آزادکشمیر، شٹرڈاؤن، پہیہ جام کا چوتھا روز جمعہ کے اجتماعات میں نمازیوں کی غیر معمولی حد تک کم

آزادکشمیر، شٹرڈاؤن، پہیہ جام کا چوتھا روز جمعہ کے اجتماعات میں نمازیوں کی غیر معمولی حد تک کم

شئر کریں

مظفرآباد( کی نیوز)

آزادکشمیر میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے تمام چھوٹے بڑے بازور بند سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب اور لاری اڈے ویران ہیں

پانچ جون سے ہر قسم کی انٹر نیٹ سروسز بند ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا انٹر نیٹ سروسز نا یونکے کی وجہ سے بینکوں نے اے ٹی ایم مشینوں کو تالے لگا کر مکمل بند کر دیئے ہیں جس کی وجہ رقوم نکلوانے میں مشکلات کا سامنا ہے

بارہ جون جمعہ کے روز آزادکشمیر میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں نمازیوں کی شرکت انتہائی کم رہی مظفرآباد کی سہیلی سرکار دربار کے مسجد کا صحن جو کہ ہمیشہ جمع کے روز نمازیوں سبھر رہا تھا تھا صحن میں صفیں نہیں بچھائی گئی تھیں مسجد کے اندر بھی نمازیوں کی تعداد معمول سے انتہائی کم تھی

مظفرآباد میں انتظامیہ نے چار ایسے دوکانوں کو سیل کر دیا ہے جن کے مالکان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کی ہے

اس سے قبل حکومت نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارکنان کے خلاف 177 مقدمات کو دوبارہ کھول دیا ہے جو کہ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے تحت ختم کئے گئے تھے جاری ایک نوٹیفکیشن میں چار نوٹیفکیشن کے ریفرنس نمبر دیئے گئے ہیں ان چار نوٹیفکیشن کے زریعہ 177 ایف آئی آر منسوخ کئے گئے تھے

پونچھ ڈویژن کا شہر راولاکوٹ بدستور مظاہرین اور فوسز کی آماجگای بنا ہوا ہے جہاں تین مختلف مقامات پر ہزاروں لوگ جمع ہیں جہاں بچے اور خواتین بھی ان اجماعات کی جاری ویڈیوز میں دیکھے جا سکتے ہیں

جمعہ 12 جون کو انتظامیہ اور ایکشن کمیٹی کی جانب سے الگ الگ دعوے کئے جاتے رہے انتظامیہ کے مطابق راولاکوٹ کے قریب دریک گراؤنڈ کا کنٹرول انتظانیہ نے سنبھال لیا ہے جبکہ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس میدان میں ہزاروں لوگ اب بھی موجود ہیں

گیارہ جون کی شام ایکشن کمیٹی نے پاکستان اور آزادکشمیر کو ملانے والے انٹری پوائنٹس کی جانب مارچ اور ان کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال انٹری پوائنٹس کی جانب مارچ کسی مقام سے شروع نہیں کیا گیا


اسے قبل ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد تک لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا ایکشن کمیٹی کے بدلتی حکمت عملی حکومت سے کسی بیک ڈور چینل سے ہونے والی بات چیت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ حکومت اور ایکشن کمیٹی یے درمیان کسی تیسرے فریق کے زریعہ بات چیت اور پیغام رسانی ہو رہی ہے زرائع کے مطابق یہ سلسلہ دس جون سے شروع کیا گیا ہے

دوسری جانب میڈیا کو خلاف حقائق خبریں فیڈ کرنے کا سلسلہ حکومتی اداروں کی جانب سے بدستور جاری ہے جمعہ کے روز ہڑتال ختم ہونے اور ایکشن کمیٹی کے دھرنے ختم ہونے جیسی خبریں ٹی وی چینلز اور حکومت کے حمائتی سوشل میڈیا بدستور نشر ہوتی رہی

ایکشن کمیٹی کےانٹری پوائنٹس کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد انٹر پوائنٹس کی طرف آنے جانے والوں پر چیکنگ شرور کر دی گئی ہے پولیس اہلکارو مختلف مقامات پر لوگوں کی شناختی دستاویزات چیک کر رہے ہیں

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *