جموں کشمیر کی گمشدہ تہذیب میرپور کی لوک تاریخ کا راز ( تیسری اور آخری قسط)

شئر کریں

تحقیق و روایت : محمد افضل، راچڈیل / راجدھانی اور محمد ارشد بھمبر/اولڈہم
تحریر و ترتیب: شمس رحمان اولڈہم / کالگڑھ

روایت یہ ہے کہ جب پہلے شہر کے اجڑنے کے دو سو سال بعد یہاں دوبارہ آبادی شروع ہوئی تو آجڑیوں نے اپنی بکریوں کا پیچھا کرتے ہوئے اس کنویں کو دریافت کیا۔ بکریاں وہاں پانی پینے جاتی تھیں۔ کنواں مٹی سے بھرا ہوا تھا مگر اس میں پانی موجود تھا۔ لوگوں نے اسے دوبارہ کھود کر قابل استعمال بنایا۔
یہ روایت بھی دلچسپ ہے۔
کبھی کبھی جانور وہ راستے یاد رکھتے ہیں جو انسان بھول چکے ہوتے ہیں۔


جہھیڑا: ڈاک خانہ، بینک یا سکھوں کا مقام؟
نئے چومکھ میں ایک پراسرار اور قدیم عمارت کا ذکر آتا ہے جسے “جہھیڑا” کہا جاتا ہے۔ افضل صاحب کے مطابق یہ سکھوں کا کوئی اہم مقام تھا۔
اپنی دادی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پرانے شہر کا بڑا ڈاک خانہ بھی یہاں ہوتا تھا اور بینک بھی۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ پیسہ، تیلا، گھڑوں یا کڑوہلیوں میں ڈال کر زمین میں دفن کر دیتے تھے، مگر سرکاری پیسوں کے لیے’ بینک’ بھی ہوتے تھے۔
اس عمارت سے متعلق ایک اور لوک کہانی بھی سنائی جاتی ہے۔ ایک مقامی روایت کے مطابق اس کی چھت پر کوئی قیمتی چیز رکھی ہوئی تھی۔ اس کے مالک یا سرکاری اختیار رکھنے والے شخص کے ساتھ ایک مقامی چور، جس کا نام’ کاکا ‘ تھا، نے شرط لگائی کہ وہ بغیر سیڑھی کے چھت پر چڑھ کر اسے اتار سکتا ہے۔
سرکاری اہلکار نے کہا:
“اگر اتار لو تو تمہاری۔”
کاکا نے مقامی رینگنے والے جانور کڑوہ کی مدد سے چھت پر چڑھ کر وہ چیز اتار لی اور شرط جیت لی۔
یہ بات بظاہر لوک داستان لگتی ہے، مگر ایسی کہانیاں اکثر کسی پرانے مقام کی غیر معمولی اہمیت، خوف، تجسس یا پوشیدہ دولت کے تصور کو محفوظ رکھتی ہیں۔


دریاؤں کا بدلتا رخ اور شہر کی تباہی
افضل صاحب کی سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان کے مطابق آج کے دریائے جہلم اور پونچھ اپنے موجودہ راستوں سے نہیں بہتے تھے۔ وہ چوک صاحباں کے شمال میں واقع شیں کس کے راستے سے ہوتے ہوئے کس گھمہ کے راستے بہتے تھے۔
اگر یہ روایت درست ہے تو یہ معمولی بات نہیں۔
دریاؤں کے رخ بدل جائیں تو شہر مٹ جاتے ہیں۔
آبادیاں برباد ہو جاتی ہیں۔
کھیت، راستے، بازار، قبرستان اور محل سب یا تو بہہ جاتے ہیں یا زمین کے نیچے دب جاتے ہیں۔
افضل صاحب کے مطابق اندرہل کوئی شہر نہیں تھا بلکہ اس قدیم شہر کے مرکز کو اندرہل کہا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ “اندر ہل” مقامی پہاڑی زبان کا ارتقاء یافتہ لفظ ہے، ‘ اندر آل’ جس کے معنی ہیں “اندر کی طرف”۔
جب شہر کے بیرونی حصوں کے لوگ کسی سے پوچھتے کہ کدھر سے آ رہے ہو یا کہاں جا رہے ہو، تو جو شہر کے اندرونی حصے کی طرف جاتے یا وہاں سے آتے، وہ کہتے: “اندر آل” یعنی اندر کی طرف۔
آج کے معنوں میں اسے “اندرون شہر” یا “inner city” کہا جا سکتا ہے۔
افضل صاحب کے مطابق یہ شہر دسویں صدی میں ایک شدید زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہوا۔ اسی زلزلے کے بعد دریاؤں کا رخ بھی بدل کر موجودہ راستوں پر آ گیا۔اگر یہ شہر دسویں صدی میں دریا برد ہوا تھا تو جانے کتنی صدیوں سے آباد چلا آ رہا تھا؟


دو سو سال کی خاموشی
اس تباہی کے بعد، افضل صاحب کے مطابق، تقریباً دو سو سال تک یہاں انسانی آبادی ختم ہو گئی۔ یہ پورا علاقہ جنگل بیابان کی شکل اختیار کر گیا۔
پھر کوئی ہزار بارہ سو سال قبل ان کے ( افضل صاحب کے) بڑے بڈھیرے جموں سے آئے اور پگل چک کے مقام پر آباد ہوئے۔ ان کے مطابق موڑا کنیال والے پانی پت سے آ کر یہاں آباد ہوئے تھے۔
اس کے چار سو سال بعد وادی کشمیر سے بھی کچھ خاندان یہاں آ کر آباد ہوئے۔
یوں ایک تباہ شدہ خطہ آہستہ آہستہ دوبارہ انسانوں کی آوازوں، جانوروں کی گھنٹیوں، کھیتوں، دکانوں اور بستیوں سے آباد ہونے لگا۔


ددیال سنگھ کی ہٹی اور ڈڈیال کا نام
افضل صاحب کے مطابق جب آبادیاں مستقل ہو گئیں تو یہاں پہلی دکان، یعنی ہٹی، ایک سکھ نے کھولی جس کا نام ددیال سنگھ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ آبادی بڑھی، دکانیں بڑھیں، اور اسی ددیال سنگھ کے نام سے اس جگہ کا نام ددیال اور پھر ڈڈیال بن گیا۔
یہ روایت اگر درست ثابت ہو تو ڈڈیال کے نام کی ایک انتہائی دلچسپ لوک تشریح سامنے آتی ہے۔


یہ کہانی کیوں اہم ہے؟
یہ کہانی ابھی تاریخ نہیں۔
یہ دعویٰ بھی نہیں کہ سب کچھ حتمی طور پر درست ہے۔
یہ ایک لوک روایت ہے، ایک مقامی یادداشت ہے، ایک ممکنہ تاریخی سراغ ہے۔
لیکن یہ اتنی اہم ضرور ہے کہ اسے محفوظ کیا جائے۔
اس پر تحقیق ہو۔
اوناع، چومکھ، راجدھانی، بلو، امب، اندرہل، شیں کس اور کس گھمہ ، بھمبر کے پنگلورہ جیسے مقامات کا سائنسی سروے کیا جائے۔
مٹی کے برتنوں، سکوں، کنوؤں، پرانی عمارتوں اور مقامی ناموں کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔
کیونکہ اگر ان روایات کا کچھ حصہ بھی درست نکلا تو میرپور کی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنا پڑے گا۔
آج چتڑ پڑی کی پڑیاں ہوں، اوناع کے پھیکڑ، راجدھانی کے کنویں، بلو کی محلاں کی جاڑ یا چومکھ کا جہھیڑا یا پنگلورہ کے سکے — یہ سب ہم سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں:
کیا میرپور صرف آج کا شہر ہے؟
یا اس کے نیچے، اس کے کناروں، اس کے دریاؤں اور اس کی لوک یادداشتوں میں ایک بہت پرانا جہان دفن ہے؟
اس سوال کا جواب صرف کہانی سے نہیں ملے گا۔
اس کے لیے کھدائی چاہیے۔
تحقیق چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے ورثے سے محبت چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

Shams Rehman
Shams Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *