پاکستان: مفادات کی دنیا میں اصول کی ایک مثال

شئر کریں

ڈاکٹر عتیق الرحمن
آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی


عالمی سیاست کے بارے میں ایک مشہور قول بار بار دہرایا جاتا ہے کہ “خارجہ پالیسی میں نہ دوست ہوتے ہیں نہ دشمن، نہ اصول ہوتے ہیں—صرف مفادات ہوتے ہیں۔” بظاہر تاریخ کے کئی واقعات اس خیال کی تائید بھی کرتے ہیں۔ بڑی طاقتیں اکثر اپنے معاشی، تزویراتی اور سیاسی مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور اخلاقی اصول یا انصاف کی باتیں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ تاہم اگر کسی ملک کی سفارتی تاریخ اس عمومی مفروضے کو چیلنج کرتی ہے تو وہ پاکستان ہے۔
پاکستان کی سفارتی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایک معاشی طور پر کمزور اور مسلسل سیاسی و معاشی چیلنجز سے دوچار ریاست ہونے کے باوجود اس نے بارہا ایسے مواقع پر اصولی موقف اختیار کیا جب اس کے فوری مفادات کچھ اور تقاضا کرتے تھے۔ آج بھی یہی رویہ اس کی خارجہ پالیسی میں نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کے کئی مالدار اور طاقتور ممالک اپنے معاشی مفادات کے تحت پالیسی بدل لیتے ہیں، پاکستان اکثر ایسے مواقع پر اصول کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
نظریاتی بنیاد اور خارجہ پالیسی: دنیا کے اکثر ممالک محض جغرافیائی حقیقتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، مگر پاکستان کی بنیاد ایک نظریے پر رکھی گئی تھی۔ اس نظریاتی بنیاد نے اس کی خارجہ پالیسی کی سمت بھی متعین کی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فوراً بعد اپنی تقاریر میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان عالمی امن، انصاف اور مظلوم اقوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرے گا۔
ان اصولوں کے تین بنیادی ستون تھے:

  1. تمام ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور خاص طور پر مسلم دنیا کے ساتھ قریبی تعلقات
  2. نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور محکوم اقوام کے حق خودارادیت کی حمایت
  3. بین الاقوامی تنازعات میں انصاف اور میانہ روی کی پاسداری
    یہ اصول محض سفارتی بیانات نہیں تھے بلکہ پاکستان کی عملی سفارتی تاریخ میں بارہا نظر آتے ہیں۔
    انڈونیشیا کی آزادی- خارجہ پالیسی کا پہلا امتحان: پاکستان کی خارجہ پالیسی کا پہلا واضح اظہار انڈونیشیاکی آزادی کی جدوجہد میں ہوا۔ 1946میں پاکستان ابھی وجود میں نہیں آیا تھا جب انڈونیشیا ڈچ نوآبادیاتی قبضے کے خلاف برسرپیکار تھا، تو قائداعظم نے اس جدوجہد کی نہ صرف اخلاقی حمایت کی بلکہ ہندوستانی فوج کے مسلم سپاہیوں کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب بھی دی۔
    پاکستان کے قیام کے بعد بھی اس موقف کو عملی شکل دی گئی۔ جب ڈچ بحریہ نے کراچی بندرگاہ کو اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے انہیں ایندھن اور سہولیات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک نو قائم ریاست کے لیے، جو خود شدید معاشی اور انتظامی بحران کا شکار تھی، ایک بڑی معاشی طاقت کو انکار کا یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ لیکن پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی نوآبادیاتی طاقت کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
    جاپان کی بحالی میں غیر معمولی کردار: دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان ایک تباہ حال اور عالمی سطح پر تنہا ملک بن چکا تھا۔ 1951 کی سان فرانسسکو امن کانفرنس میں کئی طاقتیں جاپان پر سخت شرائط مسلط کرنا چاہتی تھیں۔ اس وقت پاکستان خود اپنی معاشی مشکلات سے نبرد آزما تھا، مگر اس نے کانفرنس میں یہ موقف اختیار کیا کہ جاپان پر غیر معقول جنگی تاوان مسلط نہیں کیے جانے چاہئیں۔ پاکستان نے نہ صرف یہ موقف اختیار کیا بلکہ جاپان کے ساتھ تجارت اور بحری جہاز رانی کا معاہدہ بھی کیا۔ اس معاہدے نے جاپان کی صنعتی بحالی میں مدد دی۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کا جاپان سے نہ جغرافیائی تعلق تھا نہ فوری معاشی فائدہ، یہ فیصلہ اصولی موقف کی واضح مثال تھا۔
    سرد جنگ میں متوازن کردار: 1950 کی دہائی میں کورین جنگ کے دوران دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی طرف بڑھ رہا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی فوجیں جنگ میں بھیجنے سے انکار کر دیا اور مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کی۔ اسی طرح ویتنام کی کے دوران پاکستان نے امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود امریکی فوجی کارروائیوں کی غیر مشروط حمایت نہیں کی۔ اس نے ویت نامی عوام کے حق خودارادیت پر زور دیا۔ یہ موقف اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو محض اتحادیوں کے مفادات کے تابع نہیں رکھتا۔
    افریقہ کی آزادی کی تحریکیں: 1950 اور 1960کی دہائیوں میں افریقہ بھر میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ پاکستان نے مراکش، تیونس، الجزائر اور دیگر افریقی ممالک کی آزادی کی تحریکوں کی بھرپور حمایت کی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھائی اور بعض مواقع پر ان تحریکوں کو عملی مدد بھی فراہم کی۔ 1950 کی دہائی میں مراکش کی آزادی کی تحریک کے ایک اہم رہنما، محمد عبدالکریم الخطیب کو فرانسیسی حکومت کی طرف سے پابندیوں کا سامنا تھا۔ فرانس کی دشمنی کا خطرہ مول لیتے ہوئے پاکستان نے انہیں اپنا پاسپورٹ جاری کیا، جس کی بدولت وہ بین الاقوامی فورمز پر سفر کرکے مراکشی عوام کی آواز دنیا تک پہنچا سکے۔ یہ ایک انقلابی اقدام تھا، جو ایک خود مختار ریاست کی طرف سے کسی دوسری قوم کے رہنما کو دی جانے والی عملی امداد کی واضح ترین مثال تھی۔
    یہ حمایت صرف مذہبی بنیاد پر نہیں تھی، کیونکہ ان تحریکوں میں کئی غیر مسلم اقوام بھی شامل تھیں۔ اس کے پیچھے بنیادی اصول یہ تھا کہ ہر قوم کو آزادی اور خودمختاری کا حق حاصل ہے۔
    بوسنیا میں عملی کردار: 1990 کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران جب بوسنیا میں نسل کشی ہو رہی تھی تو دنیا کی بڑی طاقتیں زیادہ تر بیانات تک محدود رہیں۔ پاکستان نے اس موقع پر نہ صرف سفارتی سطح پر بوسنیائی مسلمانوں کی حمایت کی بلکہ انسانی اور عسکری مدد بھی فراہم کی۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی امن فوج میں بڑی تعداد میں دستے بھیجے اور ہزاروں بوسنیائی مہاجرین کو پناہ دی۔ اس کے علاوہ خفیہ سطح پر بوسنیائی فوج کو اسلحہ فراہم کرنے کا اعتراف خود بوسنیا کی لیڈر شپ نے بھی کیا، حالانکہ پاکستان کو کوئی اقتصادی یا تزویراتی مفاد بوسنیا کے ساتھ وابستہ نہیں تھا۔
    مشکل فیصلے-مشرقی تیمور اور یمن:خارجہ پالیسی کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اصول اور اتحادی مفادات آپس میں ٹکرا جائیں۔ مشرقی تیمور کے معاملے میں پاکستان نے انڈونیشیا جیسے قریبی دوست ملک کے خلاف جا کر مشرقی تیمور کے حق خودارادیت کی حمایت کی۔اسی طرح 2015 میں یمن کے بحران کے دوران پاکستان نے اپنے قریبی اتحادی سعودی عرب کی درخواست کے باوجود فوجی مداخلت سے گریز کیا اور غیر جانبداری کا راستہ اختیار کیا
    فلسطین-اصولی موقف کی سب سے بڑی مثال: پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے مستقل عنصر فلسطین کے مسئلے پر اس کا موقف ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے آج تک پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔
    2020 میں جب متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے ابراہام ایکارڈ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تو پاکستان کے سامنے بھی یہی راستہ اختیار کرنے کی پیشکشیں آئیں۔ کئی دوست ممالک اور عالمی طاقتیں اس کے بدلے معاشی مراعات دینے کے لیے تیار تھیں۔اس کے باوجود پاکستان کا موقف واضح رہا کہ جب تک 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی اورمشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت نہیں بنتا، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔
    اصول اور مفاد کے درمیان پاکستان کا انتخاب: حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی ایسے مواقع آئے جب پاکستان نے بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اصولی موقف اختیار کیا۔ چاہے ایران پر حملوں کی مذمت ہو یا وینزویلا کے صدر کے خلاف امریکی اقدام پر تنقید، پاکستان نے بارہا ایسے فیصلے کیے جو اس کے فوری معاشی مفاد کے خلاف تھے۔
    یہاں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان دنیا کے امیر ممالک میں شامل نہیں ہے۔ اس کی معیشت بارہا بحرانوں کا شکار رہی ہے۔ اس کے باوجود اس نے کئی مواقع پر وہ موقف اختیار کیا جو اس کے اقتصادی مفادات کے خلاف ہے اور جسے طاقتور ممالک لینے سے گریز کرتے ہیں۔
    مفروضے کو چیلنج کرتی ایک مثال: آج عالمی سیاست میں اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اصول صرف کمزور ممالک کے لیے ایک عیاشی ہیں اور عملی دنیا میں صرف مفادات کی سیاست ہوتی ہے۔ مگر پاکستان کی سفارتی تاریخ اس مفروضے کو مکمل طور پر غلط ثابت نہ بھی کرے تو کم از کم اسے چیلنج ضرور کرتی ہے۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کچھ مواقع ایسے بھی آئے جب مصلحت یا دباؤ کے تحت فیصلے کیے گئے۔ لیکن مجموعی طور پر اگر پوری سفارتی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے: پاکستان نے اکثر ایسے مواقع پر اصولی موقف اختیار کیا جب اس کے سامنے فوری مفادات کا لالچ موجود تھا۔
    نتیجہ: دنیا کی سیاست میں اصول اور مفاد کے درمیان کشمکش ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ اکثر ممالک اس کشمکش میں مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی تاریخ اس بات کی مثال پیش کرتی ہے کہ ایک معاشی طور پر کمزور ملک بھی اصول کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔
    یہ حقیقت اس وقت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مالدار اور مستحکم ریاستیں اپنے معاشی مفادات کے لیے اسرائیل جیسے متنازع مسئلے پر بھی پالیسی بدل لیتی ہیں، جبکہ پاکستان جیسے محدود وسائل رکھنے والا ملک آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔
    اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی محض مفادات کی سیاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور اصولی روایت کی حامل ہے۔ شاید یہی وہ پہلو ہے جسے ہم خود اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ بتاتا ہے کہ پاکستان نے بارہا ثابت کیا ہے کہ عالمی سیاست میں اصول مکمل طور پر معدوم نہیں ہوئے—کم از کم ایک ملک اب بھی انہیں زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے

مصنف کے بارے میں

admin

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *