پیٹرول بحران کی افواہیں: گندم کی طرح ایک اور ڈرامہ؟

شئر کریں

از قلم: راشد ناصر — ایم فل اسکالر

پاکستان میں ایک بار پھر افواہوں کا بازار گرم ہے۔ سرکاری افسران اور کچھ نیوز چینلز کی جانب سے پیٹرول کی قلت کے بحران کی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، جو عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رہی ہیں۔ 25 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف 23 دن کا پیٹرول ریزرو ہونے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے؟ اور اگر پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو معیشت پر کیا اثرات پڑیں گے؟ آئیے اسے اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھتے ہیں، جو مستند ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ کالم 2020 کے گندم بحران کی یاد دلاتا ہے، جب اسی طرح کی جھوٹی افواہیں پھیلائی گئی تھیں اور آخر میں روس سے سستی گندم درآمد کی گئی۔

2020 میں، گندم کی قلت کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ سرکاری افسران نے غلط بیانات دیے کہ ملک میں گندم کی شدید کمی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت نے روس سے ایک ملین ٹن گندم درآمد کی، جو جولائی 2020 میں حکومتی سطح پر طے پانے والے معاہدے کے تحت تھی۔ مجموعی طور پر، 2020 میں پاکستان نے 3.617 ملین ٹن گندم درآمد کی، جس کا بڑا حصہ روس سے آیا۔ جولائی 2020 سے فروری 2021 تک روس نے پاکستان کو 1.63 ملین ٹن گندم برآمد کی۔

اس وقت گندم کے ذخائر کیا تھے؟ 2018-19 میں ابتدائی ذخائر 4.7 ملین ٹن تھے، جو برآمدات کی وجہ سے کم ہو کر 2 ملین ٹن رہ گئے۔ حکومت نے پیداوار کا ہدف 27.03 ملین ٹن رکھا تھا، لیکن اصل پیداوار 26.1 ملین ٹن رہی۔ حکومت نے 8.5 ملین ٹن خریدنے کا ہدف رکھا، لیکن صرف 6.5 ملین ٹن خریدی گئی۔ یہ بحران جھوٹا تھا، کیونکہ مارکیٹ میں گندم دستیاب تھی، لیکن افواہوں نے درآمدات کا جواز بنا دیا۔ عوام نے افسران کے بیانات پر بغیر تصدیق کے یقین کر لیا، اور نتیجہ سستی روسی گندم کی درآمد تھا۔

اب پیٹرول کی بات کریں۔ مارچ 2026 میں، پاکستان کے پیٹرول ذخائر تقریباً 500,000 ٹن سے زیادہ ہیں، جو 26 دن کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔ ڈیزل کے ذخائر بھی 25-28 دن کے ہیں۔ مجموعی پیٹرولیم ریزرو 28 دن کا ہے، خام تیل 10 دن کا، اور ایل پی جی 15 دن کی۔ پاکستان کی روزانہ پیٹرول کھپت تقریباً 479,218 بیرل ہے۔ گیسولین کی کھپت 240.44 ہزار بیرل یومیہ ہے (2023 کے اعداد و شمار کے مطابق)۔

کیا 25 کروڑ آبادی والے ملک میں صرف 23 دن کا ریزرو ممکن ہے؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ ریزرو 26-28 دن کا ہے، جو 23 دن سے قریب ہے لیکن کوئی شدید بحران نہیں۔ مشرق وسطیٰ کے بحران اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے درآمدات میں رکاوٹ ہے، لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ کوئی فوری قلت نہیں۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے قلت پیدا ہو سکتی ہے، لیکن اوگرا اور حکومت یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ ذخائر کافی ہیں۔ تمام اداروں کے پاس روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ کھپت کے اعداد و شمار دستیاب ہیں، جو بیرل کی بنیاد پر ہیں۔

یہ وہی پیٹرن ہے جو 2020 میں گندم کے ساتھ دیکھا گیا۔ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، لیکن حقیقت میں دستیاب وسائل اور ریزرو موجود ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ افسران کے بیانات پر بغیر تصدیق کے یقین نہ کریں۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے پیٹرول کی قیمتیں فوری طور پر بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے. آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر صارفین تک منتقل کیا جائے اور کوئی سبسڈی نہ دی جائے۔

میرے علم کے مطابق، آئی ایم ایف طویل مدتی معاشی اصلاحات کا مطالبہ کرتا ہے، نہ کہ قلیل مدتی جھٹکے۔ لیکن 2026 میں، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پیٹرول اور ڈیزل پر کاربن لیوی اور ٹیکس بڑھانے کی تجاویز ہیں۔

مارچ 2026 میں پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ ہوا، جو 266.17 روپے فی لیٹر ہو گئی۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے معیشت پر اثرات: تفصیلی جائزہ
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی معیشت پر شدید اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہاں تفصیل سے دیکھتے ہیں:

1- پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ اور پیداوار کے اخراجات بڑھتے ہیں، جو خوراک، کپڑے اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ 2024 میں، پاکستان میں مہنگائی کی شرح 27 فیصد سے زیادہ ہو گئی جب ایندھن کی قیمتیں عروج پر تھیں۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کو مزید بڑھاتا ہے، جو گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔

2- پاکستان تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھتے ہیں، جو اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ صنعتوں میں پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جو ملازمتوں اور سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ جی ڈی پی کی شرح نمو کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔

3- تیل کی درآمدات بڑھنے سے درآمدی بل بڑھتا ہے، جو روپے کی قدر کو کمزور کرتا ہے۔ شرح تبادلہ میں اضافہ مہنگائی کو مزید بڑھاتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی کرنسی اور جی ڈی پی پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔

4- کم اور متوسط آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں، بچت کی قدر کم ہوتی ہے، اور کاروبار کم ہوتے ہیں۔ رمضان سے پہلے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

“مہنگائی کا بم” ہے، جو ہر پاکستانی کو متاثر کرتا ہے۔

5- تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پیداواریت کم کرتا ہے، جو حقیقی اجرتوں، ملازمتوں اور سرمایہ کاری کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں تیل کی کھپت جی ڈی پی کی نمو میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن قیمتوں کا اضافہ اسے کمزور کرتا ہے۔

حکومت اور بعض عناصر اس بحران کو مہنگائی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مارچ 2026 میں پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ ہو کر 266.17 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے فوری قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ ہے، جو ٹیکس اور کاربن لیوی کی شکل میں ہے۔ یہ مطالبات طویل مدتی اصلاحات کا حصہ ہیں، لیکن فوری جھٹکا معیشت کو مزید کمزور کرے گا۔
حکومت ہفتہ وار قیمتوں کی نظرثانی، ورک فرام ہوم، اور دیگر اقدامات پر غور کر رہی ہے، جو بالآخر صارفین پر بوجھ ڈالیں گے۔ یہ سب کچھ مہنگائی بڑھانے کا ایک منظم ڈرامہ لگتا ہے — جہاں بحران کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافہ “ناگزیر” لگے۔

عوام کو بیدار ہونے کی ضرورت
یہ پیٹرول بحران 2020 کے گندم بحران کی طرح لگتا ہے – جھوٹی افواہیں، سرکاری بیانات اور آخر میں قیمتوں کا اضافہ۔ ذخائر دستیاب ہیں، اور دستیاب وسائل سے پیٹرول کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط طویل مدتی ہیں، لیکن فوری اضافہ معیشت کو جھٹکا دے گا۔ عوام کو چاہیے کہ بیانات کی تصدیق کریں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔ مستند اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کوئی شدید بحران نہیں، لیکن قیمتوں کا اضافہ مہنگائی کو بڑھا دے گا۔ حکومت کو شفافیت اپنانی چاہیے تاکہ عوام کو غیر ضروری خوف سے بچایا جا سکے

مصنف کے بارے میں

admin

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *