کیا آزاد کشمیر ڈیجیٹل تنہائی کا متحمل ہو سکتا؟
( احباب اپنی رائے شامل کریں )
کل کہوٹہ لاء کالج کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا۔ اجلاس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم اس امر پر غور کر رہے تھے کہ ادارے کو انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دینے کے لیے کن نئے شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تقریباً سب کا اس پر اتفاق تھا کہ مستقبل کے تمام علمی شعبوں کی بنیاد آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (AI) پر ہونی چاہیے، کیونکہ آنے والی دنیا کی معیشت، تحقیق، تعلیم اور روزگار کا محور یہی ٹیکنالوجیز ہوں گی۔
اس گفتگو کے دوران بے اختیار ذہن آزاد کشمیر کی گزشتہ چار ہفتوں کی صورت حال کی طرف چلا گیا، جہاں سرکاری سطح پر انٹرنیٹ مسلسل معطل ہے۔ دل میں ایک ہی سوال ابھرا کہ جب علم، تحقیق، روزگار، تجارت اور دنیا سے رابطے کا بنیادی ذریعہ ہی بند ہو تو ہم اپنے نوجوانوں کو کس مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں؟ کیا ہم اکیسویں صدی کی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ ہیں یا اس سے الگ کسی اور ہی زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں؟
بلاشبہ کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری امن و امان کا قیام ہے، لیکن امن اور جمود ایک چیز نہیں۔ امن وہ ہے جس میں زندگی رواں رہے، معیشت چلتی رہے، تعلیمی ادارے فعال رہیں، کاروبار فروغ پائے اور شہریوں کا ریاست پر اعتماد مضبوط ہو۔ اگر سلامتی کے نام پر پورا معاشرہ مفلوج ہو جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس کی قیمت آخر کون ادا کر رہا ہے؟
آزاد کشمیر میں گزشتہ چار ہفتوں سے انٹرنیٹ کی مسلسل بندش یہی سوال سامنے لا رہی ہے۔ آج انٹرنیٹ صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، بینکاری، ای گورننس، تجارت، تحقیق، میڈیا اور روزگار کی شہ رگ بن چکا ہے۔ اس شہ رگ کو ایک ماہ تک منقطع کر دینا درحقیقت پورے معاشی، تعلیمی اور سماجی نظام کی رفتار روک دینے کے مترادف ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان نسل کو پہنچ رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوان عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ ہیں۔ وہ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر آن لائن خدمات کے ذریعے نہ صرف اپنا بلکہ ملک کا قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں اعتماد وقت کی پابندی، مسلسل دستیابی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے پیدا ہوتا ہے۔ جب انٹرنیٹ ہی موجود نہ ہو تو نہ کام مکمل ہوتا ہے، نہ ادائیگی ملتی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی گاہک دوبارہ رجوع کرتے ہیں۔ ایک بار کھویا ہوا اعتماد برسوں میں بھی بحال نہیں ہوتا۔
اس سے بڑھ کر ستم ظریفی یہ ہے کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنے کے لیے ایس سی او (SCO) نے آزاد کشمیر میں آئی ٹی پارکس قائم کیے، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا خواب دکھایا گیا۔ لیکن جب انٹرنیٹ ہی بند ہو تو یہ آئی ٹی پارکس عملاً خاموش عمارتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یوں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری اور ہزاروں نوجوانوں کی امیدیں ایک ساتھ متاثر ہوتی ہیں۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس نوعیت کی مکمل اور طویل بندش واقعی ناگزیر تھی؟
پاکستان کے قبائلی اضلاع، خصوصاً وزیرستان اور دیگر علاقوں میں برسوں تک دہشت گردی کے خلاف بڑے فوجی آپریشن ہوتے رہے۔ وہاں حقیقی مسلح تصادم، خودکش حملے اور ریاستی رٹ کو براہِ راست چیلنج کرنے والی صورت حال موجود رہتی ہے ، لیکن مواصلاتی پابندیاں عموماً مخصوص علاقوں، محدود نوعیت اور مختصر مدت تک رکھی گئیں۔ پورے خطے کو ہفتوں تک مکمل ڈیجیٹل خاموشی میں شاذ ہی دھکیلا جاتا ہے ۔ اگر وہاں متناسب حکمت عملی اختیار کی جا سکتی تھی تو آزاد کشمیر میں اس سے مختلف معیار کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟
بین الاقوامی تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ شدید ترین جنگی حالات میں بھی جدید ریاستیں مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ یوکرین، غزہ ، ایران ، اسرائیل حتی کہ مقبوضہ کشمیر جیسے جنگی علاقوں میں، جہاں میزائل حملے، ڈرونز اور براہِ راست فوجی کارروائیاں معمول کا حصہ رہی ہیں، وہاں بھی انٹرنیٹ کو حتی الامکان فعال رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ جدید دنیا جانتی ہے کہ انٹرنیٹ صرف سہولت نہیں بلکہ ہسپتالوں، ریسکیو سروسز، بینکاری، تعلیم، صحافت، تجارت اور شہری زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ بعض مواقع پر موبائل ڈیٹا یا مخصوص موبائل نیٹ ورکس پر عارضی پابندیاں ضرور لگائی گئیں، لیکن فکسڈ براڈ بینڈ اور وائی فائی کو مکمل طور پر بند کرنا معمول کی حکمت عملی نہیں بنایا گیا۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ جدید ریاستیں خطرے کو ہدف بناتی ہیں، پورے معاشرے کو نہیں۔
آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں کسی وسیع عسکری آپریشن کی اطلاع نہیں، جبکہ جس تحریک کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ بنیادی طور پر عوامی مطالبات کی تحریک تھی جس پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اگر خطرہ محدود نوعیت کا ہے تو اس کا جواب بھی متناسب ہونا چاہیے۔ پورے معاشرے کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی کمزور کرتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ آزاد کشمیر کو دنیا کے سامنے ایک مہذب، تعلیم یافتہ، پرامن اور ترقی پسند معاشرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن جب ایک پورا خطہ ہفتوں تک ڈیجیٹل دنیا سے کٹ جائے تو دنیا کو کیا پیغام جاتا ہے؟ سرمایہ کار، جامعات، آئی ٹی کمپنیاں، بین الاقوامی ترقیاتی ادارے اور عالمی شراکت دار ایسے ماحول میں سرمایہ کاری یا تعاون سے گریز کرتے ہیں جہاں بنیادی مواصلاتی ڈھانچہ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو۔ اس کی سیاسی اور معاشی قیمت بالآخر حکومت اور عوام دونوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
ریاست کو یقیناً سلامتی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں، لیکن مؤثر حکمت عملی وہی ہوتی ہے جو خطرے کو ہدف بنائے، نہ کہ پورے معاشرے کو۔ جدید ریاستیں Smart Security پر یقین رکھتی ہیں، Blanket Restrictions پر نہیں۔ سلامتی اور ترقی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں، اور دانشمند ریاستیں دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔
آزاد کشمیر کے نوجوان بند راستے نہیں، کھلے مواقع چاہتے ہیں۔ اگر ہم انہیں ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو ان کے ہاتھ سے انٹرنیٹ چھین کر یہ مقصد کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
آج انٹرنیٹ بجلی، پانی اور شاہراہوں کی طرح بنیادی قومی انفراسٹرکچر بن چکا ہے۔ اس پر مسلسل اور غیر متناسب پابندی صرف رابطے کا تعطل نہیں بلکہ علم، آگہی، روزگار، تجارت، تعلیم اور اجتماعی زندگی کی روانی کو منجمد کر دیتی ہے۔ اسی لیے دنیا کی بڑی سے بڑی جنگوں میں بھی ریاستیں ڈیجیٹل شہ رگ کو چلتا رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتی ہیں۔
آزاد کشمیر جیسے پُرامن خطے کو چار ہفتوں تک ڈیجیٹل دنیا سے کاٹ دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل، معیشت، ریاستی ساکھ اور عالمی اعتماد پر گہرے اثرات مرتب کرنے والا اقدام ہے۔
سلامتی ریاست کی ضرورت ہے، مگر آزادیِ مواصلات بھی جدید ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان دونوں کے درمیان متوازن راستہ ہی ریاستی دانش کی اصل کسوٹی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ امن قائم رکھنے کی کوشش میں ہم اس ڈیجیٹل دہشت گردی سے اپنے مستقبل ہی کو خاموش کر بیٹھیں۔ اس کا ریاست کو ادراک کرنا چاھئے –
مصنف کے بارے میں
تازہ ترین خبروں
رائے07/05/2026یکجہتی کا اعلامیہ
رائے07/05/2026کیا آزاد کشمیر ڈیجیٹل تنہائی کا متحمل ہو سکتا؟
خبریں06/23/2026آزادکشمیر اسمبلی انتخابات کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل مکمل 1255 امید واروں نے کا غذات جمع کرا دیئے
خبریں06/23/2026آزادکشمیر ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف آزادکشمیر کو رجسٹرڈ کرنے کا حکم دے دیا
