آزاد کشمیر: کیا خطہ ایک بار پھر تصادم کے دہانے پر؟
شمس رحمان، مانچسٹر/میرپور
آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بلند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 31 مئی 2026 تک حکومت کے ساتھ 04 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں 9 جون کو شٹر ڈاؤن اور لانگ مارچ کی کال نے صورتحال کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ غیر واضح حکومتی حکمت عملی، تاخیر اور آئندہ انتخابات کے گرد گھومتے سوالات نے فضا کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
زمینی حقائق اور حالیہ عوامی رجحانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں۔ ماضی کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ اس نوعیت کی تحریکیں ادھورے وعدوں پر ختم نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطہ ایک بار پھر ایک حساس سیاسی امتحان کے دہانے پر کھڑا محسوس ہوتا ہے۔
حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد میں سستی اور غیر سنجیدگی کے تاثر نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا یہ محض انتظامی کمزوری ہے، یا پس پردہ کوئی سیاسی حکمت عملی کام کر رہی ہے؟ بعض مبصرین کے مطابق حالات کو اس نہج تک لے جانے کی کوشش ہو سکتی ہے جہاں انتخابات کو مؤخر کرنے کا جواز پیدا ہو جائے—اگرچہ اس کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔
دوسری جانب، غیر رسمی ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ پولیس کے بعض حلقوں میں ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو عوامی اور جائز سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ ریاستی بیانیے اور عوامی احساسات کے درمیان ایک واضح خلیج کی نشاندہی کرتا ہے—جو کسی بھی سیاسی بحران میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس بار مارچ کا رخ قانون ساز اسمبلی کی طرف ہو سکتا ہے، اور منتظمین اس بار کسی مرحلے پر رکنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آیا حکومت اس مارچ کو پرامن انداز میں ہونے دے گی یا اسے روکنے کی کوشش کرے گی—اور اگر ایسا ہوا تو نتائج کیا ہوں گے؟
صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا پہلو یہ ہے کہ ماضی کے تناظر میں پاکستان سے اضافی سکیورٹی فورسز طلب کیے جانے کا امکان بھی زیر بحث ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی سطح پر موجود سیاسی قوتیں اس حکمت عملی کا حصہ بنتی ہیں یا نہیں، اور آیا یہ اقدام کشیدگی کو کم کرے گا یا اسے مزید بھڑکائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ان قوتوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھیں گے جنہیں بعض حلقے اس معاہدے کا ضامن قرار دیتے ہیں۔
عوامی ردعمل کے ابتدائی اشارے اس بار زیادہ وسیع شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے خلاف روایتی بیانیہ مطلوبہ اثر پیدا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جس سے اس کی عوامی حمایت میں اضافہ محسوس ہوتا ہے۔
ایسے میں سب سے معقول راستہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ حکومت فوری طور پر معاہدے پر اپنی پیش رفت کی شفاف تفصیلات عوام کے سامنے رکھے اور طے شدہ نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ صرف ممکنہ تصادم کو روک سکتے ہیں بلکہ خطے میں سیاسی استحکام کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان کی حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں ایک شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابی عمل کو یقینی بنائیں تاکہ خطے میں اعتماد اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ اگر اس کے برعکس دباؤ یا کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی تو اس کے نتائج نہ صرف غیر متوقع ہوں گے بلکہ ممکنہ طور پر مطلوبہ سیاسی اہداف کے برعکس بھی جا سکتے ہیں۔
فی الحال سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا معاملات مذاکرات سے حل ہوں گے، یا آزاد کشمیر ایک بار پھر سڑکوں پر فیصلے ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے؟
نچوڑ اور سفارشات
چوں کہ آزاد کشمیر عملی طور پر پاکستان کے زیر انتظام ہی ہے اور گزشتہ معاہدہ بھی پاکستانی حکومت کے نمائندگان کی موجودگی اور ضمانت پر ہوا تھا، اس لیے حکومتِ پاکستان اور پاکستان کے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کو تمام منظور شدہ مطالبات پر عمل درآمد کا پابند کرنا چاہیے۔ اس وقت سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، آزاد کشمیر میں حکمران طبقات، بشمول سرکاری صحافیوں، کی جانب سے ایکشن کمیٹی مخالف بیانیہ بنانے کی کوششوں کے باوجود عوام کی اکثریت مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار آزاد کشمیر اور پاکستان دونوں حکومتوں کو ہی قرار دے رہی ہے۔ ایکشن کمیٹی نے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے 31 مئی کی جو حتمی تاریخ دی ہے، اس میں ابھی 27 دن باقی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مطالبات پر نیک نیتی اور مکمل شفافیت کے ساتھ فوری عمل درآمد کیا جائے اور اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ بصورت دیگر، موجودہ حالات میں ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کانفرنسوں میں عوام کی بھرپور شرکت اور جوش و خروش واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت آزاد کشمیر میں حقیقی سیاسی وزن ایکشن کمیٹی کے پاس ہے، اور عوامی سرگرمیوں سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عوام اس کی کال پر ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
مصنف کے بارے میں





