ٹیکس کتنا جمع ہونا چاہئیے؟

شئر کریں

تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمن

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی بنیادی وجہ کم ٹیکس وصولی ہے۔ پالیسی ساز، عالمی مالیاتی ادارے اور ٹیکس حکام بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کا یہ تناسب تقریباً 9 سے 10 فیصد رہا، جبکہ بھارت میں یہ تقریباً 18 فیصد اور بنگلہ دیش میں 11 فیصد سے زیادہ ہے۔

بظاہر یہ مؤقف درست محسوس ہوتا ہے۔ کمزور ٹیکس وصولی والا ملک ترقیاتی اخراجات اور عوامی خدمات کے لیے وسائل پیدا کرنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ لیکن اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے: پاکستان صرف آمدنی کے بحران کا شکار نہیں بلکہ وسائل کے استعمال کے بحران کا بھی شکار ہے۔

مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی سے فروری تک وفاقی حکومت نے تقریباً 3200ب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل کیا۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آخری سہ ماہی میں اضافی اخراجات کو مدنظر رکھنے کے باوجود مالی سال کے اختتام تک یہ سرپلس4000 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ سرپلس وفاقی بجٹ کے 20 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

پرائمری سرپلس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے معیشت سے ٹیکس اور دیگر زرائع آمدن سے جو رقم حاصل کی، وہ اس رقم سے زیادہ جو حکومت نے خرچ کی۔ پرائمری بیلنس میں قرض کی وصولی اور ادائیگی سے متعلق رقوم شامل نہیں ہوتی۔

سرپلس کا لفظ بظاہر ایک خوش آئند احساس پیدا کرتا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنے اخراجات کو محدود رکھا ہے، لیکن درحقیقت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست نے عوام اور کاروباری طبقے سے زیادہ وسائل حاصل کر لئے لیکن ان کا ایک حصہ سرکاری امور کی انجام دہی میں خرچ نہیں کیا۔یعنی حکومت کا سرپلس دراصل عوام کے لئے خسارے کا درجہ رکھتا ہے۔

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ مزید ٹیکس کیسے اکٹھے کیے جائیں، کیونکہ ہم پہلے ہی اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ ٹیکس جمع کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے سرپلس کے باوجود معیشت کمزور، کاروبار سست، بے روزگاری بلند اور مالیاتی خسارہ برقرار کیوں ہے؟اس سوال کا جواب بنیادی طور تر قرضوں پر سودی ادائیگیوں اور مانیٹری پالیسی میں پوشیدہ ہے۔

پاکستان بھاری پرائمری سرپلس کے باوجود مجموعی مالیاتی خسارے کا شکار ہے کیونکہ جمع شدہ آمدن کا بہت بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ فروری 2026 تک کے آٹھ ماہ میں حکومت نے اپنے سرکاری امور کیلئے درکار رقم سے 3200 ارب روپیہ زیادہ جمع کیا، لیکن یہ 3200 ارب اور اس کے ساتھ مزید 2500 ارب کی رقم سود کی ادائیگی پر خرچ کی، اس اضافی ادائیگی کیلئے مزید قرض لیا، چنانچہ تمام تر ڈسپلن کے باوجود قرض کی مقدار میں اضافہ ہو گیا۔

وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ صرف اندرون ملکی قرض پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ لیکن اس ادائیگی کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے ملک پر قرض کوئی بہت ہی زیادہ ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سٹیٹ بینک جو حکومت ہی کا ایک ادارہ ہے، اس نے شرح سود بہت زیادہ رکھی ہوئ ہے۔

2023 میں پاکستان میں شرح سود 22 فیصد تک بڑھا دی گئی، جو دنیا کی بلند ترین شرح سود میں شمار ہوتی تھی، اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھا گیا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اس کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا بتایا گیا۔ لیکن سٹیٹ بینک خود ہی یہ تسلیم بھی کرتا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی زیادہ تر درآمدی اشیاء کی قیمت، روپے کی قدر میں کمی، بجلی و گیس کی قیمتوں اور عالمی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ 2024 میں پاکستان میں مہنگائی میں کمی ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی شرح سود بڑھانے سے کم نہیں ہوئی۔ اس میں کمی اس وقت آئی جب عالمی سطح پر مہنگائی کم ہوئی، تیل کی قیمتیں مستحکم ہوئیں اور بین الاقوامی سپلائی چین بہتر ہوئی۔

دوسری طرف بلند شرح سود کی مالیاتی قیمت انتہائی بھاری ثابت ہوئی۔2018-19 میں پاکستان کا سرکاری قرض تقریباً 14 فیصد بڑھا، لیکن سودی ادائیگیاں تقریباً 84 فیصد بڑھ گئیں۔ اسی طرح 2022-23 میں قرضوں میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا مگر سودی ادائیگیاں تقریباً 87 فیصد بڑھ گئیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اصل بحران قرض لینے سے زیادہ قرضوں کی مہنگی لاگت کا تھا۔

بلند شرح سود دراصل عوام کے ٹیکس کا بڑا حصہ بینکاری نظام کو منتقل کر دیتی ہے۔ عوام سے وصول کیا گیا ٹیکس ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور صنعت پر خرچ ہونے کے بجائے کمرشل بینکوں کے منافع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

بلند شرح سود نجی شعبے کے لیے قرض کا حصول بھی مشکل بنا دیتی ہے۔ کاروبار سستے قرض سے محروم ہو جاتے ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے، پیداوار کم ہوتی ہے اور معاشی سرگرمیاں سکڑ جاتی ہیں۔ یوں ایک طرف ٹیکس کاروبار سے وسائل نکالتے ہیں اور دوسری طرف مانیٹری پالیسی ان کاروباروں کی توسیع کی صلاحیت ختم کر دیتی ہے۔ اس کا مجموعی اثر کاروباری سرگرمیوں پر کئی گنا دباؤ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

پاکستان کا ٹیکس نظام بھی تیزی سے کاروبار دشمن بنتا جا رہا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے حکومت پہلے سے دستاویزی شعبوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دیتی ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ اور انکم ٹیکس کی شرحیں خطے کے اکثر ممالک سے زیادہ ہیں۔ خطے کے ممالک کم کارپوریٹ ٹیکس، مستحکم پالیسیوں اور سرمایہ کار دوست ماحول کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری انہی ممالک کا رخ کرتی ہے جہاں ٹیکس اور کاروباری لاگت کم ہو۔

یہ صورتحال پاکستان کی معاشی حکمت عملی میں ایک واضح تضاد پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف حکومت Special Investment Facilitation Council (SIFC) کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری لانے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف بلند ٹیکس، مہنگی توانائی، پالیسی غیر یقینی اور دنیا کی بلند ترین شرح سود میں سے ایک سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔

کوئی بھی سرمایہ کار ایسے ماحول کو ترجیح نہیں دے گا جہاں کاروبار پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ ہو، قرض مہنگا ہو اور پالیسی ماحول غیر یقینی ہو، جبکہ متبادل علاقائی معیشتیں نسبتاً بہتر شرائط فراہم کر رہی ہوں۔
ان کمزوریوں کو وقتی طور پر چھپانے کے لیے حکومتیں بعض شعبوں یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی ٹیکس چھوٹ اور مراعات دیتی ہیں۔ اگرچہ اس سے چند منصوبے آ سکتے ہیں، لیکن اس سے مقامی کاروباری طبقے اور مراعات یافتہ اداروں کے درمیان عدم توازن مزید بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان کو ٹیکس اصلاحات کی ضرورت ضرور ہے، لیکن صرف ٹیکس شرحیں بڑھانے کی نہیں۔اصل ضرورت سودی ادائیگیوں کی مد میں ہونے والے مالیاتی ضیاع کو روکنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، نظام کو سادہ بنانے، کاروباری لاگت کم کرنے اور سرمایہ کاری دوست ماحول پیدا کرنے کی ہے۔

سب سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ کے تین گنا سے زیادہ اخراجات کا واحد سبب سٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود کا انتخاب ہے، لیکن سٹیٹ بینک کے پاس اپنے اس فیصلے کے اثرات اور نتائج کا تجزیہ کرنے کیلئے ایک بھی رپورٹ موجود نہیں ہے۔سود کی مد میں ہونے وال 8200 ارب کے ادائیگیاں کسی پروفیشنل اور ٹیکنیکل آڈٹ کے بغیر کی جاتی ہیں۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ قانون سازی کے زریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان مانیٹری پالیسی کا جامع تجزیاتی رپورٹ منتخب عوامی فورمز کے سامنے پیش کرنے کا پابند بنایا جائے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کاروبار، عوام اور حکومت پر ڈالے گئے معاشی بوجھ کے مقابلے میں مہنگائی پر قابو پانے میں حقیقی کامیابی کتنی حاصل ہوئی۔

آج پاکستانی ٹیکس دہندگان ملک کی حقیقی ضروریات سے کہیں زیادہ وسائل فراہم کر رہے ہیں، مگر بلند شرح سود ان وسائل کو قرضوں کی ادائیگی میں تبدیل کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں بھاری ٹیکس وصولی کے باوجود مالیاتی خسارہ برقرار رہتا ہے۔ پاکستان کی مالیاتی بحث کو اب صرف “مزید ٹیکس جمع کریں” کے نعرے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ کوئی بھی ملک صرف ٹیکس بڑھا کر ترقی نہیں کر سکتا جبکہ مانیٹری پالیسی بیک وقت معیشت کی پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہی ہو۔

(نوٹ: تصویر کا تحریر سے صرف اتنا تعلق ہے کہ تصویر میں موجود ایک شخص اس کا لکھنے والا ہے۔ تصویر میں ہمارے ہم نشین کو تو کافی لوگ پہچان گئے ہوں گے، پس منظر پہچاننے والے کو ایک چاکلیٹ کا انعام)

مصنف کے بارے میں

Shams Rehman
Shams Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *