منقسم کشمیری 35 سال سے بچھڑے بھائی مر کر بھی نا مل سکے

منقسم کشمیری 35 سال سے بچھڑے بھائی مر کر بھی نا مل سکے

شئر کریں

جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن کے کیرن علاقے میں عجیب سماں کے دریائے نیلم کے دونوں کناروں ہر بڑی تعداد مرد و خواتین جمع ہیں ہر کسی کی آنکھ میں آنسو ہیں دریا کے دونوں اطراف کی فضا سوگوار ہے اس کی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقہ کیرن کے رہائشی راجہ لیافت خان کی وفات ہے

کیرن کے رہائشی راجہ لیاقت نائب تحصیدار رہ چکے 1990 میں جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہوئی تب راجہ لیاقت کے والدین اور بہن بھائی علاقے سے ہجرت کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلے گئے اب وہ مظفرآباد کے علاقہ چہیلہ بانڈی میں مقیم ہیں

راجہ لیاقت کی وفات کی خبر مظفرآباد میں جب ان کے عزیر و اقارب تک پہنچی تو وہ کیرن پینچ گئے گزشتہ کچھ سالوں سے سیاحت کیلئے معروف کیرن کنٹرول لائن کا ایک ایسا منفرد مقام ہے جہاں دریائے نیلم یا کشن گنگا پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو تقسیم کرتا ہے

بھارت کی جانب راجہ لیاقت کے لواحقین میت لیکر دریا کے کنارے پہنچے اور دریا کے قریب ایسی جگہ رکھا جہاں سے دریا کے دوسری جانب سے جنازے کو دیکھا جا سکے

وہ وہ لمحات تھے جب ہر طرف فضا سوگوار تھی ہر طرف سسکیاں تھیں خواتین کی بلند آواز رونے کی آوازیں سنائی دے رہی ہے تھیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جانب موجود راجہ لیاقت کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ پیبتیس سال اس انتظار میں گزرے کہ ایک دن ہم ہھر ایک دوسرے سے ملیں گے زندہ کیا ملتے ہم تو مر کر بھی نہیں مل پائے

کیرن وہ علْاقہ ہے جہاان پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003 میں ہونے والے سیز فائر کے بعد منقسم کشمیری خاندانوں کے درمیان دریا کے آر پار ملاقاتیں شروع ہوئی جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوکر ایک دوسرے کو بلند اواز پکارتے تحائف اور خطوط کا تبادلہ کرتے رہے

سوشل میڈیا کے انے کے بعد سوشل میڈیا منقسم خاندانوں کے رابطے کا زریعہ بنا لیکن 2019 میں بھارت کی جانب سے جموں کشمیر کی ریاستی حثیت تبدیل کرنے کے بعد سختیاں لاک ڈاؤن سوشل میڈیا پر ہابندیوں کی وجہ سے ان منقسم خاندانوں کا اپس میں رابطہ کر نا مشکل ہوکر رہ گیا یے

مصنف کے بارے میں

Muhammad Saif Ul Islam
Muhammad Saif Ul Islam

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *