جی پی ایس لگا نایاب گدھ پیر چناسی کے مقام سے پکڑ لیا گیا

شئر کریں

طارق نقاش

آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے محکمہ وائلڈ لائف حکام نے منگل کے روز بتایا کہ جدید سیٹلائٹ ٹریکنگ آلات سے لیس ایک نہایت نایاب اور خطرے سے دوچار گدھ، جو 9,500 فٹ بلند پیر چناسی کے علاقے میں پایا گیا تھا، جلد دوبارہ قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا جائے گا۔

پیر کے روز مظفرآباد کے رہائشی زین راجہ کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو، جو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہے، میں مقامی افراد کے ایک گروپ کو اس بڑے شکاری پرندے کا احتیاط سے معائنہ کرتے دیکھا گیا۔ پرندہ بظاہر بھوک اور تھکن کے باعث کمزور حالت میں بلند پہاڑی علاقے میں اترا تھا، جہاں اسے جال کی مدد سے محفوظ طریقے سے پکڑا گیا۔

گہرے رنگ کے اس مردار خور پرندے کی شناخت اس کی کمر کے نچلے حصے پر موجود سفید دھبے کی بنیاد پر “وائٹ رمپڈ ولچر” (Gyps bengalensis) کے طور پر کی گئی۔ اس پرندے کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والا GPS ٹرانسمیٹر اور “F49” کوڈ والا زرد رنگ کا وِنگ ٹیگ بھی نصب تھا۔

وائٹ رمپڈ ولچر کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے “شدید خطرے سے دوچار” (Critically Endangered) قرار دیا ہوا ہے۔

وائلڈ لائف حکام کے مطابق پرندے کے ساتھ نصب ہارنس اور الیکٹرانک آلات بین الاقوامی ہجرتی تحقیق اور تحفظِ جنگلی حیات پروگراموں میں استعمال ہونے والے معیاری آلات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معائنے کے دوران پرندہ صحت مند اور پُرسکون دکھائی دیا۔

اے جے کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی مانیٹرنگ آفیسر ڈاکٹر شائستہ علی نے کہا کہ خیال ہے یہ گدھ نیپال سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر کے ہمالیائی خطے کے راستے یہاں پہنچا ہے۔ نیپال دنیا کے کامیاب ترین گدھ تحفظ پروگراموں میں سے ایک چلا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیپال کے اقدامات میں “جٹایو ریسٹورنٹ” منصوبہ اور کسارا بریڈنگ سینٹر سے GPS ٹیگ شدہ گدھوں کی رہائی شامل ہے۔ وہاں کے محققین عموماً زرد وِنگ ٹیگز اور شمسی توانائی سے چلنے والے GPS پلیٹ فارم ٹرانسمیٹر ٹرمینلز (PTTs) استعمال کرتے ہیں، جو پیر چناسی میں ملنے والے پرندے پر نصب آلات سے مشابہ ہیں۔

ڈاکٹر شائستہ علی نے کہا:
“مظفرآباد میں ‘F49’ کی موجودگی بین الاقوامی محققین کے لیے ایک اہم ڈیٹا پوائنٹ ہے۔ اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ یہ گدھ نیپال، بھارت اور پاکستان کو ملانے والے ہمالیائی راہداری راستے سے گزر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ 1990 کی دہائی میں مویشیوں میں استعمال ہونے والی ویٹرنری دوا “ڈائیکلوفیناک” کے زہریلے اثرات کے باعث وائٹ رمپڈ ولچر کی آبادی میں تقریباً 99 فیصد تک کمی واقع ہوئی تھی۔

ڈاکٹر علی کے مطابق نیپال کا ٹیگنگ پروگرام اس بات کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا کہ بحال کیے گئے گدھ جنگل میں زندہ رہ سکتے ہیں یا نہیں، اور کیا وہ اپنی تاریخی ہجرتی راہیں دوبارہ اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا:
“یہ حقیقت کہ یہ گدھ پیر چناسی کی بلندیوں تک پہنچا، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ نسل اپنی تاریخی ہجرتی راہیں دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔”

محکمہ وائلڈ لائف کے رینج آفیسر جذبہ شفیع نے بتایا کہ ٹریکنگ آلات کی تصدیق کے لیے پرندے کو عارضی طور پر پیر چناسی میں ایک فوجی تنصیب میں رکھا گیا تھا تاکہ یہ یقین دہانی کی جا سکے کہ یہ آلات جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو رہے۔

انہوں نے کہا:
“پرندے کو مناسب خوراک دی جا رہی ہے اور ہمیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ایک دن کے اندر اسے محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ اسے دوبارہ قدرتی ماحول میں آزاد کیا جا سکے۔”

ڈاکٹر شائستہ علی نے کہا کہ محکمہ بین الاقوامی تحفظِ جنگلی حیات اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ پرندے کے ٹریکنگ ڈیٹا کو اس کی رہائی سے قبل مناسب طریقے سے دستاویزی شکل دی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا:
“پیر چناسی میں اس گدھ کی موجودگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا خطہ ایک عالمی ماحولیاتی زنجیر کی اہم کڑی ہے۔ جب ہم اپنے جنگلات اور پہاڑوں کا تحفظ کرتے ہیں تو ہم صرف مقامی جنگلی حیات ہی نہیں بلکہ ایک ایسے حیاتیاتی نظام کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں جو براعظموں تک پھیلا ہوا ہے۔”

نوٹ
مضمون انگریزی سے اردو میں ترجمعہ کیا گیا ہے

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *