دوپہر کی سوچ: تحریک، عوامی حقوق اور نظریاتی

دوپہر کی سوچ: تحریک، عوامی حقوق اور نظریاتی

شئر کریں

تحریر: شمس رحمان

مجھے کبھی کبھی بہت حیرت بھی ہوتی ہے اور ہنسی بھی آتی ہے، جب “تحریکِ آزادیٔ کشمیر” اور نظریاتی مزاحمتی سیاست سے وابستہ بعض کہنہ مشق کشمیری رہنما، دانشور اور چند سینئر صحافی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اس انداز میں مطالبے کرتے ہیں جیسے ایکشن کمیٹی کوئی مکمل انقلابی حکومت ہو، جس کے پاس ریاستی اختیار، وسائل، ادارے اور قانون سازی کی طاقت موجود ہو۔

وہ سوال کرتے ہیں کہ ایکشن کمیٹی نے یہ کیوں نہیں کیا؟ وہ کیوں نہیں کیا؟ فلاں بڑے مسئلے پر واضح پوزیشن کیوں نہیں لی؟ فلاں تاریخی سوال کو اپنے چارٹر میں شامل کیوں نہیں کیا؟

ارے بھائی لوگو، ذرا ٹھہر کر دیکھیے۔ ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر عام عوام کے عام مگر نہایت بنیادی حقوق کی تحریک ہے۔ یہ اس عوامی اذیت، معاشی دباؤ اور حکومتی بے حسی کے ماحول سے ابھری ہے جہاں عام آدمی بجلی کے بلوں، آٹے کی قیمتوں، ٹیکسوں، مراعات یافتہ طبقے کی لوٹ مار اور روزمرہ زندگی کی مسلسل تنگی کے بوجھ تلے پس رہا تھا۔

عوامی تجربہ اور چارٹر آف ڈیمانڈ

ایکشن کمیٹی کوئی آسمان سے اتری ہوئی مکمل نظریاتی تنظیم نہیں تھی۔ اس کا چارٹر آف ڈیمانڈ بھی عوامی تجربے، اجتماعی جدوجہد اور زمینی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ بتدریج فروغ پذیر ہوا ہے۔ پہلے عوام نے اپنی بنیادی تکالیف کو آواز دی، پھر اس آواز نے مطالبات کی شکل اختیار کی، پھر مطالبات نے ایک منظم عوامی تحریک کو جنم دیا۔

اب اگر کوئی شخص یا گروہ واقعی عوام کے حق میں ہے تو اس کا پہلا فرض یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس چارٹر پر عمل درآمد کے لیے ایکشن کمیٹی کا مکمل ساتھ دے۔ پہلے عوام کے تسلیم شدہ مطالبات پر حکومت کو پابند کرنے کی جدوجہد میں شریک ہو۔ اس کے بعد مزید مطالبات، سیاسی اصلاحات، آئینی سوالات، قومی حقوق اور وسیع تر مزاحمتی ایجنڈے پر تجاویز دے، بحث کرے، قائل کرے اور جدوجہد کو آگے بڑھائے۔

“نلکے اور روٹی کی سیاست” کا طعنہ

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں نظریاتی سیاست کا ایک بڑا حصہ عام آدمی کی روزمرہ ضروریات کو حقیر سمجھنے کا عادی رہا ہے۔ روٹی، آٹا، بجلی، پانی، روزگار، علاج، تعلیم اور عزتِ نفس کے سوالات کو بعض لوگ “نلکے اور روٹی کی سیاست” کہہ کر کم تر سمجھتے رہے۔ گویا عوام کی بھوک، بل، بیماری، بے روزگاری اور بے بسی کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ محض چھوٹے لوگوں کی چھوٹی پریشانیاں ہیں۔

یہی وہ سوچ ہے جس نے عوام اور نظریاتی سیاست کے درمیان فاصلہ پیدا کیا۔

جب عام آدمی مہنگائی، بجلی کے بلوں اور سرکاری نااہلی کے ہاتھوں رگڑا جا رہا تھا، اُس وقت بہت سے نظریاتی حلقے پاکستان و بھارت کے قبضے کے خاتمے، انقلاب، حقِ خود ارادیت اور قومی آزادی کے بڑے بڑے سوالات پر تقاریر، بحثوں اور تبلیغی نشستوں میں مصروف تھے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا بھوک، بجلی، آٹا، پانی اور علاج کے بغیر کوئی قوم آزادی کی منزل تک پہنچ سکتی ہے؟

عوامی حقوق کی جدوجہد کو چھوٹا سمجھنا دراصل عوام کو چھوٹا سمجھنا ہے۔

ایکشن کمیٹی حکومت نہیں، عوامی دباؤ ہے

ایکشن کمیٹی اسی خلا میں پیدا ہوئی جہاں حکومت ناکام تھی، سیاسی جماعتیں عوام سے کٹ چکی تھیں، اسمبلی عوامی مسائل کے بجائے مراعات یافتہ طبقوں کے مفادات کا میدان بن چکی تھی، اور نظریاتی سیاست عوام کے روزمرہ دکھ درد سے عملی طور پر دور ہو چکی تھی۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایکشن کمیٹی حکومت نہیں ہے۔ اس کے پاس نہ بجٹ ہے، نہ انتظامیہ، نہ پولیس، نہ عدالتیں، نہ قانون سازی کا اختیار۔ یہ عوامی دباؤ کی ایک منظم شکل ہے۔ یہ حکومت کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ حکومت کی بے حسی، نااہلی اور عوام دشمن طرزِ حکمرانی کے خلاف ایک اجتماعی عوامی ردعمل کے طور پر ابھری ہے۔

اس لیے اس پر تنقید ضرور کیجیے، مگر انصاف کے ساتھ۔ اسے مشورے دیجیے، مگر عوامی جدوجہد کو کمزور کرنے کے انداز میں نہیں۔ اس کے چارٹر کو وسیع کرنے کی بات کیجیے، مگر پہلے اس کے موجودہ عوامی مطالبات پر عمل درآمد کی جدوجہد میں ساتھ کھڑے ہو کر اپنی نیت ثابت کیجیے۔

حقیقی مزاحمت کا راستہ

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نظریاتی سیاست عوامی حقوق کی تحریک سے سیکھے، نہ کہ اسے کمتر سمجھے۔ جو تحریک عوام کے بل، آٹے، علاج، تعلیم، روزگار اور عزتِ نفس کے سوال کو مرکز میں لاتی ہے، وہ سیاست کو زمین سے جوڑتی ہے۔ اور جو سیاست زمین سے نہ جڑی ہو، وہ خواہ کتنے ہی بڑے نعروں سے مزین ہو، عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتی۔

حقیقی مزاحمت وہی ہے جو عوام کی زندگی سے شروع ہو، عوام کی زبان میں بات کرے، عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، اور پھر اسی بنیاد پر بڑے سیاسی، آئینی اور قومی سوالات کی طرف آگے بڑھے۔

ایکشن کمیٹی کی سب سے بڑی اہمیت یہی ہے کہ اس نے عام آدمی کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ بے بس رعایا نہیں بلکہ حق مانگنے والا شہری ہے۔ یہی شعور کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Shams Rehman
Shams Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *