آزاد کشمیر: ایک عوامی تحریک، ایک معاہدہ اور 9 جون کا سوال
شمس الرحمٰن، برطانیہ
4 اکتوبر 2025 کی رات مظفرآباد کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کا ایک کمرہ آزاد جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی منظر پیش کر رہا تھا۔
بھورے رنگ کی چمکتی ہوئی بڑی میز کے گرد پاکستان کی حکمران جماعتوں کے وزرا، سینئر سیاست دان، آزاد کشمیر حکومت کے نمائندے اور ایک سابق صدر بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے تین عام سے انسان موجود تھے: شوکت نواز میر، راجہ امجد علی ایڈووکیٹ اور انجم زمان اعوان۔ یہ تینوں جموں کشمیر جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے ارکان تھے۔
یہ محض ایک مذاکراتی نشست نہیں تھی۔ یہ آزاد کشمیر کے پرانے حکمران ڈھانچے اور ایک نئی عوامی قوت کا آمنا سامنا تھا۔ ایک طرف ریاستی، حکومتی اور جماعتی طاقت کے نمائندے تھے؛ دوسری طرف وہ لوگ جو نہ کسی اسمبلی کے رکن تھے، نہ وزیر، نہ کسی سیاسی خاندان کے وارث، نہ کسی بڑی جماعتی مشینری کے مالک۔ لیکن ان کے پیچھے عوام کا غصہ، امید، شعور اور سڑکوں پر موجود بے مثال طاقت کھڑی تھی۔
ہوٹل کے اس کمرے سے باہر صورت حال اور بھی بڑی تھی۔ مظفرآباد کی سڑکوں پر عوام کا سمندر تھا۔ لوگ نعرے لگا رہے تھے، ترانے گا رہے تھے، اور اپنی موجودگی سے یہ اعلان کر رہے تھے کہ آزاد کشمیر کی سیاست اب پرانے طریقے سے نہیں چل سکتی۔ کوہالہ کے مقام پر اس سے بھی بڑا ہجوم کئی میل تک پھیلا ہوا تھا۔ بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروسز بند تھیں۔ میں خود ضلع میرپور کے قصبے کالگڑھ کے گاؤں موڑا لوہاراں میں لاکھوں شہریوں کی طرح اصل صورت حال سے کٹا ہوا تھا، اور پاکستانی ٹی وی چینلز پر انحصار کرنے پر مجبور تھا؛ ایسے چینلز جن کی رپورٹنگ سے خبر کم اور ریاستی بیانیہ زیادہ برآمد ہو رہا تھا۔
اس رات مذاکرات کی میز پر صرف 38 مطالبات نہیں رکھے گئے تھے۔ دراصل آزاد کشمیر کے عوام یہ پوچھ رہے تھے کہ اس خطے میں حکومت کس کی ہے؟ اختیار کس کے پاس ہے؟ اور عوامی نمائندگی کا مطلب آخر ہے کیا؟
آزاد کشمیر کا سیاسی تضاد
آزاد جموں کشمیر کا سیاسی ڈھانچہ بظاہر مکمل نظر آتا ہے۔ یہاں صدر ہے، وزیر اعظم ہے، اسمبلی ہے، حکومت ہے، انتخابات ہوتے ہیں، سیاسی جماعتیں کام کرتی ہیں، حکومتیں بنتی اور گرتی ہیں۔ مگر اس ظاہری جمہوری ڈھانچے کے پیچھے اختیار کی ایک محدود، مشروط اور کنٹرول شدہ حقیقت موجود ہے۔
عوام ووٹ دیتے ہیں، لیکن بڑے فیصلوں پر ان کا اختیار محدود رہتا ہے۔ اسمبلی موجود ہے، مگر اس کی خودمختاری سوالیہ نشان ہے۔ حکومت بنتی ہے، مگر اس کے ہاتھ کئی معاملات میں بندھے رہتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی مقامی شاخیں حکومت سازی، وزارتوں، ترقیاتی فنڈز، ملازمتوں اور انتخابی جوڑ توڑ میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
اسی ڈھانچے کا ایک اہم اور متنازع پہلو مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ہیں۔ آزاد کشمیر کے اندر رہنے والے عام شہری ان نشستوں کے ووٹروں پر کوئی اثر نہیں رکھتے، مگر یہ نشستیں آزاد کشمیر اسمبلی کے توازن اور حکومت سازی پر فیصلہ کن اثر ڈالتی ہیں۔ یوں ایک ایسی اسمبلی، جسے آزاد کشمیر کے عوام کی نمائندہ ہونا چاہیے، اس کے اندر ایک بڑا حصہ ان ووٹروں سے آتا ہے جو آزاد کشمیر حکومت کے دائرہ اختیار میں رہتے ہی نہیں۔
یہی وہ سیاسی پس منظر ہے جس میں عوامی مسائل برسوں سے جمع ہوتے رہے: بجلی کے بل، آٹے کی قیمت، صحت، تعلیم، سڑکیں، پل، دفاتر کی بدعنوانی، بیوروکریسی کا رویہ، اسمبلی ممبران کی مراعات، اور عام شہری کی روزمرہ بے بسی۔
روایتی سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے اکثر انہیں انتخابی وعدوں، برادری ازم، علاقائی اثرورسوخ اور اقتدار کی سودے بازی کا حصہ بنایا۔ اسی خلا سے جموں کشمیر جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ابھری۔
ایکشن کمیٹی کیسے عوام کی آواز بنی؟
جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں تھی۔ اس کے پاس نہ اسمبلی کی نشستیں تھیں، نہ وزارتیں، نہ سرکاری وسائل، نہ بڑے سیاسی خاندان۔ یہ مختلف اضلاع، شہروں، قصبوں، تاجروں، ٹرانسپورٹروں، وکلا، طلبہ، مزدوروں، نوجوانوں اور عام شہریوں کے مشترکہ غصے اور مطالبات سے جنم لینے والی عوامی قوت تھی۔
شروع میں اس کے مطالبات بظاہر معاشی تھے۔ بجلی کے بل کم کیے جائیں، آٹے پر سبسڈی بحال ہو، عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے، اور حکمران اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں۔ مگر وقت کے ساتھ واضح ہونے لگا کہ یہ تحریک صرف بجلی یا آٹے کا سوال نہیں رہی۔ یہ عوامی اختیار، نمائندگی اور حکمرانی کے انداز کا سوال بن رہی تھی۔
عوام نے محسوس کیا کہ بجلی، آٹا، صحت، تعلیم، سڑک، پٹواری، تھانہ، دفتر، افسر اور اسمبلی ممبر الگ الگ مسئلے نہیں۔ یہ سب ایک ہی حکمرانی کے بحران کی مختلف شکلیں ہیں۔
11 مئی 2024: جب عوام سڑکوں پر نکل آئے
اس نئی عوامی سیاست کا پہلا بڑا اظہار 11 مئی 2024 کے لانگ مارچ میں ہوا۔
اس وقت تین بنیادی مطالبات تھے۔ آزاد کشمیر، جہاں دو ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے اور جس کی اپنی ضرورت تقریباً چار سو میگاواٹ ہے، وہاں عوام کو بجلی لاگتی نرخوں پر دی جائے۔ بجلی بلوں سے وہ ٹیکس ختم کیے جائیں جن کا آزاد کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ آٹے کی سبسڈی بحال کی جائے۔ اور حکمران اشرافیہ — اسمبلی ممبران، وزرا، وزیر اعظم، اعلیٰ افسران اور جج صاحبان — کی شاہانہ مراعات ختم کی جائیں۔
یہ مطالبات نئے نہیں تھے۔ تحریک ایک سال سے چل رہی تھی۔ حکومت نے کئی بار مذاکرات میں مطالبات تسلیم کیے، مگر عملی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے گریز کیا۔ عام تاثر یہ تھا کہ آزاد کشمیر کے لوگ اپنی برادریوں، قبیلوں اور اسمبلی ممبران کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو، جن میں میں خود بھی شامل تھا، اندازہ نہیں تھا کہ عام شہری اتنی بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئیں گے۔
مگر پھر منظر بدل گیا۔
حکومت نے مظفرآباد میں پاکستان سے رینجرز منگوا کر تعینات کر دی تھیں۔ مارچ کے آغاز پر ہی کالگڑھ، اسلام گڑھ، میں پولیس نے مظفرآباد جانے والے ایک چھوٹے قافلے کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ لیکن جب مقامی عوام بڑی تعداد میں نکل آئے تو پولیس نے آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا۔ کشیدگی میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر عدنان قریشی جاں بحق ہو گئے۔ حیرت انگیز طور پر مقدمہ ان مقامی ایکشن کمیٹی رہنماؤں کے خلاف درج کیا گیا جو جھڑپوں سے پہلے ہی پولیس حراست میں تھے۔
اس کے بعد قافلہ آگے بڑھتا گیا اور لوگ اس میں شامل ہوتے گئے۔ سینکڑوں ہزاروں میں بدل گئے۔ جب قافلہ تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے راولاکوٹ پہنچا تو مجمع لاکھوں میں تھا۔ دوسرے شہروں اور دیہات سے بھی عوام اس تعداد میں نکلے کہ پولیس اور انتظامیہ بے بس ہو گئے۔
مظفرآباد پہنچنے سے پہلے مذاکرات ہوئے۔ ایکشن کمیٹی کے تین بنیادی مطالبات منظور کیے گئے۔ پاکستان حکومت نے 23 ارب روپے کا پیکج دیا۔ نوٹیفکیشن جاری ہوئے۔ بجلی کے بل لاگتی قیمت پر آنے لگے۔ آٹا رعایتی قیمت پر ملنے لگا۔ مگر مظفرآباد میں رینجرز کی فائرنگ سے تین نہتے مظاہرین جاں بحق ہوئے۔ مجموعی طور پر چار افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
یہ ریلیف آزاد کشمیر کے عام لوگوں کے لیے 1947 کے بعد شاید سب سے بڑا عملی معاشی ریلیف تھا۔ اسی کے بعد عوام نے ایکشن کمیٹی کو اپنی “پارٹی” سمجھنا شروع کر دیا، اگرچہ ایکشن کمیٹی خود روایتی جماعت نہیں تھی۔
معاشی مطالبات سے حق حکمرانی تک
2024 کی کامیابی کے بعد تحریک کا دائرہ پھیلنے لگا۔ عوامی دباؤ اور مشاورت کے نتیجے میں تعلیم، صحت، سڑکیں، پل، دفاتر کی بدعنوانی، بہتر طرز حکمرانی، اسمبلی ممبران کے اختیارات کے ناجائز استعمال، اور مقامی محکموں پر سیاسی کنٹرول جیسے مسائل بھی چارٹر آف ڈیمانڈ کا حصہ بن گئے۔
یہ ایک اہم موڑ تھا۔ تحریک اب صرف ریلیف کی تحریک نہیں رہی تھی۔ یہ عوامی زندگی کے مجموعی بحران کو بیان کرنے لگی تھی۔ ایکشن کمیٹی کی زبان میں “حق ملکیت” اور “حق حکمرانی” جیسے نعرے نمایاں ہونے لگے۔ یہ نعرے دراصل عوام کو رعایا سے شہری بنانے کی کوشش تھے۔
آزاد کشمیر حکومت نے اس عوامی سرگرمی کو روکنے کے لیے صدارتی فرمان کے ذریعے پابندیاں لگانے کی کوشش کی۔ مگر بھرپور عوامی احتجاج کے بعد وہ فرمان واپس لینا پڑا، جسے جاری کرنے والے صدر نے خود “کالا قانون” کہا۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ ایکشن کمیٹی کو اب انتظامی حکم ناموں سے نہیں روکا جا سکتا۔
جب حقوق کی تحریک کو سلامتی کا مسئلہ بنایا گیا
جب عوامی تحریک کو مذاکرات، تاخیر اور حکومتی بیانات سے کمزور نہ کیا جا سکا تو پرانا آزمودہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ آزاد کشمیر کی تاریخ میں متبادل سیاسی سوچ کو اکثر “بھارتی سازش”، “کمیونسٹ سازش”، “ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمی” یا “ریاست مخالف ایجنڈا” کہہ کر بدنام کیا جاتا رہا ہے۔
29 ستمبر 2025 کے لانگ مارچ اور ہڑتال سے پہلے بھی یہی کوشش ہوئی۔ آزاد کشمیر کی حکومتی جماعتوں کے رہنماؤں نے 16 ستمبر کو مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ ایک کاغذ لہرا کر بتایا گیا کہ یہ “سائفر” ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
مقصد واضح تھا: عوامی حقوق کی تحریک کو سلامتی کے مسئلے میں بدل دیا جائے تاکہ اسے کچلنا آسان ہو جائے۔
میں نے یہ پریس کانفرنس سوشل میڈیا پر دیکھی تو سوچا کہ شاید اب عام آدمی ایکشن کمیٹی سے دور ہو جائے گا۔ لیکن اس بار صورت حال بدل چکی تھی۔ چند گھنٹوں کے اندر لوگ اس مبینہ سائفر میں تاریخوں اور املا کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے لگے۔ حکومت اور نام نہاد اپوزیشن کے رہنماؤں پر کھلی تنقید شروع ہو گئی۔ عوام پرانا خوف توڑ رہے تھے۔
اسی سلسلے میں 21 ستمبر کو راولاکوٹ میں تمام مین سٹریم جماعتوں نے افواج پاکستان سے یکجہتی کے نام پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔ خیال تھا کہ راولاکوٹ اور گردونواح سے بڑی تعداد جمع ہو گی۔ آزاد کشمیر میں پاکستانی فوج کے ساتھ عمومی جذباتی وابستگی موجود ہے، اس لیے توقع کی جا رہی تھی کہ یہ جلسہ عوامی لہر کا رخ بدل دے گا۔
لیکن 21 ستمبر کو منظر حیران کن تھا۔ کئی سابق وزرائے اعظم اور بڑی جماعتوں کے سربراہ چند سو افراد بھی جمع نہ کر سکے۔ خالی کرسیاں، ادھوری تقریریں، اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز نے بتا دیا کہ روایتی جماعتیں عوامی مزاج کو پڑھنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ وطن پرستی کے نام پر عوامی حقوق کے سوال کو دبانے کا پرانا فارمولا اس بار کمزور پڑ گیا۔
29 ستمبر: ہڑتال، خاموش فون اور بولتی ہوئی سڑکیں
28 ستمبر کو آزاد کشمیر بھر میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند کر دی گئی۔ معلومات کے صرف دو ذرائع رہ گئے: ایک وہ لوگ جو ایک شہر سے دوسرے شہر آ جا رہے تھے، اور دوسرا پاکستانی ٹی وی چینلز۔
29 ستمبر کی شام پاکستانی چینلز کا بیانیہ تقریباً ایک جیسا تھا: ہڑتال ناکام ہو گئی ہے، بھارتی مداخلت کے شواہد ملے ہیں، اور ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے ہڑتال کی ناکامی سے دلبرداشتہ ہو کر ایک “امن مارچ” پر حملہ کر دیا ہے۔
مجھے یقین تھا کہ یہ خبریں درست نہیں۔ میری نظر میں ہڑتال کی کامیابی کا پیمانہ میرا اپنا قصبہ کالگڑھ تھا۔ میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے مل چکا تھا اور جانتا تھا کہ کالگڑھ نسبتاً کمزور مقام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھی مکمل ہڑتال تھی۔ پھر باقی علاقوں میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
کالگڑھ میں کئی دنوں تک عوامی مجمع لگا رہا۔ قناتوں کے نیچے لوگ جمع رہتے۔ میں دن میں ایک دو بار وہاں جاتا، دوست کی دکان کے تھڑے پر بیٹھتا، مقامی رہنماؤں کی تقاریر سنتا، اور شام کو دکانوں کے باہر لوگوں سے دن بھر کی “خبریں” سنتا، جو اکثر افواہوں اور اندازوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔ مگر ایک بات بالکل واضح تھی: لوگوں میں خوف نہیں تھا۔
یہ بھی اہم تھا کہ وہاں صرف ایکشن کمیٹی کے نئے لوگ نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی دوسری صف کے مقامی رہنما بھی موجود تھے۔ وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر حکومت، انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں پر تنقید کر رہے تھے، اور نسبتاً نئے ایکشن کمیٹی رہنماؤں کی رہنمائی بھی کر رہے تھے۔ آزاد کشمیر میں ایک نئی، منفرد اور عوامی سیاسی قوت جنم لے رہی تھی۔
مظفرآباد معاہدہ: فتح یا مہلت؟
29 ستمبر کے تاریخی احتجاج کے بعد حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کے نمائندے آخرکار مظفرآباد کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔ 3 اور 4 اکتوبر کو تقریباً چوبیس گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد مظفرآباد معاہدے پر دستخط ہوئے۔
ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل 38 مطالبات اصولی طور پر تسلیم کیے گئے۔ تین ماہ کے اندر عمل درآمد کا وعدہ کیا گیا۔ دو کمیٹیاں بنانے کا اعلان ہوا۔ ایک کمیٹی عمل درآمد کے لیے، دوسری مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے آئینی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے۔
لانگ مارچ ختم ہوا۔ ہڑتال ختم ہوئی۔ انٹرنیٹ اور فون بحال ہوئے۔ مگر کم از کم سات شہری اور تین پولیس اہلکار جان سے جا چکے تھے۔ سینکڑوں زخمی گھروں کو لوٹے۔ اس سب کے باوجود عوام میں فتح کا احساس تھا۔ شہر شہر، گاؤں گاؤں یہ احساس موجود تھا کہ عوام نے پہلی بار اپنی اجتماعی طاقت کو اس سطح پر محسوس کیا ہے۔
لیکن اصل سوال باقی تھا: کیا یہ معاہدہ آزاد کشمیر کے حکمرانی کے انداز کو بدل دے گا، یا یہ بھی ماضی کے وعدوں کی طرح وقت گزارنے کا ایک طریقہ ثابت ہو گا؟
حکومت بدلی، طریقہ نہیں بدلا
24 اکتوبر 2025 کو میں واپس انگلینڈ آ گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں اس حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی جو تقریباً تمام جماعتوں کے ووٹوں سے بنی تھی۔ عدم اعتماد کی بنیاد یہ رکھی گئی کہ اس حکومت نے ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات نہ مان کر خطے کے حالات خراب کیے۔
نئی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی بنی۔ فیصل راٹھور وزیر اعظم بنے، جو ممتاز راٹھور کے بیٹے ہیں، جنہیں آزاد کشمیر کے اولین ترقی پسند قوم پرست وزرائے اعظم میں شمار کیا جاتا ہے۔ فیصل راٹھور نے حلف اٹھاتے ہی اعلان کیا کہ جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی محب وطن ہے، اس کے تمام مطالبات عوامی حقوق سے متعلق ہیں، اور ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
مگر عملی طور پر صورت حال مختلف رہی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی آزاد کشمیر شاخوں نے جولائی 2026 کے ممکنہ انتخابات کے لیے غیر رسمی مہم شروع کر دی۔ وہ اسی عوامی بیداری کی لہر پر سوار ہو کر دوبارہ مظفرآباد اسمبلی تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگیں، جسے ایکشن کمیٹی نے دو ڈھائی سال کی جدوجہد سے پیدا کیا تھا۔
وزیر اعظم فیصل راٹھور نہ ترقی پسند انداز میں سامنے آئے، نہ قوم پرست انداز میں۔ ان کے پروٹوکول کی کالی گاڑیوں کی قطار نے عوام میں بیزاری پیدا کی۔ پھر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایکشن کمیٹی کے 98 فیصد مطالبات پر عمل ہو چکا ہے، اور صرف مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں اور اشرافیہ مراعات جیسے معاملات قانونی و آئینی غور کے لیے باقی ہیں۔
ایکشن کمیٹی نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا۔ اس کے مطابق صحت، تعلیم، خوراک، بجلی کے انفراسٹرکچر، انٹرنیٹ سروسز اور دیگر قلیل و طویل مدتی مطالبات پر عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں پر منتخب ارکان کو اسمبلی کمیٹیوں کا چیئرمین مقرر کر دیا۔
یہاں اصل مسئلہ کھل کر سامنے آیا: حکومت معاہدے کو عملی تبدیلی کے بجائے انتخابی بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
ڈڈیال اجلاس: تحریک کا نیا سیاسی رخ
اس دوران ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر بھر میں عوامی مشاورتی کانفرنسیں شروع کیں۔ مقصد یہ جاننا تھا کہ حکومت کے دعووں کو عوام کیسے دیکھتے ہیں۔ تقریباً ہر جگہ سے ایک ہی رائے سامنے آئی: اگر حکومت معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرتی تو احتجاج ہونا چاہیے۔
30 مارچ 2026 کو ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال میں ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جو دو دن جاری رہا۔ اس اجلاس میں مظفرآباد معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے ساتھ انتخابی اصلاحات کا چارٹر بھی جاری کیا گیا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ وہ انتخابی اور جمہوری سیاست کی مخالف نہیں۔ مگر اس کا مؤقف تھا کہ انتخابات کو حقیقی، شفاف اور عوامی نمائندگی کا ذریعہ بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔
ان اصلاحات میں سب سے اہم مطالبہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کا خاتمہ تھا۔ ایکشن کمیٹی کے مطابق ان نشستوں کا آزاد کشمیر کے عوامی مسائل سے کوئی عملی تعلق نہیں۔ جن ووٹروں کے نام پر یہ نشستیں قائم ہیں وہ پاکستان میں رہتے ہیں، پاکستانی شہری کی حیثیت سے حقوق رکھتے ہیں، اور آزاد کشمیر حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ آزاد کشمیر اسمبلی نہ ان کے سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں، تھانوں یا انتظامی مسائل کو حل کر سکتی ہے، نہ ان پر حکومتی رٹ رکھتی ہے۔
اس کے باوجود 53 رکنی اسمبلی میں یہ 12 نشستیں حکومت بنانے اور گرانے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایکشن کمیٹی انہیں آزاد کشمیر کی محدود جمہوری گنجائش پر بیرونی سیاسی اثراندازی کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
اعلامیے میں حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کو 31 مئی 2026 تک معاہدے پر مکمل عمل درآمد اور انتخابی اصلاحات متعارف کرانے کا وقت دیا گیا۔ کہا گیا کہ اگر ایسا ہو گیا تو انتخابی عمل کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ اگر نہ ہوا تو 9 جون 2026 کو مکمل ہڑتال اور عوامی لانگ مارچ ہو گا۔ اس بار منزل مظفرآباد اسمبلی ہو گی، جہاں عوام اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک اسمبلی کو بااختیار نہیں بنایا جاتا۔
یہ اعلان ایک اہم سیاسی تبدیلی کی علامت تھا۔ ایکشن کمیٹی اب صرف مطالبات منوانے والی تحریک نہیں رہی۔ وہ انتخابی ڈھانچے، اسمبلی کی حیثیت اور عوامی اختیار کے سوال کو مرکز میں لا رہی تھی۔
دو متوازی سیاستیں
آج آزاد کشمیر میں دو سیاستیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔
ایک طرف روایتی سیاسی جماعتیں جولائی 2026 کے ممکنہ انتخابات کی تیاری کر رہی ہیں۔ جلسے ہو رہے ہیں، برادری رابطے ہو رہے ہیں، ٹکٹوں کی دوڑ ہے، اور حکومتی کارکردگی کے دعوے ہیں۔
دوسری طرف عوامی ایکشن کمیٹی “حق ملکیت” اور “حق حکمرانی” کے نام پر عوامی بیداری کانفرنسیں کر رہی ہے۔ ان کانفرنسوں میں نوجوان، خواتین، تاجر، مزدور، طلبہ، ملازمین اور عام شہری نظر آ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک تنظیم کی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک نئے سیاسی شعور کا اظہار ہے۔
اگر آج ایکشن کمیٹی عوام سے کہے کہ اصلاحات کے بغیر انتخابات قبول نہیں، تو بہت سے علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی فضا ہی نہ بن سکے۔ یہ بات حکومت اور روایتی جماعتوں کو سمجھنی چاہیے۔
مگر فی الحال حکومت مطالبات پر عمل درآمد سے زیادہ عوام کو ایکشن کمیٹی سے دور کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ دوسری طرف عوامی جڑت بڑھ رہی ہے، اور سیاسی و انتظامی ڈھانچے اور عام لوگوں کے درمیان فاصلہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
9 جون 2026: ایک ممکنہ موڑ
گزشتہ دو لانگ مارچوں کو سامنے رکھا جائے تو 9 جون 2026 کا اعلان معمولی نہیں۔ 2024 میں مطالبات محدود تھے، پھر بھی حکومت نے تاخیر کی، رینجرز بلائے، فائرنگ ہوئی، لوگ مارے گئے، اور آخرکار مطالبات ماننے پڑے۔ 2025 میں مطالبات وسیع تھے، حکومت نے بھارتی مداخلت کا بیانیہ بنایا، انٹرنیٹ بند کیا، میڈیا کے ذریعے ہڑتال ناکام دکھانے کی کوشش کی، مگر آخرکار مظفرآباد معاہدہ کرنا پڑا۔
2026 میں مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے۔ اب بات بجلی، آٹا یا مراعات تک محدود نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنی اسمبلی، اپنے ووٹ، اپنے وسائل اور اپنے مستقبل پر کتنا اختیار رکھتے ہیں۔
اگر مظفرآباد معاہدے پر صاف و شفاف عمل درآمد نہ ہوا، اگر 12 نشستوں کا مسئلہ حل کیے بغیر انتخابات کی طرف پیش قدمی ہوئی، اور اگر عوامی مطالبات کو ایک بار پھر سلامتی کے بیانیے، تاخیر اور بیان بازی میں دبانے کی کوشش کی گئی، تو بحران قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔
یہ بحران صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہے گا۔ آزاد کشمیر منقسم ریاست جموں کشمیر کا وہ خطہ ہے جسے نظری طور پر “آزاد” اور عملی طور پر پاکستان کے زیر انتظام سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اگر عوامی حق حکمرانی کا سوال شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان، مقبوضہ جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور پوری ریاست جموں کشمیر کے سیاسی بیانیے پر پڑ سکتے ہیں۔
نتیجہ: رعایتوں سے اختیار تک
آزاد کشمیر کی عوامی حقوق تحریک کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ عوامی سیاست وہاں جنم لیتی ہے جہاں عام آدمی کی زندگی زخمی ہوتی ہے۔
بجلی کا بل، آٹے کی قیمت، ٹوٹی سڑک، خالی ہسپتال، کمزور سکول، دفتر کا بدعنوان افسر، تھانے کا رویہ، اسمبلی ممبر کی طاقت — یہ سب بظاہر چھوٹے مسائل لگتے ہیں۔ مگر جب یہ سب مل کر ایک پورے نظام کی بے حسی کو ظاہر کریں تو عوامی تحریک جنم لیتی ہے۔
جموں کشمیر جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر کے عوام کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ صرف ووٹر نہیں، شہری بھی ہیں؛ صرف رعایا نہیں، حق دار بھی ہیں؛ صرف انتخابی موسم کا ہجوم نہیں، سیاسی قوت بھی ہیں۔
اسی لیے یہ تحریک اب صرف چند رعایتوں کی تحریک نہیں رہی۔ یہ حق ملکیت، حق حکمرانی، انتخابی اصلاحات، اسمبلی کے اختیار، عوامی نمائندگی اور آزاد کشمیر کے سیاسی مستقبل کی تحریک بن چکی ہے۔
4 اکتوبر 2025 کو پرل کانٹی نینٹل مظفرآباد کے کمرے میں تین عام آدمیوں کا حکمران طبقے کے سامنے بیٹھنا ایک علامت تھا۔ 9 جون 2026 اس علامت کا اگلا امتحان ہو سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکمران اسے ایک اور احتجاج سمجھ کر ٹالیں گے، یا آزاد کشمیر کے عوام کے بدلتے ہوئے سیاسی شعور کو سنجیدگی سے لیں گے؟
کیونکہ آزاد کشمیر کا سوال اب صرف چند نوٹیفکیشنز، چند نشستوں یا چند مراعات کا سوال نہیں رہا۔ یہ اس بنیادی حق کا سوال بن چکا ہے کہ اس خطے کے عوام اپنی زمین، اپنے وسائل، اپنی اسمبلی اور اپنے مستقبل پر کتنا اختیار رکھتے ہیں۔
مصنف کے بارے میں

تازہ ترین خبروں
رائے05/27/2026آزاد کشمیر: ایک عوامی تحریک، ایک معاہدہ اور 9 جون کا سوال
رائے05/24/2026ایک ماں کا فیصلہ – ایک صدی کا سفرکالگڑھ سے برطانیہ — ایک بھولی ہوئی ہجرت کی داستان
رائے05/21/2026دوپہر کی سوچ: تحریک، عوامی حقوق اور نظریاتی
رائے05/14/2026آزاد کشمیر میں آمدہ انتخابات: عوامی تحریک، اصلاحات اور سیاسی مستقبل
