جموں کشمیر کی گمشدہ تہذیب میرپور کی لوک تاریخ کا راز ( دوسری قسط)

شئر کریں

تحقیق و روایت : محمد افضل، راچڈیل / راجدھانی اور محمد ارشد بھمبر/اولڈہم
تحریر و ترتیب: شمس رحمان اولڈہم / کالگڑھ

کچھ سکے قدیم زمانوں کے تھے جن کی ایک طرف سکے کی قیمت اور دوسری طرف بچھو کی تصویر تھی۔
ان میں سے ایک سکہ “ٹہھایا پیسہ” یعنی اڑھائی پیسے کا تھا۔ اس میں “پ” کے نیچے اور “س” کے اوپر چار نقطے تھے۔
افضل صاحب نے یہ سکے ڈڈیال میں اپنے بچپن کے دوست راجہ مسعود کو بھی دکھائے، جو بعد میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔ ان کا ایک اور دوست صدیق تھا جو بڑا ہو کر حکیم بن گیا۔ دونوں دوست جنگلوں میں نکل جاتے۔ صدیق جڑی بوٹیاں تلاش کرتا اور افضل قدیم آثار۔
ایسے ہی ایک دن افضل صاحب کو سونے کی ڈولی جیسی ایک چیز ملی۔ انہوں نے وہ مقامی سنار خادم کو دکھائی۔ خادم نے کہا:
“یہ ہم نہیں بنا سکتے۔ یہ بہت قدیمی اور ہاتھ سے بنی ہوئی ہے۔”
افضل صاحب کے مطابق یہ “سری” کا درمیانی حصہ تھا۔ یہ اس زمانے کی چیز تھی جب گانی کو “سری” کہا جاتا تھا۔


اُوناع کے کنارے بکھرے ہوئے آثار
افضل صاحب کی بات سننے کے بعد میں لالہ ارشد کے ساتھ دو بار اوناع گیا۔ لالہ ارشد ( محمد ارشد) کا تعلق بھمبر کے مضافاتی قصبے تہھندر ( دھندر) سے ہے ۔ مطالعے، ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں کے ذریعے دنیا جہان کا علم رکھتے ہیں اور آثارِ قدیمہ میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھی افضل کی طرح بھمبر شہر کے گردو نواح میں ہزاروں سال قبل کے سکے ، ایک قدیم قبرستان مورتیاں اور دیگر آثار قدیمہ دریافت کر رکھے ہیں۔ ان کے پاس قدیم ترین آثار ایک سکہ ہے جو ان کے بقول انہیں بھمبر کے مضافاتی قصبے ‘ پنگلورہ’ میں واقع ایک قدیم کنویں سے ایک سو قبل مسیح کے سکے ملے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنگلورہ میں قدیم آثار کی کئی تہیں / پرتیں ہیں۔ ہر چیہ ایک عہد کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکے تغلق کے عہد پر آ کر رک جاتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد کے ادوار کا کوئی سکہ نہیں ملا کیوں کہ بقول ان کے بھمبر کا یہ شہر تیمور نےچودھویں صدی کے اخیر میں تباہ کر دیا تھا جس کے بعد یہاں گکھڑوں اور چبوں کا راج قائم ہوا ۔ جس کو انیسویں صدی میں پنجابی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے لیے راجہ گلاب سنگھ نے ختم کیا اور ( 1820) میں رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو جموں کا والی بنا دیا۔ یہ زبانی تاریخ ہے جو عام طور پر اصل تاریخ کا ایک اشارہ ہوتی ہے۔
لالہ ارشد کو ان کے کسی ڈڈیالی دوست نے برطانیہ میں بتایا تھا کہ اوناع میں پرانے شہر کے آثار پائے جاتے ہیں۔وہاں جا کر دیکھا تو دریا کے کنارے وسیع علاقے پر پھیکڑاں ہی پھیکراں بکھری ہوئی تھیں، یعنی مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے ۔ اتنی زیادہ تھیں کہ گماں ہوتا تھا شاید یہاں مٹی کے برتن بنانے والے کمہاروں کا کوئی محلہ یا کسی شہر کے اندر کمہاروں کی بستی ہوئی ہو گی۔ چکیوں کے پُڑ اور دوسری پرانی چیزوں کے نشانات۔ ایسی جگہیں بے مقصد نہیں ہوتیں۔ یہ عام طور پر کسی قدیم آبادی، بازار، کارخانے، رہائشی بستی یا مسلسل انسانی استعمال کا اشارہ دیتی ہیں۔
یہاں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ایک بات بتائی جو مجھے اپنے لڑکپن میں لے گئی۔ یہاں کوئی قدیمی شہر تھا جو اتنا گنجان آباد تھا کہ یہاں سے چھت پر چڑھنے کے بعد بغیر اترے ( جنوب کی طرف اشارہ کر کے) نئے میرپور تک آپ جا سکتے تھے۔ یہ بات مجھے 1970 کے عشرے میں میرے دادا مرحوم چوہدری سردار خان نے بھی بتائی تھی لیکن اس طرح سے کہ پرانے میرپور سے بھمبر تک اتنی گنجان آبادی تھی کہ عمارتوں کی چھتوں پر بغیر اترے بھمبر تک جا سکتے تھے۔ لالہ ارشدنے بتایا کہ ان کے علاقے میں بھی یہ عام کہاوت موجود ہے کہ چھتوں پر سے آپ چھ سات میل نیچے کوٹلہ تک جا سکتے تھے۔ لالہ ارشد کے بقول اس شہر کا نام ‘ ابی صار ‘ یا ‘ ابی سارا’ تھا۔
اس جگہ کی سائنسی کھدائی سے یقیناً پورے خطے کی تاریخ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے۔


چومکھ: چار رخوں والا شہر؟
افضل صاحب کے مطابق اوناع گاؤں کے پاس دریا کنارے جس شہر کے آثار ملتے ہیں، اسے چومکھ کہا جاتا تھا۔ ان کے بقول یہ شہر شاید گیارہویں یا بارہویں صدی کے بعد دوبارہ آباد ہوا، مگر اس سے پہلے اسی خطے میں اس سے کئی گنا بڑا شہر موجود تھا۔
یہ شہر کب سے آباد تھا؟ اس بارے میں کوئی باقاعدہ علمی تحقیق موجود نہیں۔ اس لیے صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ شہر بننے، پھیلنے اور تہذیبی شکل اختیار کرنے میں صدیاں لگتی ہیں۔ اس لیے میرپور کا یہ چومکھ سے بھی قدیم شہر کتنے ہزار سال پرانا تھا، یہ صرف ماہرین آثارِ قدیمہ ہی بتا سکتے ہیں۔
افضل صاحب کے مطابق بزرگوں سے سنی ہوئی روایت یہ ہے کہ یہ شہر مشرق میں بھمبر، مغرب میں پوٹھوہار، جنوب میں موجودہ میرپور اور شمال میں کوٹلی کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔
نام کے بارے میں افضل صاحب کہتے ہیں کہ شاید اس کا نام بھی چومکھ ہی تھا۔
یعنی چار مکھ۔
چار مکھڑے۔
چار منہ۔
چار اطراف۔
ایک ایسا شہر جو چار سمتوں میں پھیلا ہوا تھا۔


راجدھانی، بلو اور محلاں کی جاڑ
اس شہر کے وجود کے شواہد بیان کرتے ہوئے افضل صاحب کہتے ہیں کہ راجدھانی، جسے راجدھان کہا جاتا تھا، اس بادشاہی کا دارالحکومت تھا۔ اس کے ساتھ منسلک مقام بلو میں بادشاہی محل تھے۔ آج بھی اس مقام کو “محلاں کی جاڑ” کہا جاتا ہے۔
یہ نام معمولی نہیں۔
لوک نام اکثر ماضی کی یاد کو محفوظ رکھتے ہیں۔
محلاں کی جاڑ — یعنی محلوں کی جڑ، بنیاد، نشان یا باقیات۔
افضل صاحب کے مطابق یہ بھی اس قدیم شہری نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کبھی یہاں موجود تھا۔


دو قدیم کنویں: خاموش گواہ
افضل صاحب دو کنوؤں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔
ایک کنواں موجودہ امب گاؤں کے پاس ہے، ایک طرف اور دوسری طرف خانقاہ سے آگے آٹے کی مشین کے قریب۔ دوسرا کنواں راجدھانی میں ہے جسے “نائیاں ناں کھوہ” یعنی حجاموں کا کنواں کہا جاتا ہے۔
افضل صاحب کے مطابق امب والے کنویں کو بڑا کھوہ بھی کہا جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Shams Rehman
Shams Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *