|

وادی نیلم میں متبادل زرائع سے توانائی کا حصول

شئر کریں

ڈاکٹر عتیق الرحمن


جنگلات کی اہمیت کا اندازہ تو اب بہت سے لوگوں کو ہو چکا ہے اور جنگلات کو بچانے کے لیے بہت سی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن نیلم ویلی جیسے علاقے میں شدید سردیوں میں توانائی کے متبادل ذرائع مہیا کیے بغیر جنگل کو بچانا ممکن نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ لوگ جو جنگلات کو بچانے کی کوششوں میں شامل ہیں انہیں بھی اس بات کا زیادہ ادراک نہیں ہے کہ متبادل کے طور پر توانائی کا کون سا ذریعہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ہم نے اس سلسلہ میں ایک طویل مطالعہ کیا اور ماہرین کے علاوہ نیلم ویلی کی عوام اور سیاسی و سماجی رہنماؤں سے تفصیلی انٹرویو کئے۔ اس ساری تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وادی نیلم میں متبادل توانائی متعدد ذرائع سے فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان میں سے چند ایک کا مختصر احوال درج ذیل ہے
بجلی:
جنگلات کو بچانے میں سب سے اہم کردار بجلی ادا کر سکتی ہے۔ نیلم ویلی میں اس وقت ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ گزشتہ برس وزیراعظم شہباز شریف نے ددنیال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تعمیر کا اعلان کیا۔ یہ پروجیکٹ 960 میگا واٹ گنجائش کا حامل ہوگا۔۔ اسی طرح اٹھمقام میں 400 میگا واٹ کے پاور پروجیکٹ کی سٹڈی ہو چکی ہے، اشکوٹ میں 300 میگا واٹ جبکہ دریائے نیلم کے معاون نالوں پر بھی سینکڑوں میگا واٹ کے پروجیکٹ لگائے جا سکتے ہیں۔
مثلا دریائے نیلم کے معاون نالہ جاگراں پر اس وقت 30 میگا واٹ اور 2 میگا واٹ ہے کہ دو پروجیکٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ 48 میگا واٹ کا ایک پروجیکٹ زیر تعمیر ہے ۔ اسی نالہ پر اس کے علاوہ 22 میگا واٹ کے ایک پروجیکٹ کی فیزیبلٹی سٹڈی ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکیلا نالہ 100 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پید ا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نالہ جاگراں کی طرح نیلم ویلی میں متعدد دیگر چھوٹے بڑے نالے بھی موجود ہیں جن میں سے ہر ایک بڑی مقدار میں بجلی پیدا کر سکتا ہے۔

بجلی کی سپلائی کے ساتھ ساتھ ہمیں بجلی کی کھپت کا بھی اندازہ ہونا ضروری ہے ۔ اس وقت باقی نیلم ویلی میں تقریبا 12 میگا واٹ بجلی کی سپلائی موجود ہے اور پیک ٹائم peak time میں یہ سپلائی بجلی کی کھپت کے ساتھ متوازن ہو جاتی ہے جبکہ عام اوقات میں بجلی کی خبر کم ہو کر دو سے تین میگا واٹ تک رہ جاتی ہے ۔
اگر تمام لوگوں کو بجلی بطور متبادل استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے تو بجلی کی کھپت میں اضافہ یقینی ہے۔ وادی نیلم میں اس وقت تقریبا 35 ہزار کنبے موجود ہیں اگر ہر کنبہ پیک ٹائم میں 1500 واٹ بجلی استعمال کر رہا ہو تو بجلی کی کل کھپت تقریبا 50 میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔ اور عام اوقات میں بجلی کا استعمال کم ہو کر 10 سے 12 میگا واٹ تک ا ٓجائے گا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا اس وقت جاگراں نالہ پر 48 میگا واٹ کا ایک پاور پروجیکٹ زیر تعمیر ہے۔ فرض کریں حکومت اس اکیلے پاور پروجیکٹ کو نیلم ویلی کے لیے مختص کر دیتی ہے تو یہ پروجیکٹ وادی کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے، جبکہ اسی نالہ پر بننے والے دیگر پروجیکٹ نیشنل گریڈ کو سپلائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ صرف ایک پروجیکٹ وادی نیلم میں متبادل ایندھن فراہم کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ مذکورہ پروجیکٹ کی کل لاگت کا تخمینہ 66 ملین ڈالر یعنی تقریبا 18 ارب روپے ہے ، چنانچہ وادی نیلم کے جنگلات کے تحفظ کی کل لاگت 18 ارب روپے سے زیادہ نہیں۔ اگر حکومت ایک مرتبہ وادی نیلم کے لیے اتنی رقم عطیہ کر کے ایک پروجیکٹ بنوا دے ،تو یہ پروجیکٹ نہ صرف وادی نیلم کے جنگل کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہوگا بلکہ عام اوقات میں نیشنل گریڈ کو اضافی بجلی سپلائی کر کے وادی کے دیگر ضروری امور کے لیے ریونیو فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ یا اس کے متبادل حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وادی میں بننے والے ہر پروجیکٹ کی بجلی کا 10 فیصد وادی نیلم کیلئے مختص کر دیا جائے۔ یہ بجلی عوام کو رعایتی قیمت مثلا 3 روپے فی یونٹ فراہم کی جاسکتی ہے، تاکہ جنگل پر سے لوگوں کا انحصار ختم ہو۔
قابل تجدید جنگلات
توانائی کے دیگر متبادل زرائع میں سب سے اہم زریعہ قابل تجدید جنگلات ہو سکتے ہیں۔ قابل تجدید جنگلات ایسے درختوں کے جنگلات ہیں جن سے ایندھن حاصل کرنے کے لیے نسبتا کم وقت درکار ہوتا ہے۔ پودوں کی ایسی متعدد اقسام موجود ہیں جنہیں کاشت کرنے کے بعد پانچ سے دس سال کے اندر ان سے ایندھن کا حصول ممکن ہے۔ ایسے جنگلات وادی میں متبادل ایندھن فراہم کرنے کےعلاوہ وادی کی قدرتی شادابی اور دیودار کے جنگلات کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
قابل تجدید جنگلات کا آپشن اس لیے بھی پرکشش ہے کہ اس اپنانے میں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے اور آزاد کشمیر میں بڑھتی بے روزگاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ قابل تجدید جنگلات جنگلی حیات اور لائیوسٹاک کی افزائش کے لیے بھی مددگار ہو سکتے ہیں اور موسمی تغیرات کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لیے میرے نزدیک وادی نیلم کو متبادل توانائی فراہم کرنے کا مناسب ترین ذریعہ قابل تجدید جنگلات ہیں۔
قابل تجدید جنگلات کے لیے نہ تو بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی نایاب مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک انپڑھ کسان کو آسانی سے قابل تجدید جنگلات کی افزائش کے لیے تربیت دی جا سکتی ہے۔ اور یہ جنگلات بڑے پیمانے پر لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کا روبار کو لوگ اپنے طور پر بھی شروع کر سکتے ہیں اور یہ مستقبل میں آزاد کشمیر کا ابھرتا ہوا کاروبار بن سکتا ہے۔

بائیوگیس پلانٹس
پودوں اور جانوروں سے حاصل ہونے والا حیاتیاتی مواد ایک مخصوص عمل جسے انیروبک ڈائجسشن کہتے ہیں کے زریعے میتھین گیس اور نامیاتی کھاد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ایسا حیاتیاتی مواد جسے عام طور پر کسی کا م کی چیز نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کو ڈسپوز کرنے پر بے تحاشا وسائل خرچ کئے جاتے ہیں، اس سے بائیوگیس پلانٹ کے زریعے نامیاتی کھاد اور میتھین گیس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ میتھین وہ گیس ہے جسے ہم سوئی گیس کے نام سے جانتے ہیں اور گھروں میں چولہے بنانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔
ہر قسم کے نامیاتی مواد کو بائیوگیس پلانٹ کے زریعے انیروبک پراسس سے گزار کر گیس بنایا جا سکتا ہے، لیکن کچھ حیاتیاتی مواد گیس بنانے میں بہت اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں جن میں جانوروں کا فضلہ اور کچن میں پیدا ہونے والا فاضل مواد شامل ہیں۔ گیس کے علاوہ اس عمل میں نامیاتی کھاد پیدا ہوتی ہے، جو مصنوعی کھادوں کی نسبت کارکردگی میں بہتر اور مصنوعی کھادوں کے مضر اثرات سے مبرا ہوتی ہے۔
نیلم ویلی میں بائیوگیس ایک مؤثر متبادل توانائی کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہاں مویشیوں کی بڑی تعداد اور وافر نباتاتی وسائل موجود ہیں جو کہ بائیوگیس کے لیے موزوں فیڈ اسٹاک فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، سرد آب و ہوا ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ بائیوگیس کی پیداوار کے لیے 20 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے، جب کہ نیلم ویلی میں سردیوں میں درجہ حرارت منفی 10 تک گر جاتا ہے۔
دنیا میں بائیوگیس سے توانائی حاصل کرنے کیلئے متعدد کامیاب ماڈل موجود ہیں۔ بالخصوص نیپال، چین، بھارت، جرمنی وغیرہ میں سرکاری سطح پر بائیوگیس کے کروڑوں پلانٹ لگائے گئے جو کروڑوں گھروں کی ایندھن کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ صرف انڈیا میں نیشنل بائیوگیس مینیجمنٹ پلان کے تحت 50 لاکھ گھروں میں بائیو گیس پلانٹ نصب کئے گئے۔
درجہ حرارت کا مسئلہ اور اس کے ممکنہ حل
سردیوں میں بائیوگیس کی پیداوار میں شدید کمی آتی ہے کیونکہ اینیروبک ڈائجیشن کا عمل جمنے کے باعث رک سکتا ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب سرد موسم میں مویشیوں کے فضلے اور زرعی باقیات کی دستیابی میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔
روایتی بائیوگیس پلانٹس تجرباتی طور پر نیلم ویلی میں محدود کامیابی کے حامل رہے ہیں اور زیادہ تر صرف گرم مہینوں (مئی سے ستمبر) میں مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں:

  1. اندرونی اور پورٹیبل بائیوگیس پلانٹس: بائیوگیس یونٹس گھروں یا بند جگہوں میں نصب کیے جا سکتے ہیں جہاں درجہ حرارت مستحکم رہتا ہے، اور انہیں شمسی توانائی یا باورچی خانے کے فضلے سے پیدا شدہ گرمی سے گرم رکھا جا سکتا ہے۔
  2. فیڈ اسٹاک ذخیرہ کرنا: مویشیوں کا فضلہ اور زرعی باقیات کو زیادہ مقدار میں ذخیرہ کر کے سردیوں میں بھی ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
  3. شمسی توانائی کے ذریعے درجہ حرارت برقرار رکھنا: بائیوگیس پلانٹس کو شمسی توانائی سے گرم پانی فراہم کرنے والے نظام سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔
  4. شمسی توانائی سے چلنے والے پانی کے ہیٹر استعمال کیے جائیں گے جو گرم پانی کو بائیوگیس ڈائجسٹر کے گرد گردش کرائیں گے، یوں سردیوں میں درجہ حرارت کو درکار حد میں برقرار رکھا جا سکے گا۔ اس طریقہ کار سے سال بھر بائیوگیس کی پیداوار کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
    اگر مؤثر طریقے سے لاگو کیا جائے تو بائیوگیس درج ذیل فوائد فراہم کر سکتی ہے:
    • جنگلات کی کٹائی میں کمی، کیونکہ لکڑی کا متبادل دستیاب ہوگا۔
    • نامیاتی فضلے کا مؤثر استعمال اور ماحولیاتی بہتری۔
    • دیہی معیشت میں بہتری، خاص طور پر بائیوگیس پلانٹس کی تنصیب اور دیکھ بھال کے مواقع پیدا ہوں گے۔
    • بائیوگیس سے حاصل شدہ بائی پراڈکٹ (ڈائجسٹیٹ) ایک بہترین نامیاتی کھاد ہے جو زرعی پیداوار میں بہتری لا سکتی ہے۔
    • ان سب کے علاوہ خواتین کو کوکنگ کیلئے ایک بہتر زریعہ میسر آسکتا ہے جو دھویں کا سبب نہیں بنے گا اور گھریلو فضائی آلودگی indoor air pollution کے خاتمہ کا سبب بنے گا
    پاکستان کے متعدد علاقوں میں بائیو گیس پلانٹس کامیابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لیکن نیلم ویلی میں روایتی طریقہ کے مطابق بائیوگیس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں کیونکہ کم درجہ حرارت میں بائیوگیس پلانٹ کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ سردعلاقے اور سرد موسم میں بائیوگیس پلانٹ کو کارامد رکھنے کیلئے دیگر ٹھنڈے علاقوں بشمول نیپال، چین وغیرہ میں ہونے والے تجربات سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ ان ممالک میں شدید سرد موسم میں بائیوگیس پلانٹ فعال رکھے جارہے ہیں اور اس کیلئے مندرجہ بالا طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ تحقیق اور تجربات جاری رکھے جائیں اور دیگر ممالک کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔
    شمسی اور ہوا سے توانائی کے امکانات
    نیلم ویلی کی جغرافیائی اور موسمی خصوصیات شمسی اور ہوا سے حاصل توانائی کے لیے موزوں مواقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، ان ذرائع کی عملی افادیت کا انحصار سورج کی روشنی، ہوا کے رخ، خطے کے جغرافیائی خد و خال اور بنیادی ڈھانچے کی موجودگی پر ہے۔
    دنیا کے کئی ایسے سرد اور پہاڑی خطے ہیں جہاں شمسی اور ہوا سے توانائی کو مؤثر طریقے سے اپنایا گیا ہے۔ ان میں تبّت جیسے سرد اور اونچائی والے علاقے شامل ہیں جہاں کامیاب شمسی توانائی کے منصوبے موجود ہیں۔ تبت کی یانگ باجنگ شمسی توانائی اسٹیشن کم درجہ حرارت کے باوجود مؤثر طریقے سے کام کرتی ہے۔ زیادہ بلندیوں پر شمسی شعاعوں کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ نیلم ویلی میں بھی شمسی توانائی کے ایسے ہی امکانات موجود ہیں، خاص طور پر زیادہ موثر فوٹو وولٹائیک (PV) پینلز کے استعمال سے۔ اسی طرح جرمنی جیسے ملک میں، جہاں موسم زیادہ تر سرد اور ابر آلود رہتا ہے، شمسی توانائی کو قومی گرڈ میں کامیابی سے شامل کیا گیا ہے۔ سولر کے ساتھ ساتھ ونڈ انرجی کو بھی دنیا کے کئی سرد علاقوں میں کامیابی سے استعمل میں لایا جا رہا ہے۔ناروے کے پہاڑی علاقوں میں فوسن ونڈ پروجیکٹ جیسے منصوبے کام کر رہے ہیں جہاں اینٹی آئسنگ ٹیکنالوجی سے لیس ونڈ ٹربائنز استعمال کی جاتی ہیں تاکہ برفباری کے دوران بھی بجلی پیدا ہو سکے۔ نیلم ویلی میں بھی ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا کر ہوا سے بجلی کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔
    شمسی توانائی وادی نیلم میں میں دو طرح سے استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔
    اولاًسولر واٹر ہیٹر کی بڑے پیمانے پر تنصیب گھروں میں ایندھن کی ضرورت کو کم کر سکتی ہے۔ سولر واٹر ہیٹر سورج کی حدت کی بجائے سورج کی رشنی کو استعمال کرتے ہیں اور منفی 30 کے دجہ حرارت تک کام کر سکتے ہیں۔ یہ گھروں میں گرم پانی کی ضرورت پوری کرسکتے ہیں، گھر کی دیواروں میں گرم پانی کے پائپ گزار کر گھروں کو گرم رکھ سکتے ہیں۔ بائیوگیس پلانٹس کو گرم پانی/حرارت فراہم کر کے ان کو سردیوں میں فعال رکھ سکتے ہیں اور اس طرح گھروں میں ایندھن کی ضرورت میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ثانیاً سولر پینل کی تنصیب براہ راست بجلی بھی فراہم کر سکتی ہے، جس سے گھر میں بجلی کی متعدد ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔
    اسی طرح ایسے علاقے جہاں ہوا کی رفتار تیز ہوتی ہے، ہوا سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، متعدد سرد درجہ حرارت والے علاقوں میں ہوا سے توانائی کامیابی سے حاصل کی جارہی ہے۔ ان علاقوں کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے وادی نیلم میں بھی ہوا سے بڑے پیمانے پر توانائی کا حصول ممکن ہے۔
    سولر یا بائیوگیس کے منصوبے ایندھن کی ضرورت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے، لیکن ایندھ کے استعمال میں نمایاں کم کا سبب ضرور بن سکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ سارے طریقے ساری وادی کیلئے یکساں مفید ہوں یا قدرتی جنگلات کے استعمال کو 100 فیصد کم کر سکیں، لیکن ان میں سے ہر طریقہ جنگلا ت پر انحصار کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔
    وسیع پیمانے پر پن بجلی بنانے کیلئے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ حکومت کی خصوصی دلچسپی کے بغیر بے حد مشکل ہے، جبکہ قابل تجدید جنگلات کا کام کوئی بھی فرد انفرادی طور پر شروع کر سکتا ہے اور اسے ذاتی کاروبار کے طور پر اپنا سکتا ہے۔ میرے نزدیک اگر کوئی شخص سائنسی بنیادوں پر قابل تجدید جنگلات کا کاروبار شروع کرے تو یہ وادی نیلم کا کامیاب ترین کاروبار تصور ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ آگے آئیں اور وادی نیلم کے جنگلات اور ماحولیات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں
    حکومتی سطح پر اس بات کی ضرورت ہے کہ محکمہ جنگلات کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کو فعال کیا جائے اور انہیں متبادل زرائع کی ٹیسٹنگ اور ڈیویلپمنٹ کا ٹاسک سونپا جائے۔ تاحال محکمہ جنگلات کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کا واحد کردار محکمہ جنگلات کی قائم کردہ نرسریوں کا ڈیٹا جمع کر نے تک محدود ہے، انہیں اس سے آگے بڑھ کر جنگلات کے تحفظ کیلئ حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ایک موثر اور مربوط حکمت عملی کے بغیر جنگلات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے طوفان کو روکنا ناممکن ہے

مصنف کے بارے میں

Atiq ur Rehman

شئر کریں

مزید خبریں پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *