آزاد کشمیر میں آمدہ انتخابات: عوامی تحریک، اصلاحات اور سیاسی مستقبل
شمس رحمان — مانچسٹر / میرپور
کچھ عرصہ قبل جب عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بجلی بلوں کے بائیکاٹ، عوامی مزاحمت اور سول نافرمانی کی تحریک کو غیر معمولی عوامی حمایت حاصل ہوئی تو کئی مبصرین، بشمول راقم، یہ رائے دے رہے تھے کہ اس عوامی قوت کو بالآخر ایک منظم سیاسی اور انتخابی قوت میں تبدیل ہونا پڑے گا تاکہ عوامی مطالبات کو قانون ساز اداروں تک پہنچایا جا سکے۔
تاہم بعد ازاں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سینئر رہنماؤں سے گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ تحریک اس قدر مسلسل دباؤ، مذاکرات، احتجاجات اور روزمرہ کے عوامی مسائل میں مصروف رہی کہ اسے فوری طور پر انتخابی سیاست کی طرف جانے کے بجائے اپنی اصل جدوجہد اور مقاصد پر توجہ مرکوز رکھنا پڑی۔
اب 30 مارچ 2026 کو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے تازہ پالیسی اعلان میں اس سارے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کر دیا ہے۔ ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات اس وقت تک حقیقی معنوں میں عوامی اور جمہوری نہیں ہو سکتے جب تک چند بنیادی سیاسی اصلاحات نافذ نہ کی جائیں اور ساتھ ہی حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان 04 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہو۔
ایکشن کمیٹی کے مطابق اگر ان اصلاحات اور معاہدے پر عمل درآمد کے بغیر انتخابات کروائے گئے تو وہ عوامی اعتماد کے ساتھ ایک اور ناانصافی تصور ہوں گے۔ اسی بنا پر ایکشن کمیٹی نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ خود انتخابات میں حصہ نہیں لے گی اور نہ ہی کسی فرد یا گروہ کو یہ اجازت دے گی کہ وہ ایکشن کمیٹی کا نام، پلیٹ فارم یا عوامی ساکھ استعمال کر کے انتخابی سیاست کرے۔
یہ اعلان آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے پہلے عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایکشن کمیٹی شاید مستقبل میں ایک سیاسی جماعت یا انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن موجودہ پالیسی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ کمیٹی فی الحال خود کو ایک عوامی دباؤ، اصلاحاتی اور حقوق کی تحریک کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے، نہ کہ روایتی اقتدار کی سیاست کا حصہ بننا۔
تاہم اس تمام صورتحال میں ایک اہم سیاسی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا عوامی حقوق کے منشور کے ساتھ اسمبلی میں جا کر عوامی حقوق کی آواز اٹھانے والے امیدواروں کو اسمبلی میں موجود روایتی، بدعنوان اور موروثی سیاستدانوں کی صف میں رکھنا واقعی دانشمندی ہو گی؟ اگر کمیٹی کے حمایت یافتہ یا ہم خیال امیدوار انتخابات میں حصہ نہیں لیتے تو کیا اس کا نتیجہ یہی نہیں نکلے گا کہ وہی پرانے اور روایتی سیاسی چہرے دوبارہ اسمبلی میں پہنچ جائیں گے جن کے خلاف عوامی غصہ اس تحریک کی بنیاد بنا؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر تحریک کا مقصد موجودہ نظام کو عوام دوست اور جوابدہ بنانا ہے تو کیا انتخابی میدان کو مکمل طور پر روایتی سیاستدانوں کے لیے خالی چھوڑ دینا دانشمندانہ حکمت عملی ہو گی؟ خاص طور پر ایسے وقت میں جب عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات، منشور اور جدوجہد کو وسیع عوامی پذیرائی حاصل ہو چکی ہے۔
یہاں ایک تاریخی اور نظریاتی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ موجودہ نظام کے اندر انتخابات لڑنے سے انکار آزاد کشمیر میں خود مختار کشمیر کے لیے سرگرم کئی جماعتوں، بشمول محاذِ رائے شماری اور خاص طور پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، کی پالیسی رہی ہے۔ ان جماعتوں کی بنیادی دلیل یہ ہوتی تھی کہ آزاد کشمیر کا موجودہ نظام ایک محدود، پاکستان کے زیرِ اثر اور کٹھ پتلی طرزِ حکمرانی پر مبنی ڈھانچہ ہے، اور اس کے اندر انتخابات لڑنے کے لیے خود مختار کشمیر کے نظریے سے عملاً دستبرداری اختیار کرنا پڑتی ہے۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ عملی سیاست میں ان جماعتوں کے کئی کارکنان بلکہ بعض رہنما بھی مختلف ادوار میں سرکاری یا روایتی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتے رہے۔ یعنی بائیکاٹ کی نظریاتی پوزیشن کے باوجود زمینی سیاست میں ایک عملی لچک موجود رہی۔
لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کا معاملہ ان جماعتوں سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ایکشن کمیٹی نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے موجودہ عبوری آئین کے اندر رہتے ہوئے انہی حقوق کے حصول کی بات کر رہی ہے جن کی ضمانت خود اس آئین میں دی گئی ہے۔ اس نے نہ تو مسلح جدوجہد کی بات کی ہے، نہ عبوری آئین کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے اور نہ ہی موجودہ سیاسی ڈھانچے سے کلی لاتعلقی اختیار کی ہے۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوامی حقوق کے حامی امیدواروں کی انتخابی سیاست کو بعض حلقوں میں اسی پرانی عینک سے کیوں دیکھا جا رہا ہے جس کے ذریعے ماضی میں لبریشن فرنٹ یا دیگر قوم پرست جماعتوں کی انتخابی بائیکاٹ پالیسی کو دیکھا جاتا تھا؟
کیا یہ ممکن ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی، غیر شعوری طور پر ہی سہی، انتخابات میں حصہ لینے والے عوامی حقوق کے حامی امیدواروں کے حوالے سے ایک ایسی مجرد اور تنگ نظر قوم پرستی کا شکار ہو رہی ہو جو زمینی سیاسی حقائق، عوامی نفسیات اور طاقت کے موجودہ توازن کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہے؟
کیونکہ ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ قوم پرست جماعتوں کی جدوجہد زیادہ تر ریاستی خود مختاری، قومی شناخت اور حقِ خودارادیت کے گرد گھومتی رہی، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک بنیادی طور پر مہنگائی، بجلی، ٹیکس، وسائل، گورننس اور عوامی حقوق جیسے روزمرہ مسائل سے ابھری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کو صرف نظریاتی یا قوم پرستانہ زاویے سے دیکھنا شاید اس کی اصل عوامی ساخت اور مزاج کو محدود کر دینا ہو گا۔
یہ تمام بحثیں صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اب آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں نوجوان نسل بھی اپنے طور پر ایک نئے سیاسی شعور اور احتسابی رویے کا اظہار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
بساڑی بازار کے بعد اب کیری کوٹ گلہ بازار میں بھی عوامی بیداری اور سیاسی شعور کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی مقامی نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت علامتی مگر سخت نوعیت کے ناکے قائم کر دیے ہیں، جنہوں نے پورے علاقے میں ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کے اس منفرد انداز، جرات اور عوامی موقف نے اردگرد کے علاقوں کے لوگوں کو بھی متاثر کیا ہے اور اب لوگ ان کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بنا کر اس احتجاجی فضا کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ان نوجوانوں کے مطالبات محض جذباتی نعرے نہیں بلکہ علاقے کی حقیقی محرومیوں اور بدانتظامی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ شدید پسماندگی کا شکار ہے اور ستم یہ ہے کہ جو تھوڑا بہت سرکاری فنڈ یہاں کے لیے آتا بھی ہے وہ اکثر کرپشن، اقربا پروری اور غیر شفافیت کی نذر ہو جاتا ہے۔
اسی لیے نوجوانوں کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ علاقے میں آنے والے تمام حکومتی فنڈز، ترقیاتی سکیموں اور اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ان کے نام پر آنے والا سرمایہ کہاں اور کس پر خرچ ہو رہا ہے۔ ان کا صاف اور دو ٹوک پیغام یہ ہے کہ جب تک شفافیت، احتساب اور فنڈز کی عوامی نگرانی کو یقینی نہیں بنایا جاتا تب تک یہاں سے کسی کو ووٹ نہیں ملے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ مطالبہ اب صرف چند نوجوانوں کی آواز نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ پورے علاقے کے اجتماعی احساس اور عوامی مؤقف کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی علامت بھی ہے کہ آزاد کشمیر کی نئی نسل اب صرف نعروں، برادریوں اور روایتی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ احتساب، شفافیت اور عملی کارکردگی کو سیاست کا بنیادی معیار بنانا چاہتی ہے۔
ایکشن کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی تجویز کردہ اصلاحات نافذ نہیں کی جاتیں اور 04 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا تو 09 جون کو دارالحکومت مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ تحریک اسمبلی پر قبضہ نہیں کرے گی بلکہ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی۔
لیکن یہاں ایک اور سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر لاکھوں لوگ ایک بار پھر سڑکوں پر نکلیں، مظفر آباد پہنچیں، حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوں اور پھر ایک اور یقین دہانی یا نئے وعدے کے بعد لوگ واپس چلے جائیں تو کیا اس عظیم عوامی طاقت کو صرف وعدوں اور یقین دہانیوں کے گرد گھماتے رہنا ایک مؤثر سیاسی حکمت عملی ہو گی؟
اب یہاں ایک اور نہایت سنجیدہ اور حساس سوال بھی سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ چونکہ منقسم ریاست جموں و کشمیر کا یہ خطہ پاکستان کے زیرِ انتظام ہے، اس لیے اگر بنیادی سیاسی نکات پر مختلف سیاسی قوتوں اور قیادتوں کے درمیان کوئی وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوتا اور 09 جون کے لانگ مارچ کے دوران حالات گزشتہ دو مارچوں کی نسبت زیادہ شدت اختیار کر جاتے ہیں تو کیا ایسی صورت حال میں پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر کے انتظامی معاملات کو براہِ راست اپنے اختیار میں لینے کی بحث مضبوط نہیں ہو جائے گی؟
اگر خدانخواستہ ایسا کوئی منظرنامہ سامنے آتا ہے تو اس کا سیاسی اور اخلاقی بوجھ سب سے زیادہ کس کے کندھوں پر ڈالا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ انگلیاں براہِ راست ایکشن کمیٹی کی طرف ہی اٹھیں گی، چاہے اس کے اصل مقاصد کچھ بھی ہوں۔
یہاں ایک بنیادی تضاد بھی دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایکشن کمیٹی واقعی عوامی طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ نہیں کرنا چاہتی، جیسا کہ وہ بارہا واضح کر چکی ہے، تو پھر کیا یہ زیادہ دانشمندانہ راستہ نہیں ہو گا کہ وہ عوامی ووٹ کے ذریعے اسمبلی میں جا کر عوامی حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو بھی اپنا سیاسی سرمایہ سمجھے، نہ کہ اپنے سیاسی مخالفین یا دشمن؟
کیونکہ اگر ایک طرف کمیٹی خود انتخابات میں حصہ نہ لے، دوسری طرف اپنے نظریاتی یا عوامی حمایت رکھنے والے امیدواروں سے بھی فاصلہ اختیار کرے، تو نتیجتاً میدان ایک بار پھر انہی روایتی قوتوں کے لیے کھل جاتا ہے جن کے خلاف یہ ساری تحریک اٹھی تھی۔
اسی لیے کئی سیاسی مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی بالآخر ایک ایسی بند گلی کی طرف تو نہیں جا رہی جہاں کمیٹی کے پاس صرف دو ہی راستے بچیں: یا تو وہ طاقت کے ذریعے انتخابات رکوانے کی کوشش کرے اور یوں موجودہ حکومت کی “بی ٹیم” کہلانے کا خطرہ مول لے، یا پھر انتخابات ہونے دے اور انہی موجودہ اسمبلی اراکین کو دوبارہ پانچ سال کے لیے اقتدار میں واپس بھیج دے، جس کے بعد تحریک کو ایک بار پھر دھرنوں، احتجاجوں اور لانگ مارچوں کے ذریعے وہی جنگ نئے سرے سے لڑنی پڑے۔
کئی حلقوں میں یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ شاید ایک زیادہ متوازن حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ ایکشن کمیٹی خود بطور تنظیم انتخابات میں حصہ نہ لے، نہ ہی اقتدار کی روایتی سیاست کا حصہ بنے، لیکن وہ کھل کر ان امیدواروں کی حمایت کرے جو اس کے چارٹر آف ڈیمانڈ، عوامی حقوق اور اصلاحاتی ایجنڈے کے حامی ہوں۔
اس طرح ایک طرف تحریک اپنی نظریاتی اور عوامی شناخت برقرار رکھ سکتی ہے جبکہ دوسری طرف ہر انتخابی حلقے اور خود اسمبلی کے اندر بھی روایتی، موروثی اور بدعنوان سیاست کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی عوامی تحریک کی اصل طاقت صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ اداروں، قانون سازی اور عوامی نمائندگی کے میدان میں بھی دیکھی جاتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایکشن کمیٹی نے انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کے بجائے اصلاحات کو مرکزی مسئلہ بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک جمہوری عمل کی مخالف نہیں بلکہ اس عمل کو زیادہ شفاف، بااختیار اور عوامی بنانا چاہتی ہے۔
ایسا بھی لگتا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ کون الیکشن لڑے گا اور کون نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ سیاسی و انتخابی نظام واقعی عوامی حقوق، وسائل اور نمائندگی کی ضمانت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
اسی تناظر میں ایکشن کمیٹی کا تازہ مؤقف آزاد کشمیر کی سیاست میں صرف ایک انتخابی اعلان نہیں بلکہ موجودہ نظام، حکمرانی اور جمہوری ڈھانچے پر ایک سنجیدہ سیاسی سوال بھی بن چکا ہے۔
مصنف کے بارے میں

تازہ ترین خبروں
رائے05/14/2026آزاد کشمیر میں آمدہ انتخابات: عوامی تحریک، اصلاحات اور سیاسی مستقبل
رائے05/08/2026جموں کشمیر کی گمشدہ تہذیب میرپور کی لوک تاریخ کا راز ( تیسری اور آخری قسط)
سیاحت05/07/2026جموں کشمیر کی گمشدہ تہذیب میرپور کی لوک تاریخ کا راز ( دوسری قسط)
رائے05/07/2026صبح کی سوچ: تحریک، اختلاف اور سیاسی بلوغت
