آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس، مظفرآباد میں دو خواتین اور ان کے شوہروں کی گرفتاری پر ہنگامہ اپوزیشن کا واک اوٹ

شئر کریں

مظفرآباد میں واقع آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا حالیہ اجلاس شدید ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن کے احتجاجی واک آؤٹ کی نذر ہو گیا۔ یہ احتجاج مظفرآباد شہر سے دو خواتین اور ان کے شوہروں کی پولیس کے ہاتھوں مبینہ طور پر بغیر کسی مقدمے کے گرفتاری کے خلاف سامنے آیا۔

اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ اسمبلی خواجہ فاروق احمد نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ پولیس نے شہر سے دو خواتین، جن کے نام آنسہ اور مریم ہیں، کو گرفتار کر کے ون فائیو (15) سینٹر میں رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب ان خواتین کے شوہر، ارشد اور امجد، اپنی بیویوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پولیس اسٹیشن گئے تو پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا۔ خواجہ فاروق احمد کے مطابق ان چاروں افراد کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جو کہ سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اس موقع پر سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے بھی حکومتی رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر قانون نے اس انتہائی حساس معاملے پر انتہائی کمزور اور غیر تسلی بخش جواب دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر قانون کو ایوان کو ایک واضح وقت بتانا چاہئے تھا کہ وہ کب تک اس معاملے کی مکمل معلومات حاصل کر کے اسمبلی کو آگاہ کریں گے۔

حکومتی جواب پر اپوزیشن اراکین کے تحفظات کے باعث ایوان میں اس وقت شدید بدمزگی پیدا ہو گئی جب حکومت اور تحریک انصاف کے اراکین کے درمیان سخت تلخ کلامی اور نوک جھونک شروع ہو گئی۔ حکومتی رویے اور تسلی بخش جواب نہ ملنے پر تحریک انصاف کے تمام اراکینِ اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور مروجہ کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کر گئے۔

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *