جموں کشمیر کی گمشدہ تہذیب میرپور کی لوک تاریخ کا راز
تحقیق و روایت : محمد افضل، راچڈیل / راجدھانی اور محمد ارشد بھمبر/اولڈہم
تحریر و ترتیب: شمس رحمان اولڈہم / کالگڑھ
کبھی کبھی تاریخ کتابوں سے نہیں نکلتی۔
وہ کسی بزرگ کے سینے میں محفوظ ہوتی ہے۔
کسی ویران کھنڈر کی خاموشی میں چھپی ہوتی ہے۔
کسی پرانے سکے، ٹوٹے ہوئے برتن، بھولی ہوئی بستی، خشک کنویں یا دریا کے بدلے ہوئے راستے میں سانس لے رہی ہوتی ہے۔
میرپور کی یہ کہانی بھی ایسی ہی ہے۔
یہ سرکاری فائلوں میں بند تاریخ نہیں۔
یہ وہ تاریخ ہے جو سینہ بہ سینہ چلی آئی ہے۔
ہو سکتا ہے اس میں کچھ مبالغہ ہو۔ ہو سکتا ہے کچھ باتیں وقت کے ساتھ بدل گئی ہوں۔ لیکن اس میں جن آثار، مقامات، سکوں، کنوؤں، عمارتوں اور لوک یادداشتوں کا ذکر آتا ہے، وہ اتنے اہم ہیں کہ انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ کہانی مجھے پہلی بار راچڈیل میں “کشمیری لائیوز” نامی ایک پروجیکٹ کے دوران ڈڈیال سے تعلق رکھنے والے محمد افضل صاحب نے سنائی تھی۔ اس وقت انہوں نے ایک حیران کن بات کہی تھی: میرپور کے اس علاقے میں کبھی ایک بہت بڑا قدیم شہر آباد تھا، جو دریاؤں کے رخ بدلنے سے تباہ ہو گیا۔
اس وقت بات وہیں رہ گئی۔ مگر دل میں ایک کانٹا سا اٹک گیا۔ کیا واقعی میرپور کے نیچے، دریاؤں کے کناروں پر، جنگلوں اور بستیوں کے درمیان کسی قدیم تہذیب کے نشان دفن ہیں؟
چتڑ پڑی: نام میں چھپی ایک قدیم یاد
کچھ عرصہ پہلے تک مجھے میرپور شہر کے جنوب میں واقع قصبے چتڑ پڑی کے نام کی وجہ معلوم نہیں تھی۔ نہ کبھی خاص سوچا تھا۔ مگر جب ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید اور ڈاکٹر محسن شکیل جیسے میرپور کے انمول کشمیریوں سے واقفیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس جگہ کا نام ان پڑیوں کی وجہ سے پڑا جن پر چترکاری ہوئی ہوئی ہے۔ اسی لیے اس مقام کو چتڑ پڑی کہا گیا۔
سن 2013 میں جب ڈاکٹر محسن شکیل آزاد کشمیر کے محکمہ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر بنے تو مقامی تاریخ، ثقافت اور تشخص کے ان بے لوث وارثوں کی کوشش سے آزاد کشمیر کی معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر رخسانہ اور پاکستان سے کچھ ماہرین یہاں آئے۔ آثار کے علمی معائنے کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ یہ مقام کم از کم چھ ہزار سال پرانا ہو سکتا ہے۔
اگر یہ اندازہ درست ہے تو یہ آثار پاکستان کی قدیم ترین معلوم تہذیب ہڑپہ سے بھی تقریباً ایک ہزار سال پرانے بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہاں ایسے نشانات بھی ملے ہیں کہ اگر باقاعدہ کھدائی کی جائے تو شاید پتھر کے زمانے سے بھی پہلے کی باقیات مل جائیں، یعنی ممکنہ طور پر لاکھوں سال پرانے آثار۔
مگر افسوس، کھدائی تو کیا ہونی تھی، اس مقام کو محفوظ بھی نہیں کیا جا سکا۔
جون 2025 میں جب میں اپنے دوست کریم نواز اور محمد صادق کے ساتھ وہاں گیا تو چند پڑیاں ہی باقی رہ گئی تھیں۔ ارد گرد تعمیرات تھیں، اور ان پڑیوں کے بالکل قریب بھی تعمیراتی سامان پڑا ہوا تھا۔ عین ممکن تھا کہ ان پر بھی تعمیرات ہو جاتیں، اگر لوگوں کو بینائی دینے والے ڈاکٹر عبدالحمید خواجہ سوشل میڈیا کے ذریعے متعلقہ حکام کو بروقت متوجہ نہ کرتے۔
برزہ ہوم سے چتڑ پڑی تک
یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے سری نگر سے بیس پچیس میل دور واقع آثارِ قدیمہ کا مشہور مقام برزہ ہوم یاد آتا ہے۔ اس کے بارے میں شاید پہلی بار میں نے پرتھوی ناتھ کوہل کی تاریخِ کشمیر میں پڑھا تھا۔ 1960 کی دہائی میں وہاں کھدائی کے دوران ایسے آثار ملے تھے جو موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے بھی قدیم تہذیبی نشانات کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
لیکن پھر تحقیق کا عمل وہاں بھی رک گیا۔
جموں کے بھارتی مقبوضہ علاقے میں بھی ایسے کئی مقامات موجود ہیں جو قدیم انسانی آبادیوں اور تہذیبوں کا پتہ دیتے ہیں، مگر کسی باقاعدہ سائنسی تحقیق کے نہ ہونے کے باعث وہ بھی یوں ہی پڑے ہوئے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق آزاد کشمیر میں سو سے زائد قدیم تاریخی مقامات ہیں۔ ان میں قلعے، مذہبی عبادت گاہیں، باولیاں اور تاریخی عمارات شامل ہیں جو ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کا عکس پیش کرتی ہیں۔ مگر حکومتی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کے باعث ان آثار کی حفاظت نہ کی جا سکی۔
یعنی ریاست جموں کشمیر، ہمالیہ کی گود میں دفن آثار کے حوالے سے، اگر قدیم ترین تہذیبوں میں شامل نہ بھی ہو تو کم از کم قدیم تہذیبوں کی ہم پلہ ضرور دکھائی دیتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج اس کے زندہ وارثوں کی طرح اس کا مردہ ورثہ بھی بے قدری کا شکار ہے۔
لوک تاریخ: وہ علم جو سینوں میں محفوظ رہتا ہے
سرکاری تاریخ نویسی اپنی جگہ، آثارِ قدیمہ کے محکمے اپنی جگہ، مگر دنیا کے ہر خطے میں قدیم زمانوں کی کچھ نہ کچھ خبر لوک تاریخ سے بھی ملتی ہے۔
یہ وہ تاریخ ہوتی ہے جو عام مقامی لوگوں کے سینوں میں محفوظ رہتی ہے۔
ایک نسل دوسری نسل کو بتاتی ہے۔
پھر وہ اگلی نسل کو۔
یوں باتیں، نام، راستے، کنویں، کھنڈر، مزار، محلے، پہاڑیاں، نالے اور دریاؤں کے رخ یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
آج جو میرپور کی چونکا دینے والی کہانی میں بیان کرنے جا رہا ہوں، وہ بھی ایک ایسی ہی سینہ بہ سینہ چلتی آئی روایت ہے۔ ممکن ہے یہ پوری طرح درست نہ ہو۔ ممکن ہے اس میں کچھ باتیں خواب و خیال ہوں۔ مگر جن شواہد کا ذکر اس میں آتا ہے، ان کی عمر کا اندازہ آثارِ قدیمہ کے سائنسی طریقوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ پھر ہی فیصلہ ہو گا کہ ان دعوؤں میں کتنی صداقت ہے۔
محمد افضل کی روایت
محمد افضل صاحب کو بچپن ہی سے پرانی جگہوں پر جانے، قدیم چیزیں تلاش کرنے اور خاص طور پر سکے جمع کرنے کا شوق تھا۔ وہ بزرگوں سے پرانی بستیوں، کھنڈرات اور آثار کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔
انہوں نے کئی سال گھوم پھر کر سکے جمع کیے۔ ان میں سے کچھ انہوں نے لاہور اور لندن کے عجائب گھروں سے “پڑھوائے” بھی۔ ان کے بقول ان سکوں میں حضرت عثمان کے زمانے کے ایسے سکے بھی شامل تھے جن پر کلمہ لکھا ہوا تھا۔
باقی آئندہ ۔۔۔۔
مصنف کے بارے میں





