آزاد کشمیر اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی سیٹیں اور رائے شماری۔(اکرم سہیل)
آجکل آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ جس مسئلہ پر بحث و تمحیث ہو رہی ہے وہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان اور بیرون ملک ان کی بارہ سیٹیں ہیں۔۔اس بحث کو بین الاقوامی قوانین اور علم سیاسیات میں متعین اصولوں کی روشنی میں پرکھنے کی بجائے جہاں اسے پوائنٹ سکورنگ کی نذر کیا جا رہا ہے وہاں حسب روایت ایسا مطالبہ کرنے والوں کو دشمن کا ایجنٹ وغیرہ قرار دینے کا عمل بھی جاری ہے کیونکہ یہ سب سے آسان اور آزمودہ توڑ ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی ریاست کی بنیاد ان چار عوامل پر ہوتی ہے۔ علاقہ ،آبادی ،اقتدار اعلیٰ اور پارلیمنٹ( آئین یا قانون ساز اسمبلی) ۔۔۔۔ ریاست کے اندر رہنے والے شہریوں کو ہی اپنے حکمران چننے کاحق دیا جاتا ہے جو اس مملکت کےمستقل شہری ہوں۔ کیونکہ انہوں نے ہی وہاں کے سماجی معاشی اور ترقیاتی مسائل حل کرنا ہوتے ہیں۔ جو شخص وہاں کا شہری نہیں جس کا وہاں پر کوئی سٹیک بھی نہیں لیکن اسے وہاں کے لوگوں کے معاملات پر فیصلے کرنے حق بھی ہو اور وہاں کے لوگوں کے ٹیکسوں سے جمع مالی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کا اختیار بھی ہو۔ ساری دنیا کی پارلیمنٹس میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ وہ ایسے کسی شخص کو ووٹر یا ممبر پارلیمنٹ بنوا دیں جو اس ریاست کی علاقائی حدود میں مستقل رہائش نہ رکھتا ہو۔ یا اسمبلی میں ایسے علاقے کیلیۓ سیٹیں مختص ہوں جو اس ریاست کی علاقائی حدود سے باہر ہو۔۔
آزاد کشمیر اسمبلی دنیا کی واحد مثال ہے جس کی علاقائی حدود میں نہ صرف پورا پاکستان شامل ہے بلکہ ساری دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا کشمیری جس کے آزاد کشمیر میں کوئی سٹیکس نہیں ہیں وہ نہ صرف اس اسمبلی کا ممبر بن سکتا ہے بلکہ آزاد کشمیر کی حکومت کی تشکیل اس میں وزارتوں کا حصول اور گورننس کے متعلق فیصلے کرنے اور مالی وسائل پراختیار بھی رکھتا ہے۔ بلکہ ان کے مالی وسائل اغواہ بھی کر سکتا ہو۔ اس طرح آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اقوامِ متحدہ کے بعد دنیا کی وہ واحد اسمبلی ہے جس کا اختیار ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔۔جو آج کی دنیا کے جمہوری اصولوں کے ساتھ ایک مذاق سے کم نہیں۔ اور یہ مذاق تحریک آزادی کے نام کے پیچھے چھپ کر کیا جاتاہے۔
دنیا کی ریاستوں میں ایک تسلیم شدہ اصول یہ بھی ہے (There is no
representation without taxation یعنی جس جگہ سے آپ ٹیکس وصول نہیں کر سکتے یا وہاں کے لوگ آپ کو ٹیکس نہیں دے رہے وہاں کے لوگوں کو اس ریاست کی اسمبلی یا ملازمتوں میں نمائندگی نہیں دی جا سکتی۔۔ اس بین الاقوامی اصول قانون کو دیکھیں تو مہاجرین مقیم پاکستان یا بیرون ملک مستقل رہنے والے کشمیریوں کی آزاد کشمیر اسمبلی میں بیٹھنے کی قطعآ جوازیت نہیں ہے۔۔
پھر اس پر یہ اضافہ کہ خود تو آزاد کشمیر میں اس علاقےکے رہنے والے کشمیریو سے ٹیکس تو آتا نہیں لیکن آزاد کشمیر کے عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ ارب ہا روپے ترقیاتی سکیموں کے نام پر ہر سال پاکستان لے جاتے ہیں جو کرپشن کی نذر ہوتا ہے ۔ آزاد کشمیر کے عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں ٹیکسوں سے ہمارا نچوڑا ہوا خون آزاد کشمیر میں عوام کو تعلیم اور صحت وغیرہ پر خرچ کرنے کی بجائے تم کس قانون کے تحت آزاد کشمیر کی علاقائی حدود سے باہر بھیج کر کرپشن کی نذر کررہے ہو؟؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں کشمیریوں کی نمائیدگی اگر دینا تھی تو گلگت بلتستان جو ریاست جموں کا حصہ ہے اسے آزاد کشمیر کے ساتھ شامل کرکے اسے نمائیدگی دینے کی آواز کیوں نہ اٹھائی گئی؟؟ لہذا آزاد کشمیر اسمبلی سے اس کی علاقائی حدود سے باہر والی تمام سیٹیں ختم کرکے آزاد کشمیر اسمبلی کا ایک کٹھ پتلی کا رول ختم کرنا ہوگا کہ پاکستان سے آنے والی بارہ سیٹیں آزاد کشمیر کی سیاست کا فیصلہ کرتی ہیں۔آزادئ کشمیر کے نام پر یہ نوسر بازی ختم کر کے آزاد کشمیر کے عوام کو اپنی حکومت بنانے کا اختیار بحال کرنا ہو گا۔ان کے ٹیکسوں سے جمع شدہ رقم یہاں تعلیم انفراسٹرکچر اور ہسپتالوں میں بہتر سہولتوں پر خرچ کی جائے تاکہ آزاد کشمیر کے ڈاکٹر مریضوں کیلئے لوگوں کو یہ مفت مشورہ دینا بند کر دیں ۔
“اس مریضے ایتھے نی بچناں اس کی پنڈی کنی جاؤ۔۔”
ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں صرف ایک ایسا مطالبہ ہے حکومت پاکستان کی رضامندی سے آزاد کشمیر کے آئین میں ترمیم کے علاوہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ان مہاجرین کی سیٹیں ختم کردی جائیں گی تو اس کا مسلہء کشمیر پر منفی اثر پڑے گا اور جموں و کشمیر میں رائے شماری کے وقت یہ مہاجرین مقیم پاکستان رائے دہی کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ اس بارے میں عوام کی آگاہی ضروری ہے۔
آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں بھی ڈوگرہ عہد کے ان قوانین کو تحفظ دیا گیا ہے جن کے مطابق اگر ریاستی باشندے دو جنریشن تک ریاست سے باہر مستقل ہجرت کر جائیں تو تیسری نسل یہاں کی شہریت کھو دے گی۔ لیکن کشمیری عوام کی خوش قسمتی ہے کہ اقوام متحدہ کمیشن برائے انڈیا و پاکستان کی 13 اگست 1948 کی قرارداد کے ساتھ دونوں ملکوں کا ایک معائدہ موجود ہے جو یو این سی آئی پی کی قرارداد کا حصہ جو درج ذیل ہے_
6(a) All citizens of the State who have leftit on account of the disturbances will be invited and be free to return and to exercise all their rights as such citizens.For the purpose of facilitating repatriation there shall be appointed two Commissions shall operate under the direction of plebisite administator.The Government of India and Pakistan and all authorities within the State of Jummu and Kashmir will collaborate with the Plebiscite Administator in putting this provision to effect.
اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے مطابق ریاست جموں کشمیر کے شہری دنیا میں جہاں کہیں بستے ہوں راۓ شماری کے وقت انہیں ریاست میں واپس بلا کر رائے شماری میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کا موقع دیا جائیگا۔ لہذا یہ اعتراض ان مہاجرین کو آزاد کشمیر اسمبلی کی رکنیت نہ دینے سے ان کا رائے شماری قے وقت ووٹ نہیں ہوگا اس دلیل میں وزن نہیں۔پھر آزاد کشمیر کے آئین میں آزاد کشمیر کی ریاست کی حدود متعین کرنے کے ساتھ آزاد کشمیر اسمبلی کی علاقائی حدود متعین کی گئی ہیں جس میں پاکستان کاخطہ شامل نہیں کہ وہاں سے لوگ آزاد کشمیر اسمبلی کیلئے منتخب ہو سکیں۔ یہ مہاجرین نہ أزاد کشمیر کےرہائشی شہری نہ ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔نہ وہ قانون ان لاگو ہوتا ہے جس کی وہ قانونسازی کرتے ہیں۔تو ایسی ریاست کی قانونساز اسمبلی میں وہ کیسے بیٹھ کر اس ریاست کیلئے نہ صرف قانونسازی بلکہ اس کے انتظامی معاملات بھی چلا سکتے ہیں۔




