22 اکتوبر 1947 – ریاست جموں و کشمیر پر قبائلی لشکر کشی: ایک متوازن مطالعہ

شئر کریں

ادریس شرر

22 اکتوبر کی صبح اس ریاست کی تاریخ کا وہ موڑ ہے جس کے بعد ریاست کبھی ایک نہ رہ سکی۔ اس دن جو ہوا اس پر تین طرح کے بیانات ملتے ہیں، اور سچ انہی کے بیچ میں کہیں ہے۔

1۔۔پس منظر کیا تھا؟

اگست 1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے دونوں ڈومین کے ساتھ Standstill Agreement کی پیشکش کی تھی۔ پاکستان نے 12 اگست کو معاہدہ کر لیا، بھارت نے مزید بات چیت کا کہا۔ مہاراجہ آزاد رہنا چاہتا تھا۔

دوسری طرف پونچھ میں شورش شروع ہو چکی تھی، جموں میں سکا دکا فرقہ وارانہ فسادات میں کچھ مسلم کا قتل ہوا، اور پاکستان نے ریاست کو پٹرول، نمک، چینی کی سپلائی روک دی تھی۔
۔قبائلی حملہ کے بعد چھ نومبر 1947 کو جموں میں ہزاروں مسلم جو پاکستان ہجرت کررہے تھے مارے گئے

  1. حملہ کیسے ہوا؟ – عینی شاہدین کی زبانی

سرکاری ریکارڈ:
Operation Gulmarg کے نام سے منصوبہ بنا۔ پاکستانی فوج کے میجر جنرل اکبر خان نے اپنی کتاب Raiders in Kashmir
میں خود لکھا کہ انہوں نے GHQ میں بیٹھ کر 4000 رائفلیں پولیس کے نام پر لے کر قبائل کو دیں، اور ہر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر – بنوں، وانا، پشاور، کوہاٹ، تھل، نوشہرہ سے جتھے کر جتھہ میں 1000 قبائلیوں کا لشکر بھرتی کرنے کا حکم دیا۔ ان کا ہدف 26 اکتوبر تک سرینگر پر قبضہ تھا۔

21-22 اکتوبر کی رات:
20000 سے زیادہ مسلح قبائلیوں نے گڑھی حبیب اللہ کے راستے سرحد پار کی اور مظفرآباد پر حملہ کیا۔ وہاں تعینات جے کے اسٹیٹ فورس کی 4 J&K Rifles کی دو مسلم کمپنیوں نے بغاوت کی اور اپنے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل نارائن سنگھ کو شہید کر کے شہر کے دروازے کھول دیے۔

مظفرآباد کے عینی شاہد:
خواجہ عبدالصمد نے لکھا: _”ان کے حملے نے مظفرآباد کو مکمل تباہ کر دیا، ہندو اور مسلمان دونوں کے گھر لوٹے گئے، دکانیں لٹیں، عبادت گاہیں بھی نہ بچی، مندر گرائے اور مسجدوں کی بے حرمتی کی گئی”

پاکستانی صحافی زاہد چوہدری نے اپنی 12 جلدی کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ میں لکھا کہ تین دن تک لوٹ مار، قتل، آتش زنی اور اغوا جاری رہا۔

بارہمولہ کے عینی شاہد:
امریکی صحافی رابرٹ ٹرمبل نے نیویارک ٹائمز میں لکھا: “بارہمولہ کو اس کی دولت اور جوان عورتوں سے محروم کر دیا گیا۔ 14 ہزار آبادی میں سے صرف 1000 لوگ رہ گئے۔ زندہ بچنے والوں کے اندازے کے مطابق 3000 شہری، جن میں چار یورپی، ایک ریٹائرڈ برطانوی کرنل ڈائیکس اور اس کی حاملہ بیوی شامل تھیں، قتل ہوئے”۔

سینٹ جوزف کانونٹ اور ہسپتال میں نرسز اور مریضوں پر بھی حملہ ہوا، فادر شانکس اور سسٹر ٹیریسالینا شہید ہوئیں۔

پاکستانی قبائلی حسّین گل جو خود لشکر میں تھا، اس نے 2017 میں بی بی سی کو انٹرویو میں کہا: “میرے والد جو 1947 میں لڑنے گئے تھے، شکست کھا کر واپس آئے لیکن لوٹ کا مال لائے – سونا اور کچھ عورتیں”۔

  1. مصنفین اور دانشوروں کی نظر میں دو بیانیے

بھارتی / ریاستی بیانیہ:
ڈاکٹر ایس این پرساد اور دھرم پال نے اپنی سرکاری تاریخ Operations in Jammu and Kashmir 1947-48 میں لکھا کہ یہ پاکستان کی ریاستی جارحیت تھی جس نے Standstill Agreement توڑا۔ 22 اکتوبر کو حملہ کیا۔اس لیے یہ بلیک ڈے کہا جاتا ہے۔

پاکستانی / آزاد جموں وکشمیر بیانیہ:
یہاں کہا جاتا ہے کہ یہ “خود رو” جہاد تھا۔ پونچھ بغاوت اور جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کے ردعمل میں قبائل خود اٹھے۔ سردار ابراہیم اور دیگر مسلم کانفرنس رہنماؤں نے اسے آزادی کی تحریک کا حصہ قرار دیا۔

غیر جانبدار مؤرخین:
ایلاسٹر لیمب، کرسٹوفر سنیڈن اور وکٹوریہ اسکوفیلڈ جیسے برطانوی مؤرخین لکھتے ہیں کہ سچ دونوں بیانیوں کے بیچ ہے۔ قبائلی لشکر میں حقیقی مذہبی جوش بھی تھا، لیکن اس کی تنظیم، اسلحہ، ٹرک اور فوجی افسران – میجر خورشید انور جیسے – پاکستانی ریاست نے فراہم کیے۔ اگر لوٹ مار کے لیے بارہمولہ میں 2 دن نہ رکتے تو شاید 27 اکتوبر کو بھارتی فوج کے آنے سے پہلے سرینگر گر جاتا۔

نتیجہ

22 اکتوبر 1947 کوئی چھوٹا سرحدی واقعہ نہیں تھا۔ اس نے تین چیزیں ایک ساتھ کر دیں:
1۔۔مہاراجہ کو بھارت سے الحاق پر مجبور کر دیا
2. جموں و کشمیر کے مسلمانوں سمیت ہزاروں شہریوں کے لیے قتل و غارت کا دروازہ کھولا
3. وہ لکیر کھینچی جو آج کنٹرول لائن ہے۔ریاست تقسیم ہوگئ۔

عینی شاہدین – چاہے وہ مظفرآباد کا خواجہ ہو، بارہمولہ کا عبد الرحمن ہو، یا امریکی صحافی ٹرمبل – سب ایک بات پر متفق ہیں: اس دن جو ہوا وہ جنگ سے زیادہ لوٹ مار تھی، جس کی قیمت جموں و کشمیر کے باشندوں نے چکائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تحریر کا ہر دعویٰ سرکاری ریکارڈ اور عینی شاہدین کی کتابوں سے لیا گیا ہے، یہ رہے اصل ماخذ:

  1. Operation Gulmarg اور 4000 رائفلوں کی چوری

Late Maj. General Akbar Khan… had penned down a book titled ‘Raiders in Kashmir’ where he showed how Pakistan planned the invasion… He devised a plan to use a previous government sanction for the issue of 4,000 military rifles to the Punjab Police and have the rifles transferred from the police to the raiders

اکبر خان خود لکھتا ہے کہ وہ GHQ میں Director Weapons & Equipment تھا اور اس نے پنجاب پولیس کے نام پر 4000 رائفلیں لے کر قبائلیوں کو دیں۔

اسی کتاب میں وہ لکھتا ہے کہ اس نے یہ منصوبہ لاہور میں شاہنواز حیات خان کے دفتر میں، پھر وزیر اعظم لیاقت علی خان کی صدارت والی میٹنگ میں پیش کیا تھا۔

  1. حملہ 22 اکتوبر کی صبح کیسے شروع ہوا؟

سرکاری بھارتی تاریخ Operations in Jammu and Kashmir 1947-48 میں مصنفین ڈاکٹر S N Prasad اور Dharam Pal لکھتے ہیں:

“Early in the morning of 22 October, the main column of the raiders crossed the frontier from Garhi Habibullah and attacked Muzaffarabad… The traitors of the 4 K I holding the outposts at Lohar Gali and Ramkot, joined the raide

یعنی 22 اکتوبر صبح گڑھی حبیب اللہ سے حملہ، اور جے کے اسٹیٹ فورس کی 4 جموں وکشمیر انفنٹری کے مسلم سپاہیوں نے بغاوت کی۔

یہی کتاب بھارت کی Ministry of Defence کی “سرکاری Official History ہے۔

  1. مظفرآباد اور بارہمولہ کے عینی شاہدین

امریکی صحافی Robert Trumbull – New York Times 10 نومبر 1947:

“Baramulla had been stripped of its wealth and young women before the tribesmen fled… Surviving residents estimated that 3,000 of their fellow townsmen, including four Europeans and a retired British Army Officer, Colonel Dykes, and his pregnant wife, were slain.”

جو ویڈیو پوسٹ پر لگائ ہے وہ اسی رپورٹ کی فوٹیج ہے – British Pathé / Reuters آرکائیو۔

سینٹ جوزف کانونٹ پر حملہ:

“one party of Mahsud tribesmen scaled the walls of Saint Joseph’s Franciscan Convent compound and stormed its hospital and church. Four nuns, Colonel Dykes and his wife were shot.” e274

  1. یہ کتابیں کہاں ملیں گی؟

1.Major General Akbar Khan – Raiders in Kashmir (1948 – اصل کتاب پاکستان میں بین تھی، اب بھارت میں دوبارہ شائع ہوئی ہے۔ NatStrat نے اس کے اقتباسات شائع کیے ہیں۔
2. S N Prasad & Dharam Pal – Operations in Jammu and Kashmir 1947-48 – History Division, Ministry of Defence, Government of India, 1987 – 418 صفحات۔
3. Andrew Whitehead – A Mission in Kashmir – اس میں سینٹ جوزف ہسپتال کے فادر شینکس کی ڈائری۔
4. Indian Government White Paper on Jammu & Kashmir, March 1948 – اس میں Trumbull کی رپورٹ کو بطور سرکاری ثبوت شامل کیا گیا تھا۔

مصنف کے بارے میں

Adrees Shrar
سیاسی کارکن/رائٹر۔جموں اینڈ کشمیر
تحریک بحالی ریاست

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *