۔ کوئی بنگال سے، کوئی پنجاب سے، کوئی گجرات سے، کوئی کشمیر کے پہاڑوں سے۔ کوئی ملاح تھا، کوئی کوئلہ ڈھونے والا، کوئی باورچی، کوئی صفائی والا، کوئی صرف قسمت آزمانے آیا ہوا۔
چک ہریام کے مائیکل منیر، حال مقیم بریڈ فورڈ، کی روایت کے مطابق باوا چہھلا جس جہاز پر سوار ہوا، اس پر زیادہ تر مزدور بنگلہ بولنے والے تھے۔ وہ ان کے ساتھ تھا، مگر حقیقت میں اکیلا تھا۔ جہاز ایک تھا، سمندر ایک تھا، مزدوری ایک تھی، مگر زبانیں الگ الگ تھیں اور کوئی مشترکہ زبان نہ تھی۔ زبانیں الگ الگ ہوں اور کوئی مشترکہ زبان نہ ہو تو آدمی بھی ایک دوسرے سے الگ ہو جاتا ہے۔ آدمی آدمی کے پاس بیٹھا ہوتا ہے مگر اس کے اندر تک نہیں پہنچ پاتا۔ لفظ نہ ملیں تو رفاقت بھی آدھی رہ جاتی ہے۔
چہھلا نے سارا سفر جیسے تیسے گزارا۔ سمندر پھیلتا گیا۔ جہاز چلتا گیا۔ مگر اس کے اندر کہیں چک ہریام رہ گیا: گاؤں کی پگڈنڈیاں، کالگڑھ کی طرف جاتی راہیں، پہاڑی بولی، رشتے داروں کی آوازیں، اور وہ دنیا جہاں آدمی کو دیکھ کر لوگ پوچھتے تھے:
” چہھلا، کدھر جُلیا ہیں “
اب کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔
نیو کاسل، بلائتھ اور “ولایت” کا پہلا دروازہ
مائیکل منیر کی روایت کے مطابق چہھلا کا جہاز نیو کاسل آیا تھا۔ نیو کاسل برطانیہ کے شمال میں واقع ایک ساحلی شہر ہے۔ ممکن ہے جہاز نیو کاسل سے تقریباً تیرہ میل مشرق میں واقع بلائتھ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا ہو۔ ڈڈیال اور گردونواح کے ابتدائی کشمیری تارکینِ وطن کے ہاں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ شاید اسی بلائتھ یا اس بندرگاہی تجربے کے سبب انگلینڈ، برطانیہ یا یونائیٹڈ کنگڈم کے لیے “ولایت” کا لفظ عام ہوا۔ یہ اپنی جگہ الگ تحقیق کا موضوع ہے، مگر چہھلا کی کہانی میں یہ مقام اس لیے اہم ہے کہ یہی شمالی ساحل شاید اس کے لیے ولایت کا پہلا دروازہ بنا۔
بندرگاہ پر جہاز رکا۔ مزدور اترے۔ چہھلا بھی ان بنگلہ بولنے والے مزدوروں کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ اسے نہ شہر معلوم تھا، نہ راستہ، نہ زبان۔ وہ اس امید پر چل رہا تھا کہ جن کے ساتھ آیا ہے، انہی کے ساتھ کہیں پہنچ جائے گا۔
مگر شہر کے اندر آ کر وہ پیچھے رہ گیا۔ بنگالی مزدور آگے نکل گئے۔ چہھلا تھک ہار کر ایک جگہ بیٹھ گیا۔
وہ بیٹھا رہا۔
سردی تھی۔
اجنبی شہر تھا۔
جسم پر سمندر کی تھکن تھی۔
دل میں خوف تھا۔
زبان بند تھی۔
وہ بول سکتا تھا، مگر کوئی اس کی بولی نہیں سمجھتا تھا۔ ایسی حالت میں آدمی گونگا نہیں ہوتا، مگر دنیا اسے گونگا بنا دیتی ہے۔
وہ لڑکی
قریب ہی ایک ریستوران تھا۔ وہاں ایک انگریز لڑکی کام کرتی تھی۔ اس نے اس نوجوان کو دیکھا۔ پہلے شاید اسے لگا ہو گا کہ کوئی مقامی آدمی ہے۔ جن لوگوں نے باوا چہھلا کو دیکھا تھا، وہ بتاتے تھے کہ وہ گورے چٹے، سرخ گالوں والے، شکل سے انگریزوں جیسے لگتے تھے۔
مگر وہ کئی گھنٹے وہیں بیٹھا رہا۔ نہ کسی سے کچھ کہا، نہ کہیں گیا۔ لڑکی سے رہا نہ گیا۔ وہ باہر آئی۔
“مسٹر، تم یہاں اس سردی میں اتنی دیر سے کیوں بیٹھے ہو؟”
چہھلا نے اس کی طرف دیکھا ہو گا۔ شاید وہ کہنا چاہتا ہو گا: “میں گم ہو گیا ہوں۔ میں کشمیر سے آیا ہوں۔ میں اپنے لوگوں کو نہیں ڈھونڈ پا رہا۔ مجھے نہیں معلوم کہاں جانا ہے۔”
مصنف کے بارے میں





