حقِ نمائندگی یا سیاسی عدم توازن؟
تحریر: اظہر مشتاق کنیڈا
ڈاکٹر نذیر گیلانی کے مؤقف کا آئینی و جمہوری جائزہپاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں گزشتہ تین برس سے جاری عوامی مزاحمتی تحریک اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں محض احتجاج، نعروں اور وقتی سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر آئینی و قانونی ڈھانچے پر بنیادی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دینا پڑی تاکہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص بارہ نشستوں، آبادی کے تناسب اور نمائندگی کے اصولوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جا سکے۔اسی تناظر میں ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے اپنے متعدد مضامین میں موجودہ انتخابی ڈھانچے کا دفاع کیا ہے۔ ان کی تحریروں میں مہاجرین کے انسانی حقوق، مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت، اور حقِ خودارادیت کے قانونی پہلوؤں پر زور دیا گیا ہے۔ بلاشبہ انہوں نے عالمی سطح پر کشمیری مہاجرین کے مقدمے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا تاریخی مظلومیت اور سیاسی نمائندگی کے درمیان قائم موجودہ توازن واقعی جمہوری اصولوں، آبادیاتی انصاف اور سیاسی مساوات سے مطابقت رکھتا ہے؟یہاں اصل بحث مہاجرین کی شناخت، قربانیوں یا حقِ واپسی کے انکار کی نہیں، بلکہ نمائندہ جمہوریت (Representative Democracy)، سیاسی مساوات (Political Equality) اور مقامی جوابدہی (Local Accountability) کے اصولوں کی ہے۔تاریخی حق اور انتظامی اختیار: دو الگ تصوراتڈاکٹر گیلانی کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ مہاجرین کی مخصوص نشستیں ریاستِ جموں و کشمیر کے تاریخی تسلسل اور وحدت کی علامت ہیں، اس لیے ان نشستوں پر نظرِ ثانی دراصل کشمیر کاز کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگی۔ یہ استدلال جذباتی طور پر مؤثر ضرور ہے، مگر آئینی اور جمہوری اعتبار سے مکمل نہیں۔ریاستی شناخت اور انتظامی اختیار دو الگ تصورات ہیں۔ ریاستِ جموں و کشمیر کی تاریخی حیثیت پہلے ہی باشندہ ریاست قانون 1927ء، ریاستی شناختی اسناد اور ریاستی باشندگی کے اصولوں کے ذریعے محفوظ ہے۔ اس تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے یہ لازم نہیں کہ پاکستان میں مستقل طور پر آباد افراد آزاد کشمیر کی روزمرہ قانون سازی، ٹیکس پالیسی، بجٹ سازی اور حکومت سازی میں بھی فیصلہ کن اختیار رکھتے ہوں۔بین الاقوامی قانون میں”Right of Return” کا مطلب لازماً “Right to Govern” نہیں ہوتا۔یہاں ڈاکٹر گیلانی کے استدلال کا بنیادی منطقی خلا سامنے آتا ہے۔ وہ مہاجرین کی سیاسی شناخت کو براہِ راست انتظامی اختیار کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ دنیا کے کئی تنازعات میں مہاجر برادریوں کو علامتی، مشاورتی یا محدود نمائندگی تو دی گئی، مگر مقامی آبادی کے داخلی حقِ حکمرانی پر فوقیت نہیں دی گئی۔نمائندگی یا غیر متوازن سیاسی طاقت؟موجودہ نظام کے تحت پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے 12 مخصوص نشستیں مختص ہیں، جبکہ انہیں آزاد کشمیر کی دیگر علاقائی نشستوں پر بھی انتخاب لڑنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر کے مستقل باشندے نہ صرف ان نشستوں پر انتخاب نہیں لڑ سکتے بلکہ پاکستان میں آباد کشمیری باشندے بھی اس عمل سے باہر رہتے ہیں۔یہ انتخابی ڈھانچہ “Equal Political Opportunity” کے اصول سے متصادم دکھائی دیتا ہے اور ایک ایسے سیاسی عدم توازن کو جنم دیتا ہے جس میں ایک مخصوص طبقے کو دوہری سیاسی مراعات حاصل ہو جاتی ہیں۔اصل سوال مہاجرین کے حقِ نمائندگی کا نہیں بلکہ نمائندگی کے تناسب (Proportional Representation) کا ہے۔ اگر وادی کے چند ہزار مہاجرین اور جموں کے لاکھوں مہاجرین کو یکساں نمائندگی دی جائے تو یہ آبادیاتی انصاف کے اصول سے انحراف ہوگا۔اسی نکتے پر برطانیہ میں مقیم کشمیری قانون دان ارشاد ملک نے اپنے ردِعمل میں لکھا:”مہاجرین کا سیاسی وجود ایک یا دو نشستوں سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔ مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وادی کے چند ہزار مہاجرین کے لیے بھی چھ نشستیں ہوں اور جموں کے لاکھوں مہاجرین کے لیے بھی اتنی ہی نشستیں رکھی جائیں؟”ارشاد ملک کے مطابق موجودہ نظام وقت کے ساتھ ایک ایسے سیاسی آلے میں تبدیل ہو چکا ہے جسے آزاد کشمیر کی حکومت سازی پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی رائے سے اختلاف ممکن ہے، مگر اس سوال کو محض جذباتی نعرہ قرار دے کر رد نہیں کیا جا سکتا۔آئینی ارتقاء اور نمائندہ اداروں کی تبدیلیڈاکٹر گیلانی بارہ نشستوں کو ایک ایسی “مقدس آئینی امانت” کے طور پر پیش کرتے ہیں جسے چھیڑا نہیں جا سکتا، حالانکہ آئینی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ نمائندہ ادارے وقت، آبادی اور جمہوری تقاضوں کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔آزاد کشمیر کا عبوری آئین متعدد بار تبدیل ہو چکا ہے۔ خصوصاً 2018ء کی تیرہویں آئینی ترمیم ریاستی اختیارات، نمائندگی اور حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی مثال ہے۔ اگر آئین کے دیگر حصے عوامی ضرورت کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں تو پھر بارہ نشستوں کے موجودہ ماڈل کو ہر قسم کی آئینی و عوامی نظرِثانی سے بالاتر کیوں سمجھا جائے؟یہاں ڈاکٹر گیلانی کے استدلال میں ایک واضح تضاد محسوس ہوتا ہے۔ وہ حقِ خودارادیت، جمہوری اصولوں اور سیاسی انصاف کی بات کرتے ہیں، مگر آزاد کشمیر کے مستقل باشندوں کے “Internal Right of Self-Government” یعنی داخلی حقِ حکمرانی پر نسبتاً خاموش دکھائی دیتے ہیں۔جمہوری اصول اور مقامی جوابدہیاس پورے مباحثے کا سب سے اہم پہلو “Governance Without Accountability” ہے۔پاکستان میں مقیم مہاجرین پاکستان کے شہری ہیں، پاکستانی انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں اور پاکستان کے آئینی و شہری حقوق سے مکمل طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، حالانکہ آزاد کشمیر کے ٹیکس، ترقیاتی مسائل، صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر کے اثرات براہِ راست ان کی روزمرہ زندگی پر مرتب نہیں ہوتے۔یہ صورتحال نمائندہ جمہوریت کے اس بنیادی اصول سے متصادم ہے کہ:”جو آبادی ریاستی فیصلوں کے اثرات برداشت کرتی ہے، سیاسی اختیار بھی بنیادی طور پر اسی کے پاس ہونا چاہیے۔”جب اسمبلی کے اراکین ان قوانین، ٹیکسوں اور پالیسیوں پر ووٹ دیں جن کے اثرات ان کی اپنی زندگی پر مرتب نہ ہوتے ہوں، تو جوابدہی کا جمہوری تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔مسئلے کا ممکنہ حل: تصادم نہیں، توازناس بحث کا مقصد مہاجرین کی سیاسی شناخت ختم کرنا نہیں بلکہ ایک متوازن اور منصفانہ نمائندہ ماڈل کی تلاش ہے۔ایک قابلِ عمل حل یہ ہو سکتا ہے کہ:• مہاجرین کی تاریخی و سیاسی شناخت کو برقرار رکھا جائے؛• ان کی نمائندگی کو symbolic یا advisory نوعیت دی جائے؛• یا نشستوں کی تعداد آبادی اور نمائندگی کے تناسب کے مطابق ازسرِنو متعین کی جائے؛• جبکہ حکومت سازی اور مالیاتی اختیارات بنیادی طور پر آزاد کشمیر کے مستقل باشندوں کے پاس رہیں۔ایسا ماڈل نہ صرف مہاجرین کی عزتِ نفس اور تاریخی حیثیت کا احترام کرے گا بلکہ آزاد کشمیر میں سیاسی مساوات، آئینی توازن اور مقامی خودمختاری کے اصولوں کو بھی مضبوط کرے گا۔حاصل گفتگواصل سوال یہ نہیں کہ مہاجرین کو نمائندگی ملنی چاہیے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس نمائندگی کی نوعیت، حدود اور آئینی جواز کیا ہونا چاہیے۔ڈاکٹر نذیر گیلانی کی تحریریں مسئلہ کشمیر کی تاریخی حساسیت اور مہاجرین کی محرومیوں کو اجاگر کرتی ہیں، مگر ان کے استدلال میں جمہوری توازن، سیاسی مساوات اور مقامی جوابدہی کے جدید اصولوں پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کاز کو محض جذباتی بیانیوں کے بجائے ایک ایسے آئینی اور جمہوری ماڈل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے جو:مہاجرین کی تاریخی شناخت کا احترام کرے؛ آزاد کشمیر کے عوام کے داخلی حقِ حکمرانی کو تسلیم کرے؛ اور سیاسی نمائندگی کو آبادی، جوابدہی اور مساوات کے اصولوں کے مطابق تشکیل دے۔وقت آ گیا ہے کہ انتخابی نظام کی خامیوں کو مہاجرین کی مظلومیت کے پردے میں چھپانے کے بجائے ایک ایسا متوازن اور منصفانہ نظام تشکیل دیا جائے جو مہاجرین کے تاریخی حقوق اور آزاد کشمیر کے مستقل باشندوں کے جمہوری حقوق، دونوں کا یکساں احترام کرے۔




