صبح کی سوچ: تحریک، اختلاف اور سیاسی بلوغت

شئر کریں

شمس الرحمن برطانیہ

عوامی تحریکیں ہمیشہ یک رنگ نہیں ہوتیں۔
ان کے اندر کئی رنگ، کئی دائرے اور کئی راستے ہوتے ہیں۔
لیکن ایک بنیادی سوال ہمیشہ مرکز میں رہتا ہے: تحریک کا اصل مقصد کیا ہے؟
اسی مقصد کے حصول کے لیے مختلف حکمتِ عملیاں اپنائی جاتی ہیں—
احتجاج، بائیکاٹ، مذاکرات یا انتخابات۔
یہ سب راستے بظاہر مختلف ضرور ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور مضبوط بناتے ہیں، بشرطیکہ ان کی سمت ایک ہی ہو۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جعاک) نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد اسمبلی پر قبضہ کر کے کوئی فوری انقلاب برپا کرنا نہیں،
بلکہ عوامی حقوق کے حصول کے لیے موجودہ نظام کو مؤثر اور فعال بنانا ہے۔
ایسے میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آنے والے انتخابات میں حصہ لینے والے اپنے ہی راستے کے مسافروں سردار امان ، لیاقت حیات اور نغمان عارف وغیرہ کو موجودہ اسمبلی ممبران کے برابر رکھ کر تنقید کا نشانہ بنانا نہ معقول ہے، نہ جائز اور نہ ہی قابلِ ستائش۔
یہاں ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے:
جو لوگ جموں میں معراج ملک کو بجا طور پر ایک مزاحمت کار قرار دیتے ہیں،
وہ اپنے ہی مزاحمت کاروں—سردار امان لیاقت حیات اور نعمان عارف—کو سہولت کار کیوں اور کیسے کہہ رہے ہیں؟
کیا یہ کسی وقتی طور پر پس منظر میں چلی جانے والی تنگ نظر قوم پرستی کا اظہار ہے؟
یا انا پرستی؟
یا اس کے پیچھے کوئی اور سوچ کارفرما ہے؟
خاص طور پر اس صورتحال میں، جب ان میں سے کسی امیدوار نے خود کو جعاک کا امیدوار قرار نہیں دیا۔ لوگ اگر ان کو جعاک کا امیدوار سمجھ رہے ہیں تو وہ ان کی جعاک کے ساتھ سرگرم وابستگی اور عوامی حقوق تحریک میں جاندار اور قابل ستائش کردار ہے۔
نعمان عارف کی مثال اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
انہیں مقامی عوامی ایکشن کمیٹی نے اکثریت سے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا،
مگر جب جعاک کی طرف سے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان سامنے آیا تو انہوں نے اس فیصلے کا احترام کیا۔
انہوں نے ایک مقامی عوامی جرگہ بلایا تاکہ مشاورت کے ذریعے فیصلہ کیا جا سکے کہ انتخابات میں حصہ لیا جائے یا نہیں۔
اس جرگے نے غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ انتخابات میں جانا چاہیے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر جعاک کے ساتھ طے شدہ معاہدے اور انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد نہ ہوا تو 9 جون کو جعاک کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے ساتھ وہ پہلے کی طرح کھڑے ہوں گے۔
دوسری طرف ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آتا ہے۔
بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں معراج ملک، جو ایک متنازعہ مگر فعال سیاسی نظام کا حصہ ہیں، کو بجا طور پر مزاحمت کار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
لیکن اپنے خطے میں اسی نوعیت کے کردار رکھنے والوں پر سہولت کاری کا الزام لگایا جاتا ہے۔
آخر کیوں؟
یہ سوال محض افراد کا نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی سیاسی رویے کا ہے۔
تحریکوں کی اصل طاقت صرف نعروں میں نہیں ہوتی،
بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اختلاف کو کیسے سنبھالتی ہیں،
اور کیا وہ مختلف راستوں کے باوجود اپنے مشترکہ مقصد کو برقرار رکھ پاتی ہیں یا نہیں۔

مصنف کے بارے میں

Shams Rehman
Shams Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *