جے اے اے سی فلیش پوائنٹ: بنیادی مطالبات، ماضی کے احتجاج اور آزاد کشمیر میں 9 جون کا متوقع لاک ڈاؤن

شئر کریں

آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال اس وقت ایک انتہائی نازک اور سنگین موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں کے ایک وسیع اتحاد، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے بنیادی آئینی اور معاشی مطالبات پر حکومت کے سامنے صف آرا ہو کر ایک سخت موقف اختیار کیا ہے۔

حکومت اور کمیٹی کے مابین مذاکرات کے متعدد ادوار ناکام ہونے اور حکومت کی جانب سے اس تنظیم پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کرنے کے سخت فیصلے کے بعد، 9 جون 2026 کو ایک بہت بڑا اور ممکنہ طور پر شدید احتجاجی مظاہرہ ہونے جا رہا ہے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کیا ہے؟

عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع البنیاد، غیر سیاسی سول سوسائٹی اتحاد ہے جو 2022 کے آخر اور 2023 کے اوائل میں آزاد کشمیر کے مقامی لوگوں کی جانب سے قدرتی طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ یہ ایک متحدہ فرنٹ ہے جو درج ذیل دھڑوں پر مشتمل ہے:

  • مقامی تاجر برادری اور مرچنٹ یونینز۔
  • ٹرانسپورٹ یونینز اور مقامی بلدیاتی نمائندے۔
  • وکلاء، طلبہ تنظیمیں اور شہری حقوق کے کارکنان۔

یہ تحریک بنیادی طور پر بڑھتی ہوئی مقامی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور گرانی کے خلاف عوامی غصے کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ، یہ تحریک چھوٹے اور مقامی احتجاجی مظاہروں سے نکل کر ایک ایسے خطہ گیر اتحاد میں تبدیل ہو گئی جو مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ اور کوٹلی جیسے بڑے اضلاع کو مکمل طور پر جام کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

بنیادی مطالبات: 38 نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ

عوامی ایکشن کمیٹی کی اس پوری تحریک کی اصل طاقت اس کا جامع 38 نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ ہے۔ اگرچہ ان نکات میں مقامی انفراسٹرکچر کی بہتری (جیسے شونتر ٹنل، سڑکیں اور پلوں کی تعمیر) کے متعدد مطالبات شامل ہیں، لیکن اصل تنازع دو بڑی کیٹیگریز پر ہے:

1. معاشی ریلیف اور وسائل پر حقِ ملکیت

  • پیداواری لاگت کے مطابق بجلی کے ٹیرف: کمیٹی کا بنیادی مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتیں خطے میں موجود ہائیڈل پراجیکٹس (جیسے منگلا ڈیم) کی اصل اور سستی پیداواری لاگت کے مطابق مقرر کی جائیں اور اسلام آباد کی طرف سے عائد کردہ اضافی ٹیکسز کو ختم کیا جائے۔
  • سبسیڈائزڈ آٹا: آٹے کی فراہمی پر بھاری سبسڈی دی جائے اور اس کی قیمتیں پڑوسی خطے گلگت بلتستان کے برابر لائی جائیں۔

2. اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ اور آئینی اصلاحات

  • اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ: وزراء، ججوں اور اعلیٰ بیوروکریٹس کو ملنے والے مہنگے سرکاری پروٹوکولز، بھاری وظائف اور مفت مراعات کا فوری اور مکمل خاتمہ کیا جائے۔
  • 12 مہاجر نشستوں کا خاتمہ (سب سے بڑا متبادل تنازع): اس چارٹر کا سب سے حساس اور متنازع نکتہ پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مخصوص 12 نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ ہے۔ ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں ان 12 بیرونی نشستوں کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں سیاسی جوڑ توڑ اور مظفرآباد میں اپنی پسند کی حکومت بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔

ماضی کے احتجاج اور تصادم کی تاریخ

موجودہ بحران تک پہنچنے کا سفر مسلسل عوامی احتجاج اور پرتشدد واقعات سے جڑا ہوا ہے:

  • مئی 2024 کا لانگ مارچ: پورے خطے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے بعد مظفرآباد کی طرف ایک تاریخی “لانگ مارچ” کیا گیا جس نے زندگی کے نظام کو مفلوج کر دیا۔ اس دوران ہونے والے تصادم میں چار ہلاکتیں ہوئیں، جس کے بعد وفاقی حکومت کو آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں عارضی کمی کے لیے اربوں روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کرنا پڑا۔
  • ستمبر/اکتوبر 2025 کا بلاکیڈ: معاہدوں پر مستقل عمل درآمد میں تاخیر سے مایوس ہو کر جے اے اے سی نے دوبارہ پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی۔ مظفرآباد میں نیلم برج پر ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور مخالف سیاسی ورکرز کے درمیان مسلح تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور سدھیر نامی ایک سرگرم مظاہرین جاں بحق ہو گیا۔ اس واقعے نے عوامی مزاحمت کو مزید ہوا دی۔

9 جون 2026 کا آنے والا احتجاج

عوامی ایکشن کمیٹی نے منگل، 9 جون 2026 سے پورے آزاد کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حتمی کال دے رکھی ہے۔

اس احتجاج کی ٹائمنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ 9 جون ہی وہ تاریخ ہے جسے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے 27 جولائی 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ ایکشن کمیٹی کا اصرار ہے کہ جب تک ان 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر آئینی ترمیم نہیں کی جاتی، تب تک انتخابی عمل شفاف نہیں ہو سکتا۔

رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں وفاقی وزراء کی ٹیم اور ایکشن کمیٹی کی مرکزی قیادت (بشمول شوکت نواز میر) کے درمیان ہونے والے آخری لمحات کے 9 گھنٹے طویل مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے، جس کا مطلب ہے کہ ہڑتال کی کال اب بھی برقرار ہے۔

موجودہ صورتحال کیا ہے؟

آج کی تاریخ میں آزاد جموں و کشمیر کی فضا انتہائی کشیدہ ہے اور انتظامیہ سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کر رہی ہے:

1. جے اے اے سی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا گیا

حکومت نے سخت ترین قدم اٹھاتے ہوئے آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ کے ذریعے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کی دفعہ 12 کے تحت کالعدم (ممنوعہ) تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔ ریاست کا الزام ہے کہ یہ سول اتحاد انارکی پھیلانے، معاشرتی بدامنی پیدا کرنے اور جمہوری انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پولیس نے احتجاج سے قبل ہی فعال رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔

2. ہنگامی ٹریول ایڈوائزری جاری

آزاد کشمیر حکومت نے غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے ایک ہنگامی پبلک ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں بیرونی لوگوں کو 5 جون سے 20 جون کے درمیان خطے کا سفر کرنے سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے۔ وادیٔ نیلم یا راولاکوٹ جیسے سیاحتی مقامات پر موجود سیاحوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ کسی بھی ناخوشگوار یا غیر متوقع صورتحال میں پھنس نہ جائیں۔

3. سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور لاک ڈاؤن کا سماں

آزاد کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) لیاقت علی ملک نے وفاقی حکومت سے 14,000 سے زائد اضافی نیم فوجی دستوں (Paramilitary Troops) کی مانگ کی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے بھاری قافلے مظفرآباد اور دیگر اضلاع میں داخل ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر نے اسپرنگ 2026 کے تمام امتحانات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے ہیں، اور 9 جون کے قریب آتے ہی موبائل انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مواصلات کی معطلی کا قوی امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طویل لاک ڈاؤن سے مقامی دیہاڑی دار طبقے، ڈیجیٹل فری لانسرز اور خطے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

مصنف کے بارے میں

Media Desk

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *