کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق کی4 سال بعد نذر بندی ختم
سرینگر، کی نیوز
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حریت پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کی چار برس بعد نظر بندی ختم کر دی گئی ہے جس کے بعد انہوں نے سرینگر کی جامع مسجد میں جمعے کا خطبہ بھی دیا۔
پچاس سالہ حریت رہنما نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جمعے کی صبح ان کے گھر کے اطراف سے پولیس کا محاصرہ ختم کیا گیا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کو 5 گست 2019 کو بھارتی کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی نظر بندی کے احکامات کو عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا۔ عدالت نے 15 ستمبر کو اس حوالے سے انتظامیہ کو جواب داخل کرانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی تھی۔
بھارتی سرکار نے 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر ہے درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کرکے جیلوں میں پابند سلاسل کر رکھا ہے۔
معروف حریت پسند رہنما جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک دہلی کے تہاڑ جیل میں قید ہیں بھارت کی عدالت نے ان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے
مصنف کے بارے میں
تازہ ترین خبروں
خبریں07/31/2026کشمیر کے شہدا اور حقوق کے لیے آواز: اسلام آباد کے ایف-10 مرکز میں سینیٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں جلسہ کشمیر کا انعقاد
خبریں07/29/2026زاد کشمیر کے حقوق کے لیے آواز: اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج
خبریں07/15/2026حکومت سے مزاکرات کامیاب ایکشن کمیٹی نے مارچ 22 جولائی تک موخر کر دیا دھرنا جاری رہے گا
رائے07/13/2026لانگ مارچ سے کیا حاصل ہو گا؟
