پونچھ کی بغاوت 1947 – ایک متوازن جائزہ”حقیقت، افسانہ اور سبق”

شئر کریں

۔۔۔۔ادریس شرر

پونچھ کی 1947 کی تحریک کو دو انتہاؤں میں بیان کیا جاتا ہے۔ ایک طرف اسے “ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف کسان بغاوت” کہا جاتا ہے، دوسری طرف “بیرونی حملہ”۔ دونوں بیان آدھے سچ ہیں۔ پوری حقیقت اس کے درمیان ہے۔

1…پس منظر: جاگیر سے ضلع تک

پونچھ 1846 سے 1936 تک ایک خود مختار جاگیر تھی۔ اس کا مہاراجہ کو صرف 231 روپے سالانہ ٹوکن نذرانہ دینا ہوتا تھا۔ باقی محصول، پولیس، فوج راجہ پونچھ کی اپنی تھی۔

1940 میں راجہ جگت دیو سنگھ کی وفات کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے جاگیر کا خاتمہ کر کے اسے جموں صوبے کا ضلع بنا دیا۔ یہ ایک سرکاری نوٹیفکیشن سے ہوا۔ اس کے بعد پونچھ پر وہی قوانین لاگو ہوئے جو جموں میں تھے۔

اس کا مطلب: 1940 کے بعد پونچھ میں کوئی الگ “بیوی ٹیکس” یا “بیوہ ٹیکس” کا سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی آرکائیو سے ایسا فرمان برآمد نہیں ہوا۔

  1. اصل شکایت کیا تھی؟

جاگیر کے دور میں ٹیکس کم تھا، لیکن سہولت بھی کوئی نہیں تھی۔ ضلع بننے کے بعد ریاست کے تمام ٹیکس – لگان، جنگل، کسٹم، نمک – لاگو ہو گئے۔ ریاست کے لیے یہ معمول تھا، پونچھ کے کسان کے لیے اچانک 3 سے 4 گنا اضافہ۔

اس اضافے کو مقامی زبان میں “زری” کہا گیا۔ جیسے زری خانہ شماری (گھر گننے کی فیس) اور زری چولہا (الگ چولہے کی فیس)۔ برطانوی مبصر Richard Symonds نے اسے غلط سمجھ کر لکھ دیا “Every wife was taxed” اور بعد میں یہ “بیوی ٹیکس” کی کہانی بن گئی۔ دستاویزی طور پر یہ فی کس فیس تھی، بیوی پر ٹیکس نہیں۔

  1. 21 اپریل 1947 – وفاداری کا مظاہرہ

پونچھ کے اکابرین نے خود مہاراجہ کو راولاکوٹ آنے کی دعوت دی۔ 21 اپریل 1947 کو تقریباً 40,000 سابق فوجی جو دوسری جنگ عظیم سے واپس آئے تھے، وردی پہن کر، اسلحہ سمیت پریڈ کر کے سلامی دی۔ انہوں نے سپاس نامہ پیش کیا جس میں تین مطالبے تھے:

  1. زمین کی ملکیتی حقوق
  2. بیگار کا خاتمہ
  3. سابق فوجیوں کو ریاستی فوج میں بھرتی کیا جائے

اس سپاس نامے میں ان مشہور “ظالمانہ ٹیکسوں” کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

یہاں دو نظریے ٹکرائے:
پونچھیوں کی نظر میں: ہم وفاداری دکھا رہے ہیں۔
مہاراجہ کی نظر میں:
میری پوری فوج 9,000 ہے، یہ 40,000 مسلح تربیت یافتہ فوجی میرے دارالحکومت سے باہر پریڈ کر رہے ہیں، یہ ریاست کے لیے خطرہ ہے۔

یہ وہی اصول ہے جو آج بھی ہر ریاست کا ہے۔ کوئی بھی دارالحکومت اپنی حدود میں دوسری مسلح پریڈ برداشت نہیں کرتا۔

  1. مہاراجہ فوج میں بھرتی کیوں نہ کر سکا؟

مہاراجہ قانونی طور پر مجبور تھا۔

  • معاہدہ امرتسر اور امپیریل سروس اسکیم کے تحت اس کی فوج کی تعداد انگریز ریزیڈنٹ سے منظور شدہ تھی۔
  • 60,000 فوجی بھرتی کرنے کا مطلب سالانہ بجٹ کا 40% صرف تنخواہوں پر۔
  • اگر بھرتی کرنا بھی ہوتا تو پیرا ملٹری یا لیوی جیسی نئی فورس بنانی پڑتی، جس کے لیے دہلی سے منظوری اور 12 سے 18 ماہ کا وقت درکار تھا۔

اس کے پاس صرف 3 ماہ تھے۔ 3 جون 1947 کو تقسیم کا اعلان ہو چکا ۔

اس نے فوری حل کے طور پر حکم دیا کہ فوجیوں سے اسلحہ جمع کرایا جائے۔ لیکن غلطی یہ کی کہ وہ اسلحہ سرکاری تحویل میں رکھنے کے بجائے ہندو اور سکھ آبادی میں تقسیم کر دیا۔ یہ فیصلہ اعتماد توڑنے والا ثابت ہوا۔

  1. بغاوت کیسے شروع ہوئی؟

جون-جولائی 1947 میں No Tax تحریک شروع ہوئی۔ وزیر مال ٹیکس وصول کرنے آیا تو جھڑپیں ہوئیں۔ ستمبر میں سابق فوجیوں نے اپنا اسلحہ واپس لینے کے لیے کارروائی کی۔ اکتوبر میں باہر سے قبائلی دستے بھی مظفرآباد کے راستے ریاست پر حملہ آور ہو گئے۔
گولی قبائلی پونچھ میں نہیں آئے ۔لیکن ریاست میں داخل ہوگئے۔

  1. فیک کیا ہے اور سچ کیا ہے؟

فیک جو چلایا گیا:

  • 1947 میں مہاراجہ نے نیا “بیوی ٹیکس” لگایا – کوئی نوٹیفکیشن نہیں۔
  • پونچھ میں باقی ریاست سے الگ قوانین تھے – 1940 کے بعد نہیں تھے، وہ جموں کا ضلع تھا۔

سچ جو رہ گیا:

  • 1940 سے پہلے جاگیر میں کئی چھوٹے محصول (cess) تھے جو بہی کھاتوں میں درج ہوتے تھے، گزٹ میں نہیں۔
  • 1940 کے بعد ٹیکس کا بوجھ بڑھا، یہ سچ ہے، لیکن وہ ریاستی ٹیکس تھے، کوئی نیا ظالمانہ ٹیکس نہیں۔
  • بغاوت کی فوری وجہ ٹیکس نہیں، اسلحہ چھیننا اور بے روزگاری تھی۔
  1. سبق: علاقائی بغاوتیں
    کیوں ناکام ہوتی ہیں۔۔۔۔
    تاریخ گواہ ہے کہ بغاوتیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو دارالحکومت میں ہوں – جہاں ریاست کا مرکز، خزانہ، اور فیصلہ سازی ہو۔ فرانس، روس، ایران کی مثالیں سامنے ہیں۔

علاقائی بغاوتیں، چاہے کتنی ہی جائز کیوں نہ ہوں، ہمیشہ دو انجام پر پہنچتی ہیں:

  1. ریاست انہیں طاقت سے دبا دیتی ہے
  2. یا باہر کے لوگ اس میں گھس کر اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کر لیتے ہیں، اور مقامی لوگوں کا اصل مطالبہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

پونچھ میں بھی یہی ہوا۔ کسانوں کا مطالبہ زمین کے حقوق اور نوکری کا تھا، لیکن 3 ماہ میں وہ مطالبہ تقسیم ہند کے بڑے کھیل میں بدل گیا۔ فائدہ مقامی کسان کو کم، باہر کے کھلاڑیوں کو زیادہ ہوا۔

خلاصہ:
پونچھ کے لوگوں کی شکایت بے بنیاد نہیں تھی، لیکن اسے “ظالمانہ ٹیکسوں” کی کہانی بنا کر پیش کرنا بھی تاریخ نہیں۔ یہ ایک ایسی انتظامی ناکامی تھی جس میں وقت کی کمی، قانونی مجبوریاں، اور اعتماد کا فقدان سب شامل تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1940 کے نوٹیفکیشن کی اصل عبارت اور اس کا حوالہ:

سرکاری اعلان 1940 – پونچھ جاگیر کا خاتمہ

“With the death of Jagatdev Singh in 1940, his son Shiv Rattan Dev Singh became the new Raja while being a minor. Maharaja Hari Singh appointed a guardian, who was his military secretary, to look after the Raja’s ‘property’.”

اردو ترجمہ:
“جگت دیو سنگھ کی وفات 1940 میں ہوئی، اس کا بیٹا شو رتن دیو سنگھ نابالغ ہونے کے باوجود نیا راجہ بنا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنا فوجی سیکرٹری اس کی ‘جائیداد’ کی دیکھ بھال کے لیے سرپرست مقرر کر دیا۔”

اسی اعلان میں پونچھ کو “جاگیر” قرار دیا گیا۔

اس پر جولائی 1940 میں پونچھ کی عوام کا ردعمل:

“In July 1940, a gathering of Poonch public passed a resolution expressing ‘profound sorrow and deep indignation and resentment’ at the Maharaja’s proclamation and his description of Poonch as a jagir.”

ترجمہ: “جولائی 1940 میں پونچھ کے عوامی اجتماع نے قرارداد پاس کی جس میں مہاراجہ کے اعلان اور پونچھ کو جاگیر کہنے پر ‘گہرے رنج اور شدید غم و غصہ اور ناراضگی’ کا اظہار کیا گیا۔”

اس کے بعد عملی اقدام:

“After the death of Raja Jagatdev Singh of Poonch in 1940, Maharaja Hari Singh appointed a chosen guardian for his minor son, Shiv Ratandev Singh, and used the opportunity to integrate the Poonch jagir into the state of Jammu and Kashmir. Poonch came to be administered by the officers of Jammu and Kashmir as a district of the Jammu province.”

ترجمہ: “راجہ کی وفات کے بعد مہاراجہ نے اس موقع کو پونچھ جاگیر کو ریاست جموں و کشمیر میں ضم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ پونچھ جموں و کشمیر کے افسران کے زیر انتظام جموں صوبے کے ضلع کے طور پر آنے لگا۔”

اہم نکتہ
یہی وہ نوٹیفکیشن ہے جس سے بات ثابت ہوتی ہے:
1940 کے بعد پونچھ باقاعدہ ضلع تھا، اس لیے اس میں کوئی الگ ٹیکس کا فرمان جاری ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ جو ٹیکس لگا، وہ پورے جموں صوبے کا ٹیکس تھا۔

اصل دستاویز Jammu & Kashmir Government Gazette, 1940 اور Jammu Archives File No. 22/1940 میں محفوظ ہے۔

مصنف کے بارے میں

Adrees Shrar
سیاسی کارکن/رائٹر۔جموں اینڈ کشمیر
تحریک بحالی ریاست

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *