حکومتی وفد اور ایکشن کمیٹی انتہائی محتاط گفتگو
مظفرآباد(کی نیوز)
پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کے اعلی سطحی وفد کے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں کے درمیان جاری مزاکرات ختم ہو گئے مزاکرات کے بعد دونوں فریقین نے انتہائی محتاط گفتگو کی ہے اور کھل کر مزاکرات کو ناکام یا کامیاب قرار نہیں دیا
حکومتی وفد کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر رانا ٹنا اللہ کا کہنا ہے کہ مزاکرات مکمل ناکام نہیں ہوئے جبکہ ایکشن کمیٹی نے بھی کھل کر مزاکرات کو ناکام قرار نہیں دیا البتہ ایکشن کمیٹی نے 9 جون احتجاج کی کال برقرار رکھنے کا اعلان کیاہے ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ مٹبت مزاکرات کیلئے ہر وقت تیار ہے
مظفرآباد کے نجی ہوٹل میں دن بھر مزاکرات جاری رہے اس دوران دو مرتبہ وقفہ بھی ہوا رات گئے ختم ہونے والے مزاکرات کے بعد حکومتی وفد کے سربراہ رانا ثناءاللہ نے سابق عزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مزاکرات مکمل ناکام نہیں ہوئے 9 جون سے قبل دوبارہ مزاکرات ہوں گے اور مہاجرین نشستوں کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا
عوام ایکشن کمیٹی کے ممبر کور کمیٹی شوکت نواز میر نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ 9 جون احتجاج کی کال واپس لی جائے لیکن ہماری کال برقرار ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کیلئے وہ سنجیدہ کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں شوکت نواز میر نے انتہائی محتاط گفتگو میں مزاکرات کو مکمل ناکام قرار نہیں دیا
اس حوالے سے وزیر امور کشمیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ سب سے اہم مطالبہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ ہے جو فوری طور ممکن نہیں اس کیلئے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے آئین نیں تبدیلی کرنا ہوگی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کو درپردہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے کیلئے تعاون اور یقین دھانی حاصل ہے اسی لئے ایک کمیٹی کہتی یے کہ نشستوں کے خاتمے کیلئے ترمیم کرانا ممکن ہے کیوں کہ ماضی میں اسمبلی کے 48 اراکین نے وزیر اعظم کے انتخاب میں یک طرفہ ووٹ دیئے تھے۔




